ایران، امریکہ جنگ: عالمی طاقتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارگ اور ابوموسیٰ پر راکٹ حملے کیے جن کا جواب دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہداف پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔امریکی حملوں کے دوران چار ایرانی شہری شہید اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ سیرک کے قریب ایک شادی کی تقریب پر حملے میں دو افراد شہید ہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی صورت میں مزید شدید حملے کیے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے آغاز پر دنیا بڑی حد تک تماشائی بنی رہی۔ اگرچہ مختلف ممالک کی جانب سے بیانات سامنے آتے رہے، تاہم عملی اقدامات دکھائی نہیں دیے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا اور اپنی کوششوں سے ایک معاہدہ بھی طے کروایا، لیکن بدقسمتی سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد سے قبل ہی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں شروع ہوگئیں اور آج ایک بار پھر دونوں ممالک حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس صورتحال کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا پھیلاؤ عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جنگ کے خدشات کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ فریقین کو دکھی انسانیت پر رحم کرتے ہوئے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر دوبارہ امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک کو جنگ میں فریق بننے کے بجائے صدر ٹرمپ پر جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے سفارتی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کو بھی محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان نے جس طرح ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے معاہدہ کروایا، عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے پر عملدرآمد اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
واپس کریں