دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلام آباد سے پہلے خیبر پختونخوا ۔ خالد خان
No image جمہوریت میں حکومت کو احتجاج کا حق ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے لیے عوام کو متحرک کرنے کا حق ہے اور شہریوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومت سے سوال کریں۔ اس لیے خیبر پختونخوا حکومت کے لانگ مارچ کے فیصلے کو محض سیاسی مخالفت کی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔ حکومت اسلام آباد جائے، اپنے سیاسی مطالبات پیش کرے اور وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالے، یہ اس کا جمہوری حق ہے، لیکن سوال صرف اتنا ہے کہ اسلام آباد جانے سے پہلے کیا اسے ایک مرتبہ خیبر پختونخوا کی طرف بھی دیکھ لینا چاہیے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ حکومت کے پاس سیاسی سرگرمی کے لیے وقت، وسائل اور توانائی موجود ہے تو یہی حکومت اس توانائی کا ایک بڑا حصہ صوبے کے ان مسائل پر کیوں نہیں لگاتی جو برسوں سے عوام کی زندگی کو متاثر کررہے ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے تازہ ترین 2024-25 اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں دس سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرح خواندگی صرف 58 فیصد ہے، یعنی ہر سو افراد میں 42 افراد اب بھی خواندہ نہیں۔ خواتین میں یہ شرح 43 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں 76 فیصد۔ نوجوانوں کی شرح خواندگی 75 فیصد ہے، لیکن نوجوان خواتین میں یہ شرح صرف 63 فیصد ہے۔
یہ محض اعداد نہیں، یہ خیبر پختونخوا کے مستقبل کی تصویر ہے۔ ایک طرف ہم اسلام آباد میں آئینی حقوق اور جمہوری اختیار کی بات کررہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے اپنے صوبے میں تقریباً نصف خواتین بنیادی خواندگی سے محروم ہیں۔ حکومت اگر جمہوریت کو عوام کا حق سمجھتی ہے تو اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم بھی عوام کا حق ہے اور ایک بچی کا سکول جانا کسی سیاسی جلسے میں شرکت سے کم اہم مسئلہ نہیں۔
مسئلہ صرف شرح خواندگی کا نہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 3,796 سرکاری سکول اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں حکومت سیاسی طور پر پورے ملک کو متحرک کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کررہی ہو، ہزاروں سرکاری سکولوں کا بجلی سے محروم ہونا محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ ترجیحات کا سوال ہے۔ اگر ایک بچے کو سکول میں بجلی، مناسب ماحول اور بنیادی سہولت میسر نہیں تو وہ مستقبل میں کس پاکستان کی تعمیر کرے گا؟
پھر صوبے کا مالی معاملہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے اپنے 2026-27 کے بجٹ دستاویز میں اضلاع کے لیے پنشن کا تخمینہ 2025-26 کے 190 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 228 ارب روپے کیا گیا ہے، یعنی صرف ایک سال میں تقریباً 38 ارب روپے کا اضافہ۔ اسی دستاویز کے مطابق 2025-26 میں پنشن کی بجٹ رقم 190 ارب روپے تھی، جبکہ حقیقی اخراجات کا تخمینہ 125 ارب روپے دیا گیا تھا۔ یہ اعداد ہمیں کسی حکومت پر الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ صوبائی مالیات پر پنشن اور جاری اخراجات کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کو ہر سیاسی اور مالی ترجیح کے بارے میں عوام کو جواب دینا ہوگا کہ محدود وسائل کہاں خرچ کیے جارہے ہیں اور کیوں؟
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں انسانی ترقی اور حکمرانی کے بنیادی مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ جب سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صوبے کی مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہے، خواتین کی شرح خواندگی 43 فیصد ہے اور ہزاروں سرکاری سکول بنیادی سہولت سے محروم ہیں تو ایک سنجیدہ حکومت کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہونا چاہیے کہ اگلے پانچ سال میں ان اعداد کو کہاں تک لے جانا ہے، بجائے اس کے کہ اگلے سیاسی مارچ میں کتنے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے۔
لانگ مارچ کی کامیابی کا پیمانہ لوگوں کی تعداد ہوسکتی ہے، لیکن حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کچھ اور ہونا چاہیے۔ حکومت کی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے کارکن سڑک پر نکلے؛ کامیابی یہ ہے کہ کتنے بچے سکول پہنچے، کتنے سکولوں میں بنیادی سہولتیں آئیں، کتنے مریضوں کو بہتر علاج ملا، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا، کتنے پولیس اہلکار محفوظ رہے اور کتنے شہریوں کو قانون کے سامنے برابر انصاف ملا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعت حکومت میں آنے کے بعد بھی سیاسی جماعت رہتی ہے، لیکن حکومت بننے کے بعد اس کی پہلی ذمہ داری سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑھ کر عوام کا مفاد بن جاتی ہے۔ اپوزیشن میں احتجاج سیاست ہے، حکومت میں کارکردگی ذمہ داری ہے۔ اپوزیشن میں حکومت کو دباؤ میں لانا سیاسی حکمت عملی ہے، حکومت میں اپنے صوبے کے اداروں کو مضبوط کرنا انتظامی فرض ہے۔
اس لیے اگر خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے صوبے کے اندر بھی شہریوں کے آئینی حقوق کی اسی شدت سے حفاظت کرنا ہوگی۔ اگر وہ قانون کی حکمرانی کی بات کرتی ہے تو صوبے میں قانون کی یکساں عمل داری بھی دکھانا ہوگی۔ اگر وہ جمہوریت کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہے تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سرکاری مشینری سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو، سرکاری ملازم سیاسی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور عوامی وسائل سیاسی جماعتی مقاصد کے بجائے عوامی فلاح پر خرچ ہوں۔
یہ اصول صرف خیبر پختونخوا حکومت پر لاگو نہیں ہوتا۔ وفاقی حکومت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر وفاق صوبائی حکومت کے سیاسی مطالبات کو محض انتشار قرار دے کر نظرانداز کرے گا تو یہ بھی جمہوری رویہ نہیں ہوگا۔ وفاق کو بھی آئینی مکالمے، پارلیمانی بحث اور سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح صوبائی حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وفاق کے ساتھ سیاسی لڑائی اس کی اپنی انتظامی ذمہ داریوں کو معطل نہیں کرتی۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ آج خیبر پختونخوا کو سیاسی نعروں سے زیادہ اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں دہشت گردی کا مسئلہ موجود ہو، جہاں انسانی ترقی کے اعداد و شمار تشویش ناک ہوں، جہاں خواتین کی شرح خواندگی 43 فیصد ہو، جہاں ہزاروں سرکاری سکول بجلی سے محروم ہوں اور جہاں پنشن کا بوجھ ایک ہی سال میں 190 ارب سے بڑھ کر 228 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہو، وہاں حکومت کے لیے ہر اضافی سیاسی محاذ کھولنے سے پہلے اپنے انتظامی محاذ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ہمیں لانگ مارچ سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ تب ہوگا جب لانگ مارچ حکومت کی اصل ذمہ داریوں پر حاوی ہوجائے۔ عوام نے حکومت کو صرف احتجاج کے لیے منتخب نہیں کیا۔ انہوں نے اسے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کے تحفظ، اپنے مریضوں کے علاج، اپنے نوجوانوں کے روزگار اور اپنے ٹیکس کے درست استعمال کے لیے بھی منتخب کیا ہے۔
اسلام آباد کی سیاست چند دن یا چند ہفتوں کا معاملہ ہوسکتی ہے، لیکن ایک بچہ جو آج سکول سے باہر ہے، اس کا مستقبل برسوں کا سوال ہے۔ ایک ایسا سکول جس میں آج بجلی نہیں، وہاں پڑھنے والا بچہ کل کے پاکستان میں کیا کردار ادا کرے گا، یہ سوال کسی سیاسی نعرے سے بڑا ہے۔ ایک مریض جسے بروقت علاج نہیں ملتا، اس کے لیے وفاق اور صوبے کی سیاسی کشمکش کی کوئی معنویت نہیں۔ ایک پولیس اہلکار جو دہشت گردی کے خلاف اپنی جان دے دیتا ہے، اس کے خاندان کے لیے سیاسی جلسے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ریاست اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ بناتی ہے یا نہیں۔
اسی لیے ہمیں حکومت کی مخالفت یا حمایت سے آگے بڑھ کر ایک اصول کی بات کرنی چاہیے۔ حکومت کو اپنے سیاسی حقوق کے لیے ضرور لڑنا چاہیے، لیکن عوام کے حقوق کے لیے اس سے کہیں زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ حکومت کو اسلام آباد ضرور جانا چاہیے، مگر پشاور کو چھوڑ کر نہیں۔ اسے وفاق سے سوال ضرور کرنا چاہیے، مگر اپنے صوبے کے عوام کے سوالوں کا جواب بھی دینا چاہیے۔
جمہوریت صرف یہ نہیں کہ حکومت اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی قوت استعمال کرے یا اپنے مطالبات کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر لے آئے۔ جمہوریت یہ بھی ہے کہ ایک بچی کو سکول ملے، ایک مریض کو علاج ملے، ایک نوجوان کو موقع ملے، ایک پولیس اہلکار کے خاندان کو تحفظ ملے، ایک شہری کو قانون کے سامنے برابر سمجھا جائے اور سرکاری خزانہ ذاتی یا جماعتی مفاد کے بجائے عوام کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہو۔
ہمیں کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، خراب حکمرانی کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
ہمیں کسی حکومت کو جمہوری حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے، لیکن کسی حکومت کو اس کی آئینی ذمہ داری سے بھی آزاد نہیں کرنا چاہیے۔
اور اگر واقعی ہماری سیاست کا مقصد جمہوریت، قانون اور انسانی فلاح و بہبود ہے تو پھر آج خیبر پختونخوا حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام آباد میں کتنے لوگ جمع ہوں گے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہونا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی زندگی کتنی بدلے گی۔
اسلام آباد بعد میں بھی جایا جاسکتا ہے، مگر خیبر پختونخوا کے بچوں کا مستقبل انتظار نہیں کرتا۔
واپس کریں