دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا عمران خان قانون سے بالاتر ہے؟ خالد خان
No image علیمہ خان نے 27 ستمبر کی تحریک کو عمران خان کی رہائی کی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک دن کی تحریک نہیں، عمران خان کے مقدمات سنے جائیں، انہیں رہا کیا جائے اور جب تک عمران خان رہا نہیں ہوتے تحریک ختم نہیں ہوگی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا عمران خان کو عدالت سے رہا کروانا مقصود ہے یا احتجاج کے ذریعے؟ اگر مطالبہ یہ ہے کہ عدالتیں مقدمات سنیں اور اگر عمران خان بے قصور ہیں تو انہیں رہا کریں، تو یہ ایک جائز اور آئینی مطالبہ ہے۔ لیکن اگر پہلے ہی یہ شرط رکھ دی جائے کہ عمران خان کو ہر حال میں رہا کرنا ہوگا اور جب تک ایسا نہیں ہوگا تحریک جاری رہے گی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس شرط کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
دنیا میں کسی بھی زیرِ سماعت یا سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے یہ اصول نہیں ہوتا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے، سیاسی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطلوبہ فیصلہ نہ آ جائے۔ عمران خان قصوروار ہیں تو عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا بھگتیں گے، بے قصور ہیں تو عدالت سے رہا ہوں گے۔ لیکن اگر فیصلہ آنے سے پہلے ہی یہ طے کر دیا جائے کہ انہیں ہرحال میں رہا ہونا چاہیے تو پھر یہ عدالت سے انصاف کا مطالبہ ہے یا عدالت کے فیصلے پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش؟
یہاں تحریک انصاف اور علیمہ خان سے ایک اور دوٹوک سوال بنتا ہے: کیا پارٹی سمجھتی ہے کہ عمران خان کو دی گئی سزائیں غلط ہیں؟ اگر ہاں تو کیوں؟ کیا عدالتوں نے انصاف نہیں کیا؟ کیا فیصلے قانون اور شواہد کے بجائے کسی دباؤ کے تحت ہوئے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان مخصوص فیصلوں کے خلاف قانونی بنیاد، شواہد اور عدالتی راستہ سامنے لایا جائے۔ محض یہ کہنا کہ عمران خان کو رہا کرو، انصاف کی پوری بحث کا متبادل نہیں بن سکتا۔
کیونکہ اگر سزا پر احتجاج اس بنیاد پر کیا جائے کہ ہمیں فیصلہ پسند نہیں، تو یہ دراصل عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت کے فیصلے سے اختلاف کا راستہ اپیل ہے، نظرثانی ہے، اعلیٰ عدالت سے رجوع ہے اور قانونی جدوجہد ہے۔ سڑک پر یہ شرط رکھ دینا کہ جب تک مطلوبہ شخص رہا نہیں ہوتا تحریک ختم نہیں ہوگی، انصاف کے ادارے اور سیاسی تحریک کے درمیان ایک خطرناک حد کو دھندلا دیتا ہے۔
لیکن اس بحث کا سب سے اہم پہلو عمران خان نہیں بلکہ عام پاکستانی ہے۔
پاکستان میں ہر گھر کا کوئی نہ کوئی عمران خان جیل میں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی کے پاس نہ سیاسی جماعت ہے، نہ لاکھوں کارکن، نہ حکومت، نہ میڈیا کی غیر معمولی توجہ اور نہ احتجاج کے لیے ریاستی سطح پر وسائل۔ کسی غریب کا بیٹا معمولی مقدمے میں گرفتار ہو جاتا ہے، ضمانت کے لیے گھر کی جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے، پیشیاں برسوں چلتی ہیں، گواہ عدالت نہیں آتے، تفتیش مکمل نہیں ہوتی، وکیل کی فیس بڑھتی رہتی ہے اور گھر میں کمانے والا شخص جیل میں پڑا رہتا ہے۔ اس کی بیوی بچوں کو پالنے کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو سکتی ہے، بچے تعلیم چھوڑ سکتے ہیں، بوڑھے والدین عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے تھک جاتے ہیں اور بعض خاندان ایک مقدمے کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف عدالتی تاخیر نہیں، ایک انسانی المیہ ہے۔
جس شخص کے پاس سفارش نہیں، پیسہ نہیں، سیاسی طاقت نہیں اور میڈیا تک رسائی نہیں، اس کے لیے مقدمے کا برسوں تک چلنا خود ایک سزا بن جاتا ہے، خواہ آخر میں عدالت اسے بری ہی کیوں نہ کر دے۔ ایک بے قصور شخص کو اگر پانچ سال بعد بری کیا جائے تو پانچ سال واپس نہیں آتے۔ اس کے بچوں کا بچپن واپس نہیں آتا، اس کا کاروبار واپس نہیں آتا، اس کی عزت اور ذہنی سکون واپس نہیں آتا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کے عدالتی بحران کو کسی ایک سیاسی رہنما کے مقدمات سے کہیں وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر عمران خان کے مقدمات میں تاخیر ناانصافی ہے تو عام آدمی کے مقدمے میں تاخیر بھی ناانصافی ہے۔ اگر عمران خان کو فوری انصاف ملنا چاہیے تو جیل میں موجود ہر قیدی کو فوری انصاف ملنا چاہیے۔ اگر عدالتوں پر دباؤ ناقابلِ قبول ہے تو یہ اصول ہر مقدمے میں یکساں ہونا چاہیے۔ اور اگر عدالتی اصلاحات واقعی تحریک انصاف کا سیاسی مقدمہ ہیں تو پھر مطالبہ عمران خان کی رہائی تک محدود کیوں رہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عمران خان خود وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ 2018 سے 2022 تک وفاقی حکومت ان کے پاس تھی۔ اس دوران اگر انہیں یقین تھا کہ پاکستان کا عدالتی نظام ناکارہ، سست اور عام آدمی کے لیے ناقابلِ رسائی ہے تو پھر جامع عدالتی اصلاحات کیوں نہ کی گئیں؟ ایسا نظام کیوں نہ بنایا گیا جس میں مقدمات کے فیصلوں کے لیے مؤثر مدت مقرر ہوتی، تفتیش بہتر ہوتی، استغاثہ مضبوط ہوتا، عدالتوں کا بوجھ کم ہوتا اور عام شہری کو برسوں انصاف کا انتظار نہ کرنا پڑتا؟
اگر یہ اصلاحات اس وقت کر دی جاتیں تو آج فائدہ صرف عمران خان کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوتا۔ شاید آج عمران خان کے اپنے مقدمات بھی ایک ایسے نظام کے سامنے ہوتے جو تیز، شفاف اور مؤثر ہوتا اور کسی سیاسی تحریک کو عدالت سے انصاف لینے کے لیے سڑک پر آنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
اور یہاں تحریک انصاف کے لیے اس سے بھی بڑا سوال خیبر پختونخوا میں کھڑا ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں 2013 سے طویل عرصے تک حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ کوئی چند ماہ یا ایک دو سال کا تجربہ نہیں بلکہ ایک پوری سیاسی نسل کو متاثر کرنے کے لیے کافی عرصہ ہے۔ اس دوران تحریک انصاف نے صوبے میں ایسا عدالتی اور قانونی نظام کیوں نہ بنایا جسے وہ آج پورے پاکستان کے سامنے اپنے ماڈل کے طور پر پیش کر سکتی؟
اگر وفاقی حکومت کے عدالتی نظام میں خامیاں ہیں تو خیبر پختونخوا میں تیرہ برس کے اقتدار کے بعد تحریک انصاف کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے صوبے میں ایسی قانونی اصلاحات کر دیتی کہ وفاقی حکومت کو شرمندگی محسوس ہوتی۔ صوبائی حکومت کہہ سکتی تھی کہ دیکھیں، ہم نے مقدمات کے فیصلے تیز کر دیے، تفتیش کا نظام بدل دیا، استغاثہ کو مؤثر بنا دیا، جیلوں کا نظام بہتر کر دیا، قیدیوں کو بروقت قانونی معاونت فراہم کر دی اور عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف دے دیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ تیرہ برس کے اقتدار کے بعد تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں ایسی کون سی جامع عدالتی اصلاحات بطور مثال پیش کر سکتی ہے؟
احتساب کے شعبے میں تو صورت حال اس قدر متضاد رہی کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے 2014 میں خیبر پختونخوا احتساب کمیشن قائم کیا، پھر چند ہی برس بعد اس قانون کو ختم کر دیا گیا اور کمیشن تحلیل ہوگیا۔ یہ تجربہ خود اس بات کی مثال ہے کہ محض نئے ادارے اور قوانین بنانا کافی نہیں؛ اصل امتحان مؤثر، مستقل اور قابلِ عمل نظام قائم کرنا ہے۔
اس لیے آج خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بھی ایک بنیادی سوال ہے: اگر عمران خان کی رہائی مقصد ہے تو لانگ مارچ کے بجائے عدالتی اصلاحات کی تحریک کیوں نہیں؟ اگر انہیں واقعی یقین ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف ناقص ہے تو وہ اپنے صوبے کو اصلاحات کی تجربہ گاہ بنائیں۔ صوبائی حکومت اپنی قانون سازی کرے، عدالتی نظام کے لیے قابلِ عمل اصلاحاتی پیکیج تیار کرے، تفتیش اور استغاثہ کو بہتر بنائے، قانونی معاونت کا نظام مضبوط کرے اور وفاق کے سامنے ایک ایسا ماڈل رکھے جسے دیکھ کر پورا ملک کہے کہ خیبر پختونخوا نے انصاف کے شعبے میں واقعی انقلاب برپا کر دیا ہے۔
اس سے بہتر سیاسی جواب کیا ہو سکتا ہے؟
سڑک پر لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنا سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، لیکن لاکھوں عام شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کرنا حکمرانی کا ثبوت ہے۔
عمران خان کی رہائی کا فیصلہ احتجاج نہیں، عدالت کرے گی۔ اگر وہ بے قصور ہیں تو قانون کے مطابق رہا ہونا چاہیے، اگر قصوروار ہیں تو سزا قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہی اصول عمران خان کے لیے بھی ہونا چاہیے اور اس ملک کے ہر عام شہری کے لیے بھی۔
اصل تحریک اگر چلانی ہے تو ایک شخص کی رہائی کی نہیں، انصاف کی تحریک چلائی جائے۔ جماعت کا نام بھی تو تحریک انصاف ہے، تحریک عمران خان نہیں ہے۔ جو پارٹی انصاف کے نام پر بنی، نہ وفاق میں اصلاحات کرکے اپنی ساکھ بنا سکی اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں اپنے نام کی لاج رکھ سکی۔ بجائے اس کے کہ عمران خان کی ماورائے عدالت رہائی کی تحریک چلائی جائے، ایک ایسی تحریک چلائی جائے جس میں ہر غریب قیدی کا مقدمہ جلد سنا جائے، ہر بے قصور شخص کو غیر ضروری قید سے بچایا جائے، ہر زیرِ التوا مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تفتیش کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا جائے، استغاثہ کو مضبوط کیا جائے اور عدالت تک رسائی کو دولت اور طاقت سے آزاد کیا جائے۔
کیونکہ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عمران خان جیل میں ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں ہر گھر کا کوئی نہ کوئی عمران خان انصاف کا انتظار کر رہا ہے۔
اور اگر تحریک انصاف واقعی انصاف کی جماعت ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے تیرہ سالہ صوبائی اقتدار میں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ صرف عمران خان کے لیے نہیں، ہر پاکستانی کے لیے انصاف چاہتی ہے۔
واپس کریں