مزید صوبے یا حقیقی نظامِ انصاف اورسرمایہ کاری کا ماحول؟

ملک عزیز پاکستان میں وقتاً فوقتاً نئے صوبے بنانے کی بحث زور پکڑتی رہی ہے۔ اس وقت بھی سرکاری حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کو تقسیم کرنے سے انتظامی امور بہتر ہوں گےاور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ بلاشبہ انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اہم ضرورت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے بجائے کسی فرد واحد کی خواہش کے مطابق صرف نئے صوبے بنا دینے سے اس ملک اور عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ یا اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی اور مؤثر نظامِ انصاف قائم کیا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے ایسا ساز گار ماحول پیدا کیا جائے جہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگائیں جس کے نتیجے میں غیر ملکی قرضوں کے سمندر میں ڈوبے اس ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو جہاں نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار صرف اس کے انتظامی نقشے پر نہیں ہوتا۔ ترقی کے لیے مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی، فوری اور غیر جانب دار انصاف، سیاسی و معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے تحفظ کی ضمانت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ایک ملک میں کاروباری شخص کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کے حقوق محفوظ رہیں گے، معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا اور کسی تنازع کی صورت میں اسے بروقت انصاف ملے گا، تو محض نئے صوبے یا نئے انتظامی ڈھانچے اس ملک میں معاشی سرگرمی پیدا نہیں کر سکتے۔
نئے صوبے، ضرورت یا ترجیح؟ اس ضمن میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نئے صوبے بنانے کی ضرورت کبھی نہیں ہو سکتی۔ بعض علاقوں کی جغرافیائی، انتظامی اور آبادیاتی ضروریات واقعی نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کا تقاضا کر سکتی ہیں لیکن یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عوامی ضرورت، انتظامی کارکردگی، معاشی استطاعت اور قومی اتفاقِ رائے یعنی قومی اور صوبائی اسمبلییوں کے فیصلوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر موجودہ نظام میں قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی، تعلیم، صحت، روزگار اور سرمایہ کاری کے مسائل موجود رہیں تو صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ان مسائل کا بنیادی حل نہیں نکلے گا۔ ایک کمزور نظام کو زیادہ حصوں میں تقسیم کرنے سے ضروری نہیں کہ وہ مضبوط ہو جائے۔
اس کے برعکس اگر موجودہ اداروں کو مؤثراور جواب دہ بنا دیا جائے، اختیارات مقامی حکومتوں تک منتقل کیے جائیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تو بہت سے انتظامی مسائل نئے صوبے بنائے بغیر بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
ملک عزیز پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے ریاستی نظام کی ہے جس میں قانون طاقتور لیکن شخصیات نہیں، ادارے مضبوط ہوں اور سیاسی مداخلت کم ہو، کاروباری طبقہ غیر یقینی کے بجائے اعتماد محسوس کرے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں اور عام شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں اسے بروقت انصاف مل سکتا ہے۔
اگر ملک عزیز میں حقیقی نظامِ انصاف قائم ہو، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو، تعلیم اور ہنرمندی پر توجہ دی جائے، توانائی اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل کیے جائیں تو معاشی ترقی خود نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اس کے بعد انتظامی ضرورت کے مطابق صوبوں یا نئے یونٹس کی تشکیل بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی ترقی کا اصل سوال یہ نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہییں، بلکہ یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو کتنا انصاف، کتنا تحفظ، کتنی معاشی آزادی اور کتنے مواقع فراہم کرتی ہے۔
نئے صوبے انتظامی ضرورت کے تحت بنائے جا سکتے ہیں، لیکن انہیں قومی ترقی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر انصاف مہنگا اور سست رہے، قانون کی عمل داری کمزور ہو اور سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہو تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کو ختم نہیں کر سکیں گے وگرنہ توہمسایہ ملک افغانستان میں چونتیس صوبے ہیں اور وہاں کے حالات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں۔
قومی ترجیحات میں سب سے پہلے قانون کی حکمرانی، فوری اور غیر جانب دار انصاف، مضبوط ادارے، شفاف حکمرانی اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ماحول کو جگہ ملنی چاہیے۔ جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں گی تو نہ صرف موجودہ صوبے زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں گے بلکہ اگر کہیں نئے صوبے بنانا ناگزیر ہو تو وہ بھی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور ترقی کا ذریعہ بن سکیں گے۔
مختصراً ملک عزیز کو نقشے کی تقسیم سے پہلے موجودہ نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ مضبوط نظام ہی مضبوط صوبے، مضبوط معیشت اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔
واپس کریں