دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا غربت اللہ کی پیدا کردہ ہے یا معاشی نظام کی اک ڈیزائننگ ہے ؟
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
ہم اکثر ریاستی نظام سے وابستہ کمزوریوں (Vulnerabilities) کو نظر انداز کر دیتے ہیں، خصوصاً ان کمزوریوں کو جو ریاست کے معاشی نظام میں جڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے معاشروں میں دولت کی تقسیم بڑی حد تک سرمائے کی ملکیت کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ آبادی کی اکثریت اپنی روزی روٹی کے لیے اپنی محنت اور مزدوری پر انحصار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہر دس افراد میں سے تقریباً آٹھ افراد مزدور یا محنت کش ہوتے ہیں، جبکہ صرف دو افراد کے پاس قابلِ ذکر سرمایہ ہوتا ہے۔
تاہم، دولت کی تقسیم انتہائی غیر مساوی رہتی ہے ۔ اور معاشی اصولوں کا ڈیزائن کچھ اس طرح ہے معیشت میں پیدا ہونے والے ہر 10 روپے میں سے تقریباً 9 روپے ان دو افراد کے پاس جمع ہو جاتے ہیں جو سرمائے کے مالک ہیں، جبکہ صرف 1 روپیہ باقی آٹھ محنت کش افراد میں تقسیم ہوتا ہے۔ دولت کی اس غیر مساوی تقسیم سے معاشی کمزوری (Economic Vulnerability) پیدا ہوتی ہے، جو آفات کے انتظامات میں بڑی رکاوٹ ہے اور جو ملکی اور عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر اور مستقل غربت کو جنم دیتی ہے۔ یعنی غربت اللہ کی پیدا کردہ نہیں بلکہ انسان کی خود ڈیزائن کردہ ہے۔
اگرچہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) میں صفر غربت (Zero Poverty) کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، لیکن اصل چیلنج معاشی نظام کی ساخت اور دولت کی تقسیم کے ان اصولوں میں موجود ہے جو دولت کو غیر مساوی طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ جب تک معاشی نظام اور دولت کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں آتی، صفر غربت کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔
لہٰذا، غربت سے نمٹنے کے لیے صرف کمزور افراد اور متاثرہ برادریوں کی مدد کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیں ان ساختی اور معاشی نظاموں کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو دولت کی غیر مساوی تقسیم اور معاشی کمزوری کو جنم دیتے ہیں۔ غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے معاشی نظام، دولت کی تقسیم اور وسائل تک مساوی رسائی کے بنیادی اصولوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
واپس کریں