اقوام متحدہ کے جاری کردہ عالمی نقشے میں کشمیر متنازعہ قرار

اقوام متحدہ نے اپنے جاری کردہ معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ جمعہ کے روز ’’نقشے درست کرو‘‘ پر مبنی قرارداد منظور کی تھی جس کی بھارت سمیت 164 رکن ممالک نے حمایت کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے معیاری Equal Earth نقشے کے حق میں بھارت نے بھی ووٹ دیا چنانچہ اقوام متحدہ کے اس معیاری عالمی نقشے نے بھارت کے اٹوٹ انگ والے بیانیہ کی قلعی کھول دی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر لائن آف کنٹرول کو نکتہ دار لکیر کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ اس طرح کشمیر کی متنازعہ حیثیت اقوام عالم میں ایک بار پھر اجاگر ہو گئی ہے جبکہ بھارت نے اس عالمی نقشے کے حق میں ووٹ دے کر کشمیر پر اٹوٹ انگ والا بیانیہ اپنے ہی ہاتھوں دفن کر دیا۔ اس بھارتی ووٹ نے کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے سے متعلق بھارتی دعوے کی جڑیں بھی ہلا دی ہیں۔ دفتر خارجہ پاکستان نے اس سلسلہ میں جاری کی گئی یہ بھارتی وضاحت بھی مسترد کر دی کہ بھارت نے نقشے میں دکھائی گئی سرحدوں کی نہیں، ان کے جغرافیائی تناسب کی حمایت کی تھی۔ اس سلسلہ میں ترجمان دفتر خارجہ نے باور کرایا پاکستان کے لئے اقوام متحدہ کا جاری کردہ عالمی معیاری نقشہ ہی قابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے ہی واضح ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جنرل اسمبلی میں صرف امریکہ نے اس عالمی نقشے کی مخالفت کی۔ اس نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو بھارت اور چین کے باہمی سرحدی دعوؤں سے ہٹ کر الگ خطوں کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ بھارت اروناچل پردیش کو بھارت کا حصہ اور اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اس طرح بھارت کو چین کے ساتھ اروناچل پردیش کے تنازعہ میں بھی مات کھانا پڑی ہے۔
یہ امر واقع ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی حالیہ سیاسی تنازعہ کا پیدا کردہ نہیں بلکہ تقسیم ہند کے وقت سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ تنازعہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1948ء اور 1949ء کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور استصواب رائے کے اصول کو تسلیم کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے باوجود یہ قراردادیں قصہِ پارینہ نہیں ہوئیں بلکہ متنازعہ عالمی خطوں والے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں ہمہ وقت موجود رہی ہیں اور آج بھی مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی تناظر میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔
اس کے برعکس بھارت نے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حق دینے کے بجائے مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بالخصوص 5 اگست 2019ء کو بھارت کی مودی سرکار نے اپنے زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنے وفاقی انتظامی ڈھانچے میں ضم کرنے کے اقدامات اٹھائے جنہیں دنیا بھر میں قبول نہیں کیا گیا اور کشمیری عوام ہر عالمی فورم کا دراوزہ کھٹکھٹاتے ہوئے بھارتی ظلم وجبر کے خلاف اور اپنی آزادی کے لئے آج بھی آواز اٹھا رہے ہیں جن کا پاکستان اپنے دیرینہ اصولی مؤقف کے تحت دامے، درمے، سخنے اور ہر سفارتی سطح پر ساتھ دے رہا ہے۔ بھارت نے اس اقدام کو اپنے داخلی معاملے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، مگر محض کسی یکطرفہ آئینی یا انتظامی اقدام سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلے کی ہیئت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ کشمیری عوام آج بھی استصواب رائے کے حق کے لئے ہر عالمی اور علاقائی فورم پر آواز اٹھا رہے ہیں۔
بے شک پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجوہ میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے کشمیر کو محض دو ملکوں کے مابین زمین کا تنازعہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے مستقبل اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری کی توجہ بھی اس امر کی جانب مبذول کراتا رہتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب یو این قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔
اس تناظر میں بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر پر اس کا اٹوٹ انگ والا مؤقف درست ہے تو پھر اسے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے تو عالمی برادری بھی اس دیرینہ تنازعہ کے ایک منصفانہ حل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
اس حوالے سے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف بھارت اپنے ناجائز زیر تسلط کشمیر میں سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف عالمی فورمز پر کشمیر کے متنازعہ ہونے کی حقیقت سے نظریں چراتا ہے۔ دنیا کے لئے اس کا یہ تضاد ناقابل فہم ہے جبکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کا یہی تقاضا ہے کہ کسی ریاست کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے کسی متنازعہ خطے کی حتمی حیثیت تبدیل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
اندریں حالات بھارت جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ مذاکرات اور کشمیری عوام کی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا کا امن مستقل خطرات کی زد میں رہے گا۔ پاک بھارت تعلقات میں معمول کی بحالی، تجارت، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کی ہر کوشش بالآخر کشمیر کے بنیادی مسئلے سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے نظرانداز کرکے محض وقتی یا جزوی مفاہمت دیرپا نتائج برامد نہیں کرسکتی چنانچہ عالمی قیادتوں بالخصوص اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہی قراردادوں پر مؤثر عملدرآمد کے لئے بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھائے اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے کے لئے قابل عمل راستہ اختیار کرے۔ اقوام متحدہ اگر اپنے منظور شدہ نقشے اور اپنی قراردادوں کے مؤقف پر قائم ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی عملی طور پر فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ محض قراردادیں منظور کرکے انہیں طاقِ نسیاں میں رکھ دینا عالمی ادارے کی ذمہ داریوں سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔
کشمیر کسی نقشے پر کھینچی گئی محض ایک لکیر کا نام نہیں، یہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل، امن اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ بھارت کو ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی فرسودہ ہٹ دھرمی ترک کرکے زمینی حقائق اور عالمی ذمہ داریوں کا بہر صورت ادراک کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے تو نہ صرف ایک دیرینہ عالمی تنازعہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکتا ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے مابین مستقل امن اور پورے خطے میں استحکام کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔
واپس کریں