دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب غریبوں کے چولہے بجھ رہے ہوں تو اسلام آباد پر چڑھائی کا کوئی اخلاقی جواز ہے؟
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ حکمرانی کا اصل امتحان جلسوں، نعروں، احتجاجی مارچوں اور سیاسی طاقت کے مظاہروں میں نہیں ہوتا۔ حکمرانی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ایک غریب سرکاری ملازم مہینے کی دسویں تاریخ کو اپنے گھر کا راشن خریدنے کے لیے جیب دیکھتا ہے، جب کسی بچے کی سکول فیس واجب الادا ہو جاتی ہے، جب بجلی کا بل دروازے پر پہنچتا ہے اور جب ایک بزرگ پنشنر اپنی دواؤں کے لیے اپنی ماہانہ پنشن کا منتظر بیٹھا ہوتا ہے۔
ڈیرہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ملازمین اور پنشنرز کی صورتِ حال اسی بنیادی سوال کو جنم دے رہی ہے۔ 10 ستمبر ہو چکا ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق ٹی ایم اے کے ملازمین کو ماہانہ تنخواہیں اور پنشنرز کو ان کی پنشن تاحال ادا نہیں کی جا سکی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹی ایم او عبدالرحمن خان مروت کے بطور ٹی ایم او چارج سنبھالنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
یہاں سوال کسی ایک افسر کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں، بلکہ اس پورے نظام سے ہے جس میں ملازم سے بروقت کام لینے کی توقع تو کی جاتی ہے لیکن اس کے حق کی ادائیگی بروقت یقینی نہیں بنائی جاتی۔ ایک ملازم کے لیے تنخواہ کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ اس کے خاندان کے روزمرہ اخراجات کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی طرح پنشن کسی بزرگ پر احسان نہیں بلکہ اس کی برسوں کی سرکاری خدمت کا قانونی اور جائز حق ہے۔
جب تنخواہ رکتی ہے تو صرف ایک فرد متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ایک پورا گھر متاثر ہوتا ہے۔ راشن کا بجٹ سکڑتا ہے، بچوں کی فیس رکتی ہے، بجلی کا بل مؤخر ہوتا ہے، دواؤں کی خریداری مشکل ہوتی ہے اور گھریلو ضرورتیں قرض کے سہارے پوری ہونے لگتی ہیں۔ بزرگ پنشنرز کے لیے صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے، کیونکہ عمر کے اس حصے میں آمدن کا متبادل ذریعہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ محض ایک مالی ادائیگی کا معاملہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا سوال ہے۔
ایک طرف خیبر پختونخوا میں سیاسی درجہ حرارت بڑھایا جا رہا ہے اور 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریوں پر سیاسی توجہ مرکوز ہے، دوسری طرف اسی صوبے کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اپنی تنخواہوں اور بزرگ پنشنرز اپنی پنشن کے منتظر ہیں۔ ایسے میں ایک عام شہری کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ حکومت کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کی سیاسی سرگرمی یا پشاور سے ڈیرہ تک اپنے ملازمین کے بنیادی حقوق کی بروقت ادائیگی؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے حق سے انکار نہیں کرتا۔ جمہوریت میں احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن حکومت میں موجود جماعت کے لیے احتجاج کی سیاست اور حکمرانی کی ذمہ داری دو مختلف چیزیں ہیں۔ اپوزیشن احتجاج کرے تو وہ سیاسی سرگرمی ہے؛ حکومت میں بیٹھے لوگوں کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام اداروں کو کس حد تک فعال، جواب دہ اور عوام دوست بنا رہے ہیں۔
اگر ایک صوبائی حکومت اسلام آباد میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کارکنوں کو متحرک کر سکتی ہے تو اسے اپنے صوبے کے اداروں کی مالی اور انتظامی مشکلات دور کرنے کے لیے بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر حکومت کے پاس سیاسی اہداف کے لیے وقت، توانائی اور انتظامی توجہ موجود ہے تو عام آدمی یہ پوچھنے میں بھی حق بجانب ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے یہی توجہ کیوں نظر نہیں آتی؟
یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: بلدیاتی اداروں کو آخر اس مقام تک پہنچنے کیوں دیا گیا جہاں ان کے ملازمین اپنی تنخواہوں کے لیے انتظار اور احتجاج پر مجبور ہوں؟ اگر ٹی ایم اے کے مالی مسائل ہیں تو ان کی وجوہات کیا ہیں؟ ادارے کی آمدن، اخراجات، واجبات اور حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا صوبائی حکومت نے اس بحران کا مستقل حل تلاش کیا ہے یا ہر ماہ تنخواہوں اور پنشن کے اجرا کے وقت ایک نئی مشکل سامنے آتی رہے گی؟
اچھی حکومت وہ نہیں جو صرف بڑے سیاسی اعلانات کرے۔ اچھی حکومت وہ ہے جو چھوٹے سے چھوٹے سرکاری دفتر کے ملازم کو بھی یہ احساس دے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ جس حکومت کے ایک ملازم کو اپنی تنخواہ کے لیے انتظار کرنا پڑے، وہاں مسئلہ صرف ایک بل کا نہیں رہتا؛ وہ حکمرانی کے پورے نظام پر سوال بن جاتا ہے۔
اور اگر یہی ملازمین اپنی تنخواہ نہ ملنے کے باوجود روزانہ دفتر پہنچ کر شہریوں کے کام نمٹانے کے پابند ہیں تو پھر ریاست کی اخلاقی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کام کی پابندی صرف ملازم کے لیے نہیں ہونی چاہیے؛ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔
27 ستمبر کا مارچ ہو گا یا نہیں، اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، کون کتنے کارکن اسلام آباد لے کر جائے گا اور اس سے کس سیاسی جماعت کو کتنا فائدہ ہوگا، یہ سب سیاسی بحث کے موضوعات ہیں۔ لیکن ڈیرہ کا ملازم اس وقت ان سوالات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسے اپنی تنخواہ چاہیے۔ ڈیرہ کا بزرگ پنشنر سیاسی نعرہ نہیں مانگ رہا، اسے اپنی پنشن چاہیے۔ ان کے گھروں کے چولہے سیاسی تقریروں سے نہیں جلتے۔
اسی لیے آج خیبر پختونخوا کی حکومت کے سامنے سب سے اہم سوال شاید یہ نہیں کہ اسلام آباد میں کتنے لوگ پہنچیں گے، بلکہ یہ ہے کہ صوبے کے کتنے ملازمین اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں، کتنے پنشنرز اپنی پنشن کے لیے پریشان ہیں اور کتنے خاندان حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا سیاسی ترجیح ہو سکتی ہے، مگر اپنے صوبے کے ملازمین کو بروقت تنخواہ دینا حکومتی ذمہ داری ہے۔ دونوں میں فرق سمجھنا ہی اچھی حکمرانی کی پہلی علامت ہے۔
حکومتیں اپنے سیاسی نعروں سے نہیں، اپنے ملازمین اور عام شہریوں کے ساتھ کیے گئے عملی انصاف سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر صوبے کے کسی کونے میں ایک غریب ملازم کی تنخواہ رکی ہوئی ہو اور ایک بزرگ پنشنر اپنی پنشن کا منتظر ہو تو اقتدار کے ایوانوں کو سب سے پہلے اسی سوال کا جواب دینا چاہیے:
آخر ترجیح کیا ہے—اسلام آباد پر چڑھائی یا اپنے صوبے کے چولہے جلانا؟
واپس کریں