دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز۔ چارسدہ سمیت خیبرپختونخوا میں زمین، معیشت اور امن و امان کا نیا بحران
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ چارسدہ میں بتیس غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی فہرست جاری ہونا محض ایک انتظامی کارروائی کی خبر نہیں بلکہ اس بحران کی ایک جھلک ہے جو خاموشی سے خیبرپختونخوا کے شہروں اور دیہی علاقوں کا نقشہ تبدیل کر رہا ہے۔ زرعی زمین رہائشی پلاٹوں میں بدل رہی ہے، نئی آبادیاں سرکاری منصوبہ بندی سے باہر جنم لے رہی ہیں، شہری سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، عام شہری اپنی جمع پونجی کے تحفظ کے لیے غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے اور ریاست اس وقت حرکت میں آتی ہے جب زمین کا ایک بڑا حصہ فروخت ہوچکا ہوتا ہے اور لوگ وہاں آباد ہونا شروع ہوچکے ہوتے ہیں۔ چارسدہ کی بتیس سوسائٹیاں اس سوال کو پوری شدت سے سامنے لاتی ہیں کہ کیا ہمارے شہر منصوبہ بندی کے تحت پھیل رہے ہیں یا زمین کے کاروبار کے رحم و کرم پر؟
5 ستمبر 2026 کو چارسدہ تحصیل میونسپل انتظامیہ نے دس ہاؤسنگ سکیموں، کالونیوں، ٹاؤن شپ اور پلاٹنگ سائٹس کو سیل کیا جبکہ مجموعی طور پر بتیس ہاؤسنگ سکیموں کو مطلوبہ قانونی منظوری نہ ہونے پر نوٹس جاری کیے گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق کارروائی کے دوران متعلقہ ریکارڈ اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والی سکیموں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انتظامیہ نے شہریوں کو بھی غیر منظور شدہ سکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز اور خریداری سے پہلے قانونی منظوری اور دستاویزات کی تصدیق کا مشورہ دیا۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بتیس سکیمیں غیر قانونی کیوں نکلیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سکیمیں بنیں کیسے، ان میں پلاٹ فروخت کیسے ہوئے، ان کی تشہیر کیسے ہوئی، زمین پر ترقیاتی کام کیسے شروع ہوئے اور متعلقہ ادارے اس وقت کہاں تھے؟ ریاست اگر کسی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم کو اس وقت پکڑتی ہے جب سینکڑوں شہری وہاں پلاٹ خرید چکے ہوں تو کارروائی ضروری ضرور ہے لیکن کافی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہوتی کہ پہلی غیر قانونی پلاٹنگ ہی روک دی جاتی اور پہلے خریدار سے رقم وصول ہونے سے پہلے قانون حرکت میں آجاتا۔
غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیم کا سب سے بڑا شکار عام شہری ہوتا ہے۔ میں خود اس تلخ تجربے سے گزر چکا ہوں۔ 2004 میں مری کی ایک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی میں دس مرلے کے پلاٹ کی مد میں میری تیس لاکھ روپے کی رقم ضائع ہوئی۔ یہ تجربہ کسی ایک سوسائٹی کے خلاف الزام نہیں بلکہ اس مسئلے کی اصل انسانی قیمت سمجھنے کے لیے ایک مثال ہے۔ ایک عام آدمی کسی اشتہار، نقشے، خوبصورت مستقبل کے وعدوں اور قسطوں کے منصوبے سے متاثر ہوکر اپنی عمر بھر کی بچت زمین میں لگا دیتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ جس منصوبے کو وہ اپنا گھر سمجھ رہا تھا، اس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک یا غیر منظور شدہ تھی۔ پھر شروع ہوتا ہے مقدمات، دفاتر، کاغذات اور انتظار کا ایسا سلسلہ جس میں اکثر خریدار کی جمع پونجی اور وقت دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔
لیکن غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نقصان صرف ایک خریدار تک محدود نہیں رہتا۔ یہ دراصل ریاست کے متوازی ایک ایسا شہر پیدا کرتی ہے جس کی آبادی تو موجود ہوتی ہے لیکن جس کے لیے ریاست نے بروقت منصوبہ بندی نہیں کی ہوتی۔ سڑکیں محدود رہتی ہیں، پانی کا نظام محدود رہتا ہے، نکاسی آب کا ڈھانچہ محدود رہتا ہے، سکول اور ہسپتال پہلے سے موجود آبادی کے لیے بنے ہوتے ہیں اور پولیس کو بھی نئی آبادی کی ضروریات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہاں آبادی قائم ہوچکی ہوتی ہے۔
چارسدہ کی آبادی اس مسئلے کی وسعت سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023 مردم شماری کے مطابق ضلع چارسدہ کی آبادی 18 لاکھ 35 ہزار 136 تھی، جبکہ تحصیل چارسدہ کی آبادی 9 لاکھ 9 ہزار 438 تھی۔ تحصیل چارسدہ میں 7 لاکھ 55 ہزار 11 افراد دیہی اور 1 لاکھ 54 ہزار 427 افراد شہری علاقوں میں رہتے تھے۔ یعنی تحصیل کی تقریباً 17 فیصد آبادی شہری علاقوں میں موجود تھی۔
یہ اعداد ایک بنیادی حقیقت سامنے لاتے ہیں: چارسدہ میں رہائش اور شہری خدمات کی ضرورت حقیقی ہے، لیکن اس ضرورت کا جواب یہ نہیں ہوسکتا کہ زرعی زمین کو بغیر مربوط منصوبہ بندی کے رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کردیا جائے۔ 2023 کی مردم شماری میں تحصیل چارسدہ کے شہری علاقوں میں 22 ہزار 817 رہائشی یونٹس ریکارڈ ہوئے، جن میں 17 ہزار 75 اپنے گھروں میں، 4 ہزار 577 کرائے کے گھروں میں جبکہ 1 ہزار 165 دیگر زمروں میں تھے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ آبادی بڑھتی ہے مگر ریاستی منصوبہ بندی اس کے پیچھے رہ جاتی ہے۔ جب نئی آبادی سرکاری منصوبہ بندی کے دائرے سے باہر پھیلتی ہے تو پانی، نکاسی آب، صفائی، سڑک، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور پولیس سمیت ہر شہری خدمت پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ایک منظور شدہ ہاؤسنگ سکیم سے کم از کم یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال، سڑکوں، نکاسی آب، کھلے مقامات، بنیادی سہولیات اور دیگر تقاضوں کو متعلقہ ادارے جانچ چکے ہوں گے۔ غیر منظور شدہ سکیم میں ریاست اس بنیادی منصوبہ بندی کے مرحلے ہی سے باہر کردی جاتی ہے۔
خیبرپختونخوا کی اپنی شہری پالیسی بھی اس مسئلے کی سنگینی تسلیم کرتی ہے۔ صوبائی شہری پالیسی میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے زمین کے استعمال، شہری پھیلاؤ، ٹریفک، پانی و نکاسی آب، ماحولیاتی اثرات اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل کو منصوبہ بندی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پالیسی میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی ترقی سے پہلے ماحولیاتی اثرات کے جائزے میں ٹریفک، پانی، نکاسی آب اور دیگر سماجی و صحت کے اثرات شامل کیے جائیں۔
یہاں ایک اور اہم عدد پورے صوبے کی تصویر واضح کرتا ہے۔ 2022 میں خیبرپختونخوا میں 442 نجی ہاؤسنگ سکیمیں شناخت کی گئی تھیں، جن میں 297 غیر قانونی، 87 منظوری کے مراحل میں اور صرف 58 باقاعدہ منظور شدہ بتائی گئی تھیں۔ ان تمام سکیموں کا مجموعی رقبہ 69 ہزار 366 کنال، یعنی تقریباً 3,509 ہیکٹر بتایا گیا تھا۔ اس ریکارڈ کے مطابق پشاور میں 198 نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں 162 غیر قانونی اور صرف 18 منظور شدہ تھیں۔
اگر تین ہزار پانچ سو سے زیادہ ہیکٹر زمین ایسے منصوبوں کے دائرے میں ہو جن میں قانونی حیثیت کا مسئلہ موجود ہو تو یہ معاملہ محض جائیداد کے کاروبار کا نہیں رہتا۔ یہ زمین کے قومی و صوبائی استعمال، خوراک، پانی، ماحول، شہری خدمات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ زرعی زمین ایک مرتبہ رہائشی پلاٹوں میں تبدیل ہوجائے تو اسے دوبارہ کھیت بنانا آسان نہیں ہوتا۔ پہلے سڑک بنتی ہے، پھر گلیاں، چار دیواریاں، دکانیں، مکانات، بجلی اور دیگر تعمیرات آتی ہیں اور کچھ برس بعد وہ زمین ہمیشہ کے لیے زرعی پیداوار سے نکل جاتی ہے۔
یہ تبدیلی انفرادی سطح پر زمین کے مالک کے لیے منافع بخش ہوسکتی ہے، مگر اجتماعی سطح پر اس کی قیمت پوری آبادی ادا کرتی ہے۔ زرعی زمین صرف فصل پیدا نہیں کرتی؛ وہ روزگار، آبپاشی، خوراک، مقامی معیشت اور ماحول سے جڑی ہوتی ہے۔ جب ہزاروں کنال زمین رہائشی استعمال میں چلی جاتی ہے تو مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ کتنے پلاٹ بنے، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کتنی زرعی پیداوار، کتنا پانی اور کتنی مقامی معاشی سرگرمی اس تبدیلی کے نتیجے میں ختم ہوئی۔
قانونی پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ خیبرپختونخوا میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کے لیے 2021 میں باقاعدہ قواعد بنائے گئے تھے، لیکن بعد میں حکومت نے ان قواعد کو منسوخ کرکے 2024 کے نئے ہاؤسنگ سکیمز، منصوبہ بندی، ترقی اور کنٹرول کے ضوابط کا فریم ورک اختیار کیا۔ محکمہ بلدیات کی موجودہ ویب سائٹ پر 2024 کے ہاؤسنگ سکیمز اور عمارتوں کے ضوابط بھی درج ہیں۔
اس قانونی ارتقا سے ایک بنیادی بات واضح ہوتی ہے: حکومت نے مسئلے کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہوا ہے اور ہاؤسنگ سکیموں کے لیے باقاعدہ منظوری، منصوبہ بندی اور نگرانی کا نظام موجود ہے۔ اس لیے اصل سوال قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قانون کے نفاذ کا ہے۔ اگر قانون موجود ہو، متعلقہ ادارے موجود ہوں اور اس کے باوجود ایک سکیم بغیر منظوری کے زمین پر بن جائے، پلاٹ فروخت کرے اور لوگ وہاں آباد ہوجائیں تو پھر سوال ڈویلپر سے زیادہ ریاستی نگرانی کا بھی بنتا ہے۔
غیر قانونی ہاؤسنگ کا ایک اور پہلو مالی شفافیت ہے۔ جائیداد کا شعبہ بڑے مالی لین دین سے منسلک ہے۔ جب کسی زمین کی قانونی حیثیت، ملکیت، سرمایہ کاری اور فروخت کا ریکارڈ غیر واضح ہو تو بے نامی لین دین، مالی بے ضابطگیوں اور ناجائز سرمایہ چھپانے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر ہاؤسنگ سکیم کے اصل مالکان، زمین کے رقبے، زمین کے سابقہ استعمال، خریداری کے ریکارڈ، منظوری، این او سی، ترقیاتی کام اور پلاٹوں کی فروخت کا قابل جانچ ریکارڈ ہونا چاہیے۔ الزام لگانا آسان ہے، شفاف ریکارڈ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چارسدہ کی حالیہ فہرست کے حوالے سے بعض افراد کے نام متعدد منصوبوں کے ساتھ سامنے آنے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔ مقامی رپورٹنگ میں نورالوہاب کا نام بار بار آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن دستیاب معتبر ریکارڈ سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کتنی سکیموں کا مالک ہے، ہر منصوبے میں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے یا اس کے خلاف کوئی جرم ثابت ہوا ہے۔ اس لیے محض نام کی تکرار کی بنیاد پر کسی فرد کو مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ البتہ اگر ایک ہی شخص کا نام متعدد منصوبوں کے ساتھ درج ہے تو یہ ایک جائز تحقیقی سوال ضرور ہے کہ اس کا کردار کیا ہے، کتنی زمین ان منصوبوں سے وابستہ ہے اور متعلقہ منظوریوں کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ اس کا جواب صرف اصل سرکاری ریکارڈ دے سکتا ہے۔
آبادیاتی تبدیلی بھی اسی مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ چارسدہ سمیت خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں دوسرے علاقوں سے لوگ روزگار، کاروبار، تعلیم، جنگ، امن و امان اور بہتر رہائش کی تلاش میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ اندرونی نقل مکانی کسی شہری کا جرم نہیں اور کسی شخص کو اس کی علاقائی شناخت کی بنیاد پر مسئلہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ لیکن ریاست کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ جب کسی ضلع کی آبادی تیزی سے تبدیل ہو تو کیا اس تبدیلی کو زمین کے استعمال، شہری خدمات، پولیس، ٹرانسپورٹ، سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر منصوبہ بندی میں شامل کیا جا رہا ہے؟
سلامتی کا پہلو بھی اسی جگہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں غیر دستاویزی یا کم نگرانی والی آبادیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اضافی چیلنج پیدا کرسکتی ہیں، کیونکہ ریاست کے لیے آبادی، ملکیت، کرایہ داری اور نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اور جرائم پیشہ عناصر بھی شہری علاقوں میں چھپنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی خاص علاقے سے آنے والے عام شہریوں کو جرائم یا دہشت گردی سے جوڑ دیا جائے۔ چارسدہ کے سٹریٹ کرائم میں ملوث افراد کے آبائی علاقوں کے بارے میں ایسا مستند عوامی پولیس ڈیٹا دستیاب نہیں جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ کسی مخصوص سابق قبائلی ضلع سے آنے والے افراد ان جرائم میں اکثریت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس دعوے کو ثبوت کے بغیر حقیقت بنا دینا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے تعصب کو جنم دے گا۔
اصل ضرورت اس کے برعکس ہے: ہر نئی آبادی مکمل طور پر ریاستی ریکارڈ میں ہو، ہر مکان کی ملکیت یا کرایہ داری قابل شناخت ہو، ہر ہاؤسنگ سکیم کی قانونی حیثیت عوام کے لیے واضح ہو اور پولیس و انتظامیہ کے پاس نئی آبادیوں کا درست نقشہ اور آبادیاتی ریکارڈ موجود ہو۔ اس سے نہ صرف شہری منصوبہ بندی بہتر ہوگی بلکہ امن و امان کے لیے بھی ریاست کی معلوماتی صلاحیت بڑھے گی۔
چارسدہ کی حالیہ کارروائی کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر بتیس سکیموں کو نوٹس جاری ہوئے اور دس کو سیل کرنا پڑا تو اگلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان سکیموں نے کتنے عرصے تک کام کیا، کتنی زمین ان کے زیر استعمال ہے، کتنے پلاٹ فروخت ہوچکے ہیں، کتنے لوگ وہاں آباد ہیں اور ان آبادیوں کو بنیادی سہولیات کون فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ماضی میں متعلقہ اداروں نے ان منصوبوں کے خلاف کیا کارروائی کی اور اگر کارروائی نہیں کی تو کیوں نہیں کی۔
حکومت کو اب ہر ضلع میں منظور شدہ، زیر منظوری اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کا ایک عوامی اور آن لائن ریکارڈ جاری کرنا چاہیے۔ ہر سکیم کے ساتھ اس کا نقشہ، رقبہ، مالک یا ڈویلپر، منظوری کی تاریخ، این او سی، زمین کا سابقہ استعمال، بنیادی سہولیات اور قانونی حیثیت درج ہونی چاہیے۔ شہری کو کسی پراپرٹی ڈیلر یا اشتہار پر اعتماد کرنے کے بجائے چند سیکنڈ میں سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوجانا چاہیے کہ جس زمین پر وہ اپنی زندگی بھر کی بچت لگا رہا ہے وہ قانونی ہے یا نہیں۔
اس کے ساتھ زرعی زمین کے تحفظ کے لیے ضلع وار زمین کے استعمال کا جامع نقشہ ضروری ہے۔ یہ طے ہونا چاہیے کہ کہاں رہائشی توسیع ہوسکتی ہے، کہاں زرعی زمین ناقابلِ تبدیلی ہے، کہاں صنعتی یا تجارتی سرگرمی مناسب ہے اور کہاں آبادی بڑھانے سے پانی، ٹریفک یا ماحول پر ناقابل برداشت دباؤ پڑے گا۔ خیبرپختونخوا کی شہری پالیسی میں بھی زمین کے استعمال، ہاؤسنگ، ٹریفک، پانی، نکاسی آب اور ماحولیاتی اثرات کو مربوط منصوبہ بندی کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
چارسدہ میں بتیس غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی اس لحاظ سے خوش آئند ہے، لیکن نوٹس اور سیلنگ منزل نہیں، آغاز ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کارروائی قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچتی ہے یا نہیں، خریداروں کے حقوق کیسے محفوظ کیے جاتے ہیں، غیر قانونی منصوبوں کے ذمہ داروں کا تعین کیسے ہوتا ہے، زرعی زمین کو مزید بے قابو رہائشی پھیلاؤ سے کیسے بچایا جاتا ہے اور آئندہ کوئی ڈویلپر منظوری کے بغیر پلاٹنگ شروع کرنے کی جرات نہ کرسکے۔
کیونکہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی صرف زمین نہیں کھاتی۔ وہ زرعی زمین کھاتی ہے، پانی کھاتی ہے، شہری منصوبہ بندی کھاتی ہے، عوام کی جمع پونجی کو خطرے میں ڈالتی ہے، بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھاتی ہے اور اگر نئی آبادیاں ریاستی ریکارڈ اور نگرانی سے باہر رہیں تو انتظامی اور امن و امان کے مسائل بھی پیدا کرسکتی ہے۔
آج چارسدہ میں بتیس غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کل یہی سوال پشاور، نوشہرہ، مردان، سوات، ایبٹ آباد یا صوبے کے کسی دوسرے ضلع میں اس سے کہیں بڑے پیمانے پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اپنے شہروں اور اپنی زرعی زمین کا مستقبل کس کے حوالے کر رہا ہے—منصوبہ سازوں کے یا پلاٹ فروشوں کے؟
واپس کریں