
پاکستانی سیاست میں ایک پرانا فارمولا بار بار دہرایا گیا ہے یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ یہ محض نوآبادیاتی ورثہ نہیں، بلکہ آج بھی ہمارے ہاں کے سیاسی کھیل کا مرکزی اصول بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی نعرہ لگایا گیا، اس کے ساتھ ایک نئی تقسیم کی بنیاد رکھی گئی۔ کراچی میں مہاجر کا نعرہ لگوایا گیا تو سندھو دیش کے نعرے گونج اٹھے۔ جاگ پنجابی کا نعرہ بلند ہوا تو ہزارہ صوبے کی آواز اٹھی، پختونوں کی غیرت کو جگا کر الگ شناخت کا بیانیہ مضبوط ہوا اور جب سرائیکی صوبے کی صدائیں بلند ہوئیں تو بہاولپور صوبے والے بھی جاگ اٹھے۔۔ خاص طور پراس ضمن میں سندھی اور پنجابی سیاسی،مذہبی،سماجی راہنماوں اور وکلاء تنظیموں کی حالیہ تقریریں اور بیانات میں شدت واضع طور پر نمایاں ہے۔
یہ خلیج یا سلسلہ اسے جو بھی نام دیں، اب اتنا وسیح ہو چکا ہے کہ جو بیج کبھی سیاسی مصلحت کے لیے بوئے گئے تھے، وہ اب تناور درخت بن چکے ہیں۔ یہ نعروں کا کھیل محض جذباتی نہیں تھا۔ ہر نعرہ ایک مخصوص سیاسی مقصد کے تحت لگوایا گیا۔ کبھی ووٹ بینک بنانے کے لیے، کبھی حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے اور کبھی مرکزی اختیار کو چیلنج کرنے کے لیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی شناختیں مضبوط ہوئیں، لیکن قومی یکجہتی کمزور پڑتی گئی۔
آج جب انتظامی مشکلات، وسائل کی تقسیم، اور حکومتی کارکردگی کی ناکامی کے پیشِ نظر نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے، تو یہی پرانے نعروں والے اپنے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تقسیم کا بیج اتنی گہرائی میں جا چکا ہے کہ اب اسے ایک انتظامی اصلاح کے طور پر پیش کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔نئے صوبے بنانے کی بات اصولی طور پر غلط نہیں۔ بڑے صوبے، خاص طور پر پنجاب، انتظامی طور پر بوجھل ہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، اور مقامی مسائل کا حل چھوٹے اکائیوں میں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ آج خالص انتظامی بنیادوں پر نہیں ہو رہا۔ یہ انہی نسلی، لسانی اور علاقائی نعروں کا تسلسل ہے جو کبھی سیاسی مفاد کے لیے لگوائے گئے تھے۔ جب مہاجر شناخت، سندھی قومیت، پنجابی جاگ، پختون غیرت، سرائیکی صوبہ اور بہاولپور کی الگ حیثیت سب ایک ساتھ حرکت میں آ جائیں، تو سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ہم واقعی بہتر حکمرانی کے لیے صوبے بنا رہے ہیں، یا صرف مزید تقسیم کو قانونی شکل دے رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولا مختصر مدت میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ ایک گروہ کو دوسرا گروہ دکھا کر حمایت حاصل کی جا سکتی ہے لیکن طویل مدت میں یہ قوم کو کمزور کرے گا۔
وسائل محدود ہیں، مسائل مشترکہ اور دشمن بیرونی ہیں۔ اندرونی محاذوں پر نسلی اور علاقائی محاذ آرائی صرف توجہ بھٹکاتی ہے۔ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو ان کا معیار نسلی یا لسانی شناخت نہیں ہونا چاہیے بلکہ آبادی، جغرافیہ، وسائل اور انتظامی سہولت ہونا چاہیے ورنہ ہر نیا صوبہ مزید چھوٹے نعروں کی بنیاد بن جائے گا اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدرہ اور سیاستدان دونوں اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ جو نعرے کبھی مفاد کے لیے لگوائے گئے تھے، وہ اب خود ایک سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔ لگائے گئے مذکورہ درختوں کو کاٹنا آسان نہیں لیکن انہیں مزید پھیلنے سے روکنا ممکن ہے۔ اس کے لیے سیاسی مصلحت سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ ورنہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کا یہ تناور درخت ایک دن پوری قوم کی جڑوں تک پہنچ جائے گا اور پھر حکومت کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔قوم کو ایک رکھنے والا بیانیہ مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ ہر گروہ کو الگ الگ شناخت دے کر عارضی سیاسی فائدہ اٹھانا۔ نئے صوبے اگر بنیں تو انتظامی اصلاح کے طور پر، نہ کہ نسلی یا لسانی نعروں کے نتیجے کے طور پر۔ ورنہ یہ تقسیم کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوگا۔
واپس کریں