قانون کا بھاشن دینے والی پی ٹی آئی خود قانون کا کتنا احترام کرتی ہے؟

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر تین سیاسی رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور عبداللطیف مالی سال 2024-25 کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے کی وجہ سے نااہل قرار پائے ہیں۔ زرتاج گل تحریک انصاف کی اہم رہنما ہیں اور عمران خان کی حکومت میں وزیر مملکت رہ چکی ہیں، صاحبزادہ حامد رضا تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سیاسی حلقے سے قومی اسمبلی تک پہنچے، جبکہ عبداللطیف بھی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کی حیثیت سے انتخابی سیاست میں کامیاب ہوئے۔ یوں الیکشن کمیشن کی تازہ کارروائی کا تعلق براہ راست تحریک انصاف سے وابستہ تین سیاسی شخصیات سے ہے۔
یہاں اصل بات ان تین افراد کی نااہلی سے زیادہ وہ سوال ہے جو اس فیصلے کے بعد خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اپنی سیاست میں آئین، انصاف اور قانون کی بالادستی کا ذکر سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے قانون کے مطابق کام کریں، عدالتیں آزادانہ فیصلے کریں اور سیاسی معاملات آئین کے دائرے میں رہ کر طے ہوں۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی اسی زبان میں کیا جاتا ہے اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو بھی اسی سیاسی جدوجہد کا اگلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن جب اسی جماعت سے وابستہ تین سیاسی رہنما ایک ایسے قانونی تقاضے کو پورا نہیں کرتے جو ہر رکن پارلیمان کے لیے لازم ہے اور الیکشن کمیشن انہیں اسی بنیاد پر نااہل قرار دیتا ہے تو یہ سوال پوچھنا بالکل فطری ہے کہ قانون کی پابندی کا معیار کیا صرف دوسروں کے لیے ہے یا اپنے لوگوں کے لیے بھی وہی معیار ہوگا؟
اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانا کوئی پیچیدہ قانونی معاملہ نہیں۔ یہ ایک مروجہ قانونی تقاضا ہے جسے منتخب نمائندوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی رکن یہ تقاضا پورا نہیں کرتا تو متعلقہ ادارہ قانون کے تحت کارروائی کرتا ہے۔ اس واقعے سے جو سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر اس وقت جب ایک سیاسی جماعت مسلسل عوام کو یہ باور کرا رہی ہو کہ ملک میں اصل مسئلہ قانون کی بالادستی کا ہے۔
قانون کی بات صرف اس وقت معتبر نہیں ہوتی جب قانون ہمارے حق میں ہو۔ قانون اس وقت بھی قانون رہتا ہے جب اس کا اطلاق ہمارے اپنے سیاسی ساتھی پر ہو۔ اگر کوئی حکومتی رکن اسی طرح اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرائے اور الیکشن کمیشن اس کے خلاف کارروائی کرے تو تحریک انصاف یقیناً اس فیصلے کو درست قرار دے گی اور اسے قانون پر عمل درآمد کی مثال بنائے گی۔ پھر یہی اصول اپنے لوگوں کے معاملے میں بھی قبول کرنا ہوگا۔ یہی وہ سادہ سا معیار ہے جس سے کسی بھی سیاسی جماعت کے قانون پسندی کے دعوے کو پرکھا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو سامنے رکھا جائے۔ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف جانے کی تیاری کر رہی ہے اور اس سیاسی جدوجہد کو آئین اور قانون کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ عمران خان کے مقدمات کے بارے میں پارٹی کا مؤقف ہے کہ انہیں عدالتوں میں سنا جائے اور ان کے بارے میں قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اس مطالبے پر کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے یا اتفاق، لیکن اگر بات قانون کے مطابق فیصلے کی ہے تو پھر قانون کے مطابق آنے والے فیصلے کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔ کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اپیل اور دوسرے قانونی راستے موجود ہیں، مگر سیاسی طاقت کے ذریعے عدالت یا ریاستی اداروں پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کرنا قانون کی بالادستی کے تصور سے میل نہیں کھاتا۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کے لیے بھی ایک امتحان بن سکتا ہے۔ اگر پارٹی واقعی یہ سمجھتی ہے کہ ملک میں قانون سب سے بالاتر ہونا چاہیے تو اسے یہ اصول اپنے سیاسی مطالبات، اپنے رہنماؤں اور اپنے کارکنوں کے لیے بھی اسی طرح قبول کرنا ہوگا جس طرح وہ حکومت اور اپنے سیاسی مخالفین سے اس کا مطالبہ کرتی ہے۔ عمران خان کے مقدمات بھی قانون کے مطابق چلیں اور تحریک انصاف کے رہنما بھی قانون کے ہر تقاضے کو پورا کریں؛ عدالتیں بھی آزاد ہوں اور ان کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے بھی قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور عبداللطیف نے گوشوارے کیوں جمع نہیں کرائے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون کی بات کرنے والی ہماری سیاسی جماعتیں اپنے عمل سے قانون کے احترام کا کتنا ثبوت دیتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ اسی لیے ایک معمولی خبر سے بڑھ کر سیاسی سوال بن گیا ہے۔ جو لوگ قوم کو قانون کا درس دیتے ہیں، ان سے کم از کم اتنی توقع تو کی جا سکتی ہے کہ وہ قانون کی پابندی کا آغاز اپنے آپ سے کریں۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف جانے سے پہلے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنے والے خود قانون کی بالادستی کو کس حد تک اپنے لیے بھی تسلیم کرتے ہیں؟
واپس کریں