دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وہ پھانسی کیوں مانگ رہا ہے؟
حامدمیر
حامدمیر
یہ ایک قیدی کا بیانِ حلفی ہے جس میں وہ عدالت سے موت مانگ کر اپنی قوم کو آزادی کا پیغام دے رہا ہے۔ 25صفحات پر مشتمل یہ دستاویز ایک طرف تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی عدالتوں میں ہونیوالی نا انصافیوں کا المیہ بیان کرتی ہے اور دوسری طرف قیدی کا اپنا المیہ بھی سامنے لاتی ہے جو دراصل اسکی قوم کا المیہ ہے۔ یہ بیانِ حلفی تحریر کرنیوالا قیدی کہیں وکیل،کہیں نیلسن منڈیلا جیسا انقلابی ،کہیں اپنی بوڑھی ماں کی فکر کرنیوالا بیٹا ،کہیں اپنی بیوی کے مستقبل کے بارے میں سوچنے والا بے بس خاوند اور کہیں ایک باپ نظر آتا ہے جس نے آٹھ سال سے اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا۔ بھارت کی تہاڑ جیل میں قید جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی طرف سے سرینگر کی ایک عدالت میں 24اگست 2026 ء کو جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں جو انکشافات کیے گئے ہیں اُنہوں نے وزیرِاعظم نریندر مودی اور اُ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت کماردوول کو مجرم بنا کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ایک قیدی کے بیان کردہ حقائق نے ان دونوں کو بے نقاب بھی کردیا اور لاجواب بھی۔ یاسین ملک پر 36سال قبل ایک ہندو نرس سرلا بھٹ کے قتل کے الزام میں سرینگر کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہاہے۔ سرلا بھٹ 19اپریل 1990ء کو قتل ہوئی، جبکہ یاسین ملک کہتے ہیں کہ وہ 8 اپریل 1990ء کو بھارت سکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران شدید زخمی ہو چکے تھے اور 26 اپریل 1990ء کو بھارتی ٹی وی دور درشن انکے انتقال اور خفیہ تدفین کی خبر بھی نشر کر چکا تھا۔ یاسین ملک نے سرلا بھٹ کے قتل کے الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیںگرفتاری کے کافی عرصے بعد 1991ءمیں اس نرس کے قتل کا ایک تفتیشی افسر کے ذریعے پتہ چلا۔ یاسین ملک نے اپنے بیانِ حلفی میں بتایا ہے کہ سرلا بھٹ کے قتل کے کچھ عرصہ بعدانہیں اگست 1990ء میں گرفتار کر لیا گیا۔ نومبر 1990ء میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم چندر شیکھر نے اُن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور انہیں ڈنر کی دعوت دی۔ یاسین ملک نے وزیراعظم کی طرف سے ملاقات کا پیغام لانے والوں سےکہا کہ ایک قیدی کا وزیراعظم کے ساتھ ڈنر مناسب نہیں ہوگا۔ اس انکار کے بعد یاسین ملک کو سزا کے طور پر دہلی سے آگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ یاسین ملک نے لکھا ہے کہ قید کے دوران، مختلف بھارتی وزرائے اعظم ان سے رابطے کرتے رہے اور پاک بھارت امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کیلئے مدد مانگتے رہے۔

2000ء میں آئی بی کے ڈائریکٹر اجیت کمار دوول اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا نے انکے ساتھ جیل میں ملاقاتیں کیں۔اُن دنوں یاسین ملک جیل میں شدید بیمارتھے۔ اُنہیں علاج کیلئے امریکا بھجوانے کا انتظام کیا گیا اور بھارتی حکومت نے اُنہیں پاسپورٹ بھی جاری کیا۔ جب وہ علاج کرانے امریکا پہنچے تو برجیش مشرا نے انہیں واجپائی کی طرف سے نیک تمناؤں کے پیغام کے علاوہ 50 ہزار ڈالر علاج کیلئے بھجوائےلیکن یاسین ملک نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف امریکا میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے الطاف قادری کے ذریعے یاسین ملک کو 30ہزار ڈالر بھیجے، لیکن یاسین ملک نے یہ رقم وصول کرنے سے بھی معذرت کر لی۔ یاسین ملک نے اپنے بیانِ حلفی میں لکھا ہے کہ نریندر مودی نے 2019ء اور 2024ء کے الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ہونے والی میری ایک ملاقات کی تصویر کو خوب استعمال کیا اور پراپیگنڈاکیا کہ ہندو پنڈتوں کے قاتل یاسین ملک کے ساتھ کانگریس کے رہنما من موہن سنگھ ملاقاتیں کرتے رہےہیں، لیکن اجیت دوول جو آج مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں وہ جیل میں میرے ساتھ جو ملاقاتیں کرتے رہے، انکاکہیں ذکر نہیں کیا جاتا۔یاسین ملک کا بیانِ حلفی پڑھتے ہوئے مجھے وہ ملاقاتیں یاد آ رہی تھیں جو 2005ءاور 2006ءمیں اُنہوں نے اسلام آباد میں میرے ساتھ کیں۔ اس زمانے میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق ،یاسین ملک اور کچھ دیگر کشمیری رہنماؤں سے مدد حاصل کر رہے تھے۔ یاسین ملک کو جب بھی پاکستان آنے کی اجازت ملتی وہ مجھے ضرور ملتے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ساتھی رفیق ڈار کی موجودگی میں مشعال ملک کے ساتھ شادی کیلئے بھی مجھ سے مشورہ کیا۔ یاسین ملک کیساتھ ہونیوالی گفتگو سے مجھے تاثر ملا کہ وہ جنرل مشرف کی کشمیر پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتے تھے لیکن دونوں ممالک میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے حامی تھے۔ایک موقع پر اُنہوں نے مجھے کہا کہ عمر عبداللہ پاکستان آیا ہوا ہے آپ اسے جیو ٹی وی پر اپنے شو کیپیٹل ٹاک میں بلائیں اور مجھے بھی وہاں بلوا لیں پھر دیکھیں میں کیا کرتا ہوں؟ مجھے بھی معلوم کرنا تھا کہ دونوں کدھر کھڑے ہیں؟ میں نے عمر عبداللہ کو اپنے شو میں بلا لیا اور سرپرائز کے طور پر یاسین ملک کو اُن کے ساتھ بٹھا دیا۔ یاسین ملک نے اس شو میں عمر عبداللہ کی منافقت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اس شو کے بعد ایک طرف عمر عبداللہ مجھ سے ناراض ہوئے دوسری طرف جنرل پرویز مشرف بھی ناراض ہوئے۔ اُن کا خیال تھا کہ عمر عبداللہ اور یاسین ملک کو لڑانے کی اس سازش کے پیچھے سیدعلی گیلانی ہیں ۔ جنرل مشرف اس بزرگ کشمیری رہنما سے بہت نفرت کرتے تھے کیونکہ سید علی گیلانی نے ایک دفعہ مشرف کو بلوچستان میں فوجی آپریشن سے منع کیا تھاجس پر مشرف بہت ناراض ہوئے۔ مشرف کو سید علی گیلانی سے میرے روابط کا بھی پتہ تھا لیکن اس شو کے بارے میں گیلانی صاحب سے میری کوئی بات نہ ہوئی تھی یہ شو تو یاسین ملک کی تجویز تھا۔یاسین ملک نے اپنے بیانِ حلفی میں بھارتی حکمرانوں کی دوغلی پالیسیوں کو توبے نقاب کیا ہے، لیکن پاکستان کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور مشرف کے ساتھ اپنے اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔ آج پاکستان میں کچھ صاحبانِ اختیار اُنکی جماعت جے کے ایل الف کے بارے میں ویسے ہی الزامات عائد کرتے ہیں جیسے الزامات حکومتِ ہندوستان کی طرف سے جے کے ایل الف پر لگائے جاتے ہیں ۔ یاسین ملک نے بیانِ حلفی کے آخر میں کہا ہے کہ میں آئندہ اس عدالت میں اپنا دفاع نہیں کروں گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں سرلا بھٹ کے قتل سے انکار کرتا ہوں لیکن آگے چل کر یاسین ملک نے عدالت کو کہاہے کہ مجھےپھانسی دیدی جائے۔ انہوں نے اپنے دفاع سے دستبردار ہو کر عدالت کا کام آسان کر دیا ہے کیونکہ یہ عدالت انہیں پھانسی پر لٹکانے کیلئے ہی قائم کی گئی ہے۔ آخر میں انہوں نے اپنی پیاری اہلیہ مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرتے ہوئے بڑی عزت اور پیار کے ساتھ اُن سے درخواست کی ہے کہ ابھی آپ کی بہت عمر پڑی ہے آپ ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔ بیٹی رضیہ سلطانہ کو تاکید کی ہے کہ اپنی دادی کو روزانہ سرینگر فون کیا کرو تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں تنہائی کا احساس نہ ہو۔ یہ بیان حلفی دراصل ایک انقلابی حریت پسند کے ضمیر کی آواز اور اسکی آخری وصیت ہے۔ یہ ایک بیانِ حلفی نہیں بلکہ بھارتی جمہوریت کے خلاف چارج شیٹ ہے اس چارج شیٹ میں بیان کردہ المیہ پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ یاسین ملک کو نہ تو کوئی خرید سکا نہ ہی جھکا سکا۔ وہ بڑے وقار اور جرات کے ساتھ پھانسی مانگ رہا ہے کیونکہ یہ پھانسی دراصل اسکے قاتلوں کی موت بنے گی۔
واپس کریں