دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا پاکستان میں پیٹرو ڈالر کی عالمی جنگ لڑی جا رہی ہے؟
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی تیل کی رسد کو درپیش خطرات نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ ہو تو اس کا اثر امریکہ سے یورپ اور ایشیا تک ہر ملک پر پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں اس اثر کی شدت کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو صرف گاڑی کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ پوری معیشت کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، زرعی پیداوار مہنگی ہوتی ہے، صنعت متاثر ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور بالآخر عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی عالمی بحران دنیا کے دوسرے ملکوں کو بھی متاثر کرتا ہے تو پاکستان اس کے سامنے اتنا بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف ایران امریکہ جنگ یا عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے سے نہیں ملتا۔ اصل مسئلہ پاکستان کی اپنی توانائی پالیسی، درآمدی انحصار، کمزور زرمبادلہ، روپے کی قدر، ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی، ریفائننگ کی کمزور حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان میں بھی پوشیدہ ہے۔ عالمی بحران ہمارے لیے مصیبت ضرور ہے، لیکن ہماری اپنی ناقص پالیسیاں اس مصیبت کو معاشی آفت میں تبدیل کردیتی ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم توانائی کی بنیادی ضرورت کے ایک بڑے حصے کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو، ڈالر مضبوط ہو یا سمندری راستوں میں جنگ کے باعث خطرات بڑھ جائیں، پاکستان کو اس کا اثر فوری طور پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ بحران نے یہ حقیقت مزید واضح کردی ہے کہ خلیج سے آنے والی رسد میں رکاوٹ پاکستان کے لیے معمولی تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معاشی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے پاکستان کی بڑی آئل ریفائنری کمپنیوں میں سے ایک نے خلیجی راستوں میں رکاوٹ کے بعد امریکی خام تیل کی درآمد بڑھائی ہے تاکہ رسد کے ذرائع متنوع کیے جاسکیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان ہمیشہ عالمی منڈی کا محض خریدار ہی رہے گا؟ کیا ہم اپنی مقامی تیل کی پیداوار، اپنی ریفائننگ صلاحیت اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات کے درمیان کوئی مربوط قومی منصوبہ نہیں بنا سکتے؟
پاکستان کے پاس اپنی ریفائنریاں موجود ہیں اور موجودہ مجموعی ریفائننگ صلاحیت تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار سے پانچ لاکھ بیرل یومیہ، یعنی تقریباً اکیس سے تئیس ملین ٹن سالانہ بتائی جاتی ہے۔ حکومت اور صنعت کے درمیان جاری منصوبوں کے تحت اس صلاحیت کو 2035ء تک تقریباً تینتیس ملین ٹن سالانہ تک لے جانے کا ہدف بھی سامنے آیا ہے۔
یہ اعداد اپنے اندر ایک بڑا سوال رکھتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس ریفائننگ کی موجودہ صلاحیت موجود ہے اور اسے مزید بڑھانے کی بھی گنجائش ہے تو ہم نے ماضی میں اس شعبے کو جدید بنانے، اس کی مکمل صلاحیت استعمال کرنے اور اپنی ضرورت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے پر مطلوبہ توجہ کیوں نہیں دی؟ مسئلہ صرف ریفائنریاں بنانے کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسی مصنوعات پیدا کریں جن کی ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ پاکستان کا موجودہ ریفائننگ نظام پٹرولیم مصنوعات کی ایسی تقسیم کا مسئلہ بھی رکھتا ہے جو ملکی طلب سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی، جس کے نتیجے میں بعض نسبتاً زیادہ قیمتی مصنوعات درآمد کرنا پڑتی ہیں جبکہ بعض کم قدر مصنوعات کی اضافی پیداوار ہوجاتی ہے۔
اس کے ساتھ مقامی خام تیل کی تلاش اور پیداوار کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ ریفائنری موجود ہو لیکن خام مال باہر سے خریدنا پڑے تو درآمدی انحصار ختم نہیں ہوتا۔ پاکستان کو تیل و گیس کی تلاش، نئی دریافتوں اور موجودہ تیل کے ذخائر سے بہتر پیداوار حاصل کرنے پر بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ توانائی کی خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان راتوں رات تیل کا بڑا برآمد کنندہ بن جائے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عالمی بحران کے سامنے ہماری معیشت کی گردن مکمل طور پر بیرونی رسد کے ہاتھ میں نہ ہو۔
یہاں ہماری ناقص ملکی پالیسیوں پر سوال اٹھانا ناگزیر ہے۔ کئی دہائیوں سے حکومتیں توانائی کے شعبے میں مستقل منصوبہ بندی کے بجائے وقتی بحرانوں کا علاج کرتی رہی ہیں۔ کبھی درآمدی بل کا مسئلہ، کبھی زرمبادلہ کا بحران، کبھی بجلی کا بحران، کبھی پٹرول کی قیمت، اور کبھی سبسڈی کا بوجھ۔ ہر حکومت اپنے دور کی آگ بجھاتی رہی، مگر کسی نے اس سوال کا مستقل جواب تلاش نہیں کیا کہ پاکستان کو توانائی کے معاملے میں بیرونی دنیا کا محتاج کیوں رہنا چاہیے۔
ہم نے اپنی زمین میں موجود تیل و گیس کی تلاش کو وہ ترجیح نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ اپنی ریفائنریوں کو جدید بنانے میں تاخیر کی۔ پٹرولیم ذخائر بڑھانے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا مؤثر نظام نہ بنا سکے۔ شہری منصوبہ بندی ایسی نہ کرسکے جس سے ایندھن کا غیر ضروری استعمال کم ہوتا۔ متبادل توانائی کو قومی توانائی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنانے میں بھی ہم نے برسوں ضائع کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو پاکستان کی پوری معیشت لرزنے لگتی ہے۔
پٹرول کی قیمت میں ایک اور اہم سوال پٹرولیم لیوی کا ہے۔ عالمی خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اگر حکومت ایک طرف عالمی قیمت کا بوجھ صارف پر منتقل کرے اور دوسری طرف پٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کے ذریعے فی لیٹر وصولی بھی بلند رکھے تو عام آدمی کو دوہرا جھٹکا لگتا ہے۔ حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی اہم آمدنی کا ذریعہ ہوسکتی ہے، لیکن یہ سوال بہرحال جائز ہے کہ بحران کے زمانے میں اس لیوی کی شرح کیا ہونی چاہیے اور کیا اسے غیر معمولی سطح پر برقرار رکھنا معاشی طور پر دانشمندانہ ہے؟ اگر حکومت عوام کو عالمی قیمت کا پورا بوجھ منتقل کرتی ہے اور اسی وقت فی لیٹر بھاری محصولات بھی وصول کرتی ہے تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ریاست اپنے حصے کا بوجھ کتنا برداشت کررہی ہے۔
یہاں پٹرول پمپس اور تیل کی ترسیل و فروخت کے نظام کا سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب پٹرول کی قیمت ہر چند ہفتوں بعد بڑھتی ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخری صارف تک پہنچنے والی قیمت میں کس کا کتنا حصہ ہے۔ ریفائنری کا منافع، تیل کی مارکیٹنگ کمپنی کا حصہ، پٹرول پمپ کے مالک کا کمیشن، نقل و حمل، مال برداری، بیمہ، ٹیکس اور لیوی—یہ سب قیمت کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی مرحلے پر معمول سے غیر معمولی منافع پیدا ہورہا ہو تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف اعداد عوام کے سامنے رکھے۔ پٹرول پمپ مالکان کے بارے میں ’’راتوں رات ارب پتی‘‘ بننے کا تاثر اسی شفافیت کے فقدان سے جنم لیتا ہے۔ سوال کسی ایک پٹرول پمپ کے مالک کو مورد الزام ٹھہرانے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا بحران کے دوران تیل کی تقسیم اور فروخت کے پورے نظام میں کسی فریق کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہورہا ہے، اور اگر ہورہا ہے تو اس کی نگرانی کون کررہا ہے؟
پاکستان میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر بحران کو بحران ختم ہونے تک سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں، بحران سے پہلے اس کی تیاری نہیں کرتے۔ دنیا کے کئی ممالک تیل کے ہنگامی ذخائر، مختلف رسدی ذرائع، طویل المدتی معاہدوں، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور مختلف ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں توانائی کے ذخائر اور ہنگامی تیاری ہماری ضرورت کے مقابلے میں محدود ہیں۔ معمول کے حالات میں بھی اگر ہمارے پاس چند ہفتوں سے زیادہ کا مؤثر حفاظتی ذخیرہ موجود نہ ہو تو جنگ یا سمندری راستے کی بندش کے دوران خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ صورتحال ہماری قومی پالیسی سازی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان اپنی پٹرولیم ضرورت کے بڑے حصے کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتا ہے، جب ہمیں معلوم ہے کہ خلیج میں کسی بھی کشیدگی سے تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جب ہمیں معلوم ہے کہ روپے کی قدر میں کمی درآمدی تیل کو مزید مہنگا کردیتی ہے، تو پھر ہم نے برسوں میں مناسب ہنگامی ذخائر کیوں نہیں بنائے؟ یہ محض قسمت کا مسئلہ نہیں، یہ پالیسی کا مسئلہ ہے۔
لیکن حل صرف حکومت سے پٹرول سستا کرنے کا مطالبہ بھی نہیں ہے۔ مصنوعی طور پر قیمت کم رکھنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ بجٹ پر بوجھ، قرض اور درآمدی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اصل حل یہ ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی پوری زنجیر کو نئے سرے سے دیکھے۔ مقامی تیل و گیس کی تلاش تیز کی جائے، موجودہ ریفائنریوں کو جدید بنایا جائے، ان کی حقیقی صلاحیت استعمال کی جائے، نئی ریفائننگ صلاحیت پیدا کی جائے، خام تیل کے درآمدی ذرائع متنوع کیے جائیں، ہنگامی ذخائر میں اضافہ کیا جائے اور پٹرولیم کی قیمت مقرر کرنے کے نظام کو مکمل شفاف بنایا جائے۔
پٹرولیم لیوی کے معاملے میں بھی ایک مستقل اصول ہونا چاہیے۔ جب عالمی قیمت معمول پر ہو تو حکومت اپنی مالی ضرورت پوری کرسکتی ہے، لیکن جب عالمی منڈی میں جنگ یا رسد کے شدید بحران کے باعث قیمت غیر معمولی سطح پر پہنچ جائے تو حکومت کو اپنے لیوی کے بوجھ کو مناسب حد تک کم کرنے کا طریقہ پہلے سے طے کرنا چاہیے۔ عوام سے ہر بحران کا پورا بوجھ وصول کرنا آسان ترین راستہ ہے، لیکن یہ اچھی معاشی حکمرانی نہیں۔
اسی طرح پٹرول پمپس، تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کے منافع اور کمیشن بھی عوام سے چھپے نہیں رہنے چاہئیں۔ ایسا شفاف قیمت مقرر کرنے کا طریقہ ہونا چاہیے جس میں ہر لیٹر پٹرول کے نرخ میں خام تیل، نقل و حمل، بیمہ، ریفائننگ، مارکیٹنگ، پٹرول پمپ کمیشن، ٹیکس اور لیوی کا حصہ واضح ہو۔ اگر کسی مرحلے پر غیر معمولی منافع پیدا ہو تو ریاست کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ قومی بحران کسی مخصوص کاروباری طبقے کے لیے غیر معمولی منافع کا موقع نہیں بننا چاہیے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں توانائی کو سیاسی حکومتوں کی مدت سے باہر نکال کر قومی پالیسی بنانا ہوگا۔ پاکستان کو اگلے پانچ سال نہیں بلکہ اگلے بیس سال کی توانائی سلامتی کی حکمت عملی درکار ہے۔ مقامی تیل و گیس کی تلاش، جدید ریفائننگ، نئی ریفائنریاں، متبادل توانائی، پبلک ٹرانسپورٹ، کم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں، برقی نقل و حرکت، ہنگامی تیل کے ذخائر اور مختلف ممالک سے درآمدی ذرائع سب ایک ہی منصوبے کا حصہ ہونے چاہئیں۔ ورنہ ہر چند سال بعد کوئی جنگ، کوئی پابندی، کوئی سمندری بحران یا عالمی کساد ہماری معیشت کو دوبارہ اسی مقام پر لا کھڑا کرے گا۔
دنیا میں تیل مہنگا ہونا ہمارے اختیار میں نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو پاکستان ختم نہیں کرسکتا۔ خلیج میں پیدا ہونے والے خطرات کو بھی اسلام آباد اپنی مرضی سے ختم نہیں کرسکتا۔ لیکن عالمی بحران کے سامنے پاکستان کتنا کمزور ہوگا، یہ ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم اپنی مقامی پیداوار بڑھائیں، ریفائنریوں کی صلاحیت پوری طرح استعمال کریں، مزید ریفائننگ صلاحیت پیدا کریں، درآمدی ذرائع متنوع کریں، ہنگامی ذخائر بڑھائیں، غیر معمولی پٹرولیم لیوی اور غیر شفاف منافع پر نظر رکھیں اور توانائی کو مستقل قومی پالیسی بنائیں تو عالمی بحران کا اثر ضرور ہوگا، مگر وہ پوری معیشت کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکے گا۔
اصل مسئلہ آج کے پٹرول کی قیمت نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی معیشت کو ایسی توانائی پر کیوں کھڑا کیا جس کی قیمت اور رسد کے بڑے فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں؟
اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر عالمی بحران عارضی ہے تو پاکستان کی توانائی کی کمزوری مستقل کیوں ہے؟
جب تک اس بنیادی سوال کا جواب نہیں ملتا، دنیا میں جنگ کہیں بھی ہو، تیل مہنگا کہیں بھی ہو، اس کا سب سے بھاری بل پاکستان کا عام شہری ہی ادا کرتا رہے گا۔
واپس کریں