اسلام آباد پر چڑھائی سے پہلے تیرہ برس کے اقتدار میں دولت اکٹھی کرنے کا حساب دو

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے تیرہ برس ہو چکے ہیں۔ 2013 میں پرویز خٹک کی حکومت بنی، 2018 میں محمود خان دوسری حکومت کے سربراہ بنے اور 2024 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان نے تیسری مسلسل صوبائی حکومت قائم کی۔ اس دوران پارٹی کے درجنوں رہنما وزیر، مشیر، سپیکر، پارلیمانی عہدیدار اور ارکانِ اسمبلی رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اقتدار کے اس طویل سفر میں ان نمایاں لوگوں کے اثاثے کہاں سے کہاں پہنچے؟
یہ تیرہ برس کا مکمل سال بہ سال مالیاتی حساب نہیں بلکہ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے دستیاب اثاثوں کے گوشواروں میں سامنے آنے والی نمایاں تبدیلیوں کا تقابلی جائزہ ہے۔ آزاد و منصفانہ انتخابات نیٹ ورک نے بھی انہی گوشواروں کو مرتب کرکے سال بہ سال محفوظ کیا ہے۔ یہ اعداد سیاست دانوں کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت ہیں۔
پرویز خٹک سے آغاز کیا جائے تو 2013 میں، جب وہ پی ٹی آئی کی پہلی صوبائی حکومت کے وزیرِاعلیٰ بنے، ان کے اور ان کی اہلیہ کے ظاہر کردہ اثاثے تقریباً 23 کروڑ 20 لاکھ روپے تھے۔ 2014 میں یہ رقم 27 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، یعنی ابتدائی ایک سال میں ظاہر کردہ اثاثوں میں کم از کم تقریباً 4 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ ان کے 2013 کے گوشوارے میں 19 غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت ہی 22 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زیادہ ظاہر کی گئی تھی۔
محمود خان کا عدد اس سے کہیں بڑا ہے۔ 2018 کے گوشواروں میں، جب وہ وزیرِاعلیٰ بنے، ان کے مجموعی اثاثے تقریباً 237 کروڑ روپے ظاہر ہوئے۔ اسی گوشوارے میں ان کی زرعی جائیداد کی مالیت تقریباً 233 کروڑ روپے تھی۔ 2019 میں ان کے اثاثے تقریباً اسی سطح پر رہے، جبکہ 2020 میں یہ 286 کروڑ روپے سے زیادہ ظاہر ہوئے۔ یوں 2018 سے 2020 کے درمیان ان کے ظاہر کردہ اثاثوں میں تقریباً 49 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 21 فیصد اضافہ سامنے آیا۔
فضل حکیم خان کے اعداد میں اس سے کہیں زیادہ تیز تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ 2018 میں ان کے اثاثے 52 کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار روپے ظاہر ہوئے۔ 2019 میں یہ رقم 59 کروڑ 40 لاکھ روپے ہوگئی، یعنی ایک سال میں تقریباً 6 کروڑ 54 لاکھ روپے کا اضافہ۔ ان کے گوشوارے میں 24 پلاٹ، دو تجارتی عمارتیں، رہائشی مکان، مشروبات کی فیکٹری اور تین ریستوران بھی ظاہر کیے گئے تھے۔
فضل حکیم کے بارے میں 2026 کی بعض میڈیا رپورٹس میں ان کے اعلان کردہ اثاثے 4.6 ارب روپے، یعنی 460 کروڑ روپے، رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اگر اس رپورٹ شدہ عدد کو 2018 کے 52 کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار روپے کے مقابل رکھا جائے تو فرق تقریباً 407 کروڑ روپے بنتا ہے، یعنی ظاہر کردہ اثاثوں میں تقریباً 770 فیصد اضافہ۔ 2020 کے 59 کروڑ 40 لاکھ روپے کے مقابلے میں فرق تقریباً 400 کروڑ 60 لاکھ روپے، یعنی تقریباً 674 فیصد بنتا ہے۔
اسد قیصر کے اثاثے 2014-15 کے گوشواروں میں تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زیادہ تھے۔ بعد کے گوشواروں میں ان کی ظاہر کردہ دولت 8 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی۔ یوں دستیاب دو ادوار کے درمیان اضافہ 4 کروڑ روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ ان کے گوشواروں میں صوابی کی جائیداد، بنی گالا کے پلاٹ، کاروباری حصص، نقدی اور زیورات بھی شامل تھے۔
عاطف خان کے معاملے میں اضافہ نسبتاً محدود رہا۔ 2019 میں ان کے ظاہر کردہ اثاثے تقریباً 1 کروڑ 91 لاکھ روپے تھے اور 2020 میں یہ 2 کروڑ روپے ہوگئے، یعنی ایک سال میں تقریباً 9 لاکھ روپے یا 4.7 فیصد اضافہ۔ شاہرام خان ترکئی کے اثاثے اسی عرصے میں تقریباً 52 لاکھ روپے سے کم ہو کر 40 لاکھ روپے ظاہر ہوئے، جبکہ شوکت یوسفزئی کے اثاثے 44 لاکھ روپے سے بڑھ کر 55 لاکھ روپے ہوگئے۔
مشتاق احمد غنی کے اثاثے 2020 میں 5 کروڑ روپے سے زیادہ ظاہر ہوئے۔ ان کے 2018 اور بعد کے گوشواروں میں بھی نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ اکبر ایوب خان کے اثاثے 2020 میں تقریباً 23 کروڑ روپے ظاہر ہوئے۔
پی ٹی آئی کے دوسرے اہم ارکان کے گوشوارے بھی کم اہم نہیں۔ 2020 کے ریکارڈ کے مطابق مصور خان کے اثاثے تقریباً 38 کروڑ 40 لاکھ روپے تھے۔ بعد کے گوشوارے میں 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کی کاروباری سرمایہ کاری بھی ظاہر ہوئی۔ ریاض خان کے اثاثے 35 کروڑ روپے تھے، جن میں تقریباً 30 کروڑ 70 لاکھ روپے کی جائیداد اور 4 کروڑ روپے کی ماربل کاروبار میں سرمایہ کاری شامل تھی۔ سید فخر جہاں کے اثاثے 77 کروڑ 60 لاکھ روپے ظاہر ہوئے، جن میں 76 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زیادہ کی جائیداد شامل تھی۔
2018 کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے مجموعی ریکارڈ سے بھی پی ٹی آئی کے دور میں سیاست اور دولت کے تعلق کی ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ آزاد و منصفانہ انتخابات نیٹ ورک کے مطابق صوبائی اسمبلی کے دو ارکان کے اثاثے ایک ارب روپے سے زیادہ تھے، جن میں محمود خان سب سے زیادہ اثاثے رکھنے والے رکن تھے اور ان کے اثاثے 2.5 ارب روپے سے زیادہ تھے۔ اسی اسمبلی میں 45 ارکان کے اثاثے ایک کروڑ 10 لاکھ سے پانچ کروڑ روپے کے درمیان، 25 ارکان کے ایک کروڑ روپے سے کم، جبکہ 11 ارکان کے اثاثے 10 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کے درمیان تھے۔
اعداد کو ایک جگہ رکھیں تو تصویر صاف ہے۔ پرویز خٹک کے ظاہر کردہ اثاثے 2013 کے تقریباً 23 کروڑ 20 لاکھ روپے سے 2014 میں 27 کروڑ سے تجاوز کر گئے۔ محمود خان کے اثاثے 2018 کے تقریباً 237 کروڑ سے 2020 میں 286 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئے، یعنی تقریباً 49 کروڑ روپے کا اضافہ۔ فضل حکیم کے اثاثے 2018 کے تقریباً 53 کروڑ سے 2019 میں 59 کروڑ 40 لاکھ روپے ہوئے، یعنی ایک سال میں 6 کروڑ 54 لاکھ روپے کا اضافہ، جبکہ 2026 کی رپورٹ شدہ 460 کروڑ روپے کی مالیت کو بنیاد بنایا جائے تو 2018 کے مقابلے میں اضافہ تقریباً 407 کروڑ روپے بنتا ہے۔ اسد قیصر کے دستیاب گوشواروں میں تقریباً 4 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ سامنے آتا ہے۔ عاطف خان کے اثاثے ایک سال میں تقریباً 9 لاکھ روپے بڑھے، شوکت یوسفزئی کے تقریباً 11 لاکھ روپے، جبکہ شاہرام خان ترکئی کے ظاہر کردہ اثاثوں میں کمی آئی۔
یہی اس تیرہ سالہ سیاسی سفر کا مالیاتی نقشہ ہے۔ کسی کے اثاثے چند لاکھ بڑھے، کسی کے چند کروڑ، کسی کے درجنوں کروڑ اور بعض کے اثاثے سیکڑوں کروڑ تک پہنچے۔ اعداد یہ نہیں بتاتے کہ یہ دولت کیسے بنی؛ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں مختلف ادوار میں کتنی دولت ظاہر کی گئی۔
اب جب اسلام آباد کی طرف ایک اور سیاسی چڑھائی کی بات ہو رہی ہے تو تیرہ برس کی صوبائی حکومت کے بعد ان رہنماؤں کے اپنے مالی گوشواروں کو بھی اسی سیاسی سفر کا حصہ سمجھ کر دیکھنا چاہیے۔ حکومت، سیاست اور بیانیے کی طرح دولت کا حساب بھی عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ باقی سوال اور اس کے جواب قاری خود تلاش کر سکتا ہے۔
واپس کریں