
عوامی خواہشوں کا احترام نہ کرتے ہوئے اگرانہیں کچلنے کی کوششیں کی جائیں تو خواہشیں ضد بنتی ہیں پھرانا اور پھر انتقام کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی فطرت اورانسانی نفسیات ہے۔
عوامی خواہشوں کو نظرانداز کرنا یا انہیں زبردستی کچلنے کی کوششیں کرنا انسانی نفسیات کا وہ اصول ہے جو ہمارے سیاسی اور سماجی میدان میں بار بار ثابت ہو چکا ہے اوراس کے نتائج اب بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔فطرت یہی ہے کہ جب بھی عوامی خواہشات کو مسلسل دبایا جاتا ہے تو دماغ اور جذبات مرحلہ وار ردعمل دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ضد یعنی پہلا ردِعمل مخالفت ہوتا ہے۔ ضد خاموش ہوتی ہے مگر اندر ہی اندر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے اورعوام میں یہ عدم تعاون، احتجاج یا قوانین کی خاموش خلاف ورزی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
جب ضد کو بھی کچلا جائے تو معاملہ شخصی عزتِ نفس سے جڑ جاتا ہے۔ اب مسئلہ صرف خواہش کا نہیں رہتا بلکہ میں کون ہوں اور میری حیثیت کیا ہے کا بن جاتا ہے۔انسانی انا جاگ اٹھتی ہے اور انسان اپنی پہچان کو اس مزاحمت سے جوڑ لیتا ہے پھر اس مرحلے پرعوام کہتے ہیں کہ اب معاملہ اصول کا ہو گیا ہے۔
جب انا بھی مجروح ہو جائے اور کوئی سیاسی ، سماجی شخصیت یا سیاسی جماعت محسوس کرے کہ اب مزید برداشت ممکن نہیں، تو انتقام کا جذبہ جنم لیتا ہے۔ یہ انتقام کبھی کھلا ہوتا ہے جیسے احتجاج، بغاوت، تشدد اور کبھی پوشیدہ مثلا مخالفت، توڑ پھوڑ،یا نظام کو اندر سے کمزور کرنا۔ تاریخ میں بہت سی بڑی انقلابی اور سیاسی تحریکیں اسی راستے سے گزر کر آئی ہیں۔
یہ عمل کیوں ہوتا ہے؟انسان کی بنیادی نفسیاتی ضرورت آزادیِ انتخاب اور خودمختاری ہے۔ جب یہ ضرورت بار بار پامال ہوتی ہے تو دماغ اسے کسی بڑے خطرے کی طرح محسوس کرتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں سیاسی اور سماجی آزادی پر پابندی لگتی ہے تو انسان اپنی آزادی کو واپس لینے کے لیے اور زیادہ سخت موقف اختیار کر لیتا ہے۔اس کے علاوہ ریاستی دباؤ جتنا زیادہ ہو،ردعمل اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔اگر عوام محسوس کریں کہ ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں، تو وہ اپنا راستہ خود بنانے لگتے ہیں۔طویل دباؤریاستی اعتماد کو ختم اور عوام میں نفرت پیدا کرتا ہے۔تاریخی میں آمریتیں اور جابر حکومتیں اسی وجہ سے گر گئیں کہ انہوں نے عوامی خواہشات کو مسلسل نظرانداز کیا۔
عام فہم مثال ہے،جسے خاندانی سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ والدین جب بچوں کی بات سنے بغیر فیصلے نافذ کرتے ہیں تو بچے پہلے ضد، پھر بغاوت اور کبھی کبھار شدید ردعمل دکھاتے ہیں۔
معاشروں میں جب ایک طبقے کو مسلسل دبایا جائے تو بالآخر وہ انتقام کی شکل اختیار کر لیتا ہے،چاہے وہ سیاسی ہو، مذہبی ہو یا سماجی۔ مذکورہ نفسیاتی عمل کو روکنے کا مؤثر بلکہ واحد طریقہ یہی ہے کہ بلوچستان،خیبر پختون خواہ اور آذاد کشمیر کےعوام کی خواہشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں سمجھنے اور بات چیت کی جگہ دی جائے۔ احترام اور گفتگو ضد اور انا کو کمزور کرتے ہیں،اور انتقام کے جذبات کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتے۔
مختصر کہ انسانی فطرت آزادی اور عزتِ نفس کی متلاشی ہے۔ اسے کچلنے کی کوشش الٹا نتیجہ دیتی ہے۔ جو حکمران یا نظام چلانے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں اور جو اسے نظرانداز کرتے ہیں وہ آخرکار شدید ردعمل کا سامنا کرتے ہیں جیسا کے کر رہے ہیں۔
واپس کریں