
اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو ایک بار پھر اربن فلڈنگ کا سامنا ہے‘ گزشتہ روز چند گھنٹوں کی بارش کے بعد متعدد آبادیاں زیرِ آب آگئیں‘ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا‘ اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ اس ابتر صورتحال کے باعث رین ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ جڑواں شہروں کو تقریباً ہر سال مون سون میں اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ برس بھی مون سون میں ان شہروں کے متعدد علاقے زیرِ آب آئے تھے‘ مگر اس تجربے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ نہ نکاسی آب کے نظام میں مطلوبہ بہتری لائی گئی‘ نہ برساتی نالوں کی گنجائش بڑھانے کیلئے کوئی جامع منصوبہ سامنے آیا اور نہ ہی نشیبی علاقوں میں مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات کیے گئے جن سے بارش کے بعد پانی جمع نہ ہوسکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کی شدت نے اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
بارشوں کے موسمی پیٹرن تبدیل ہونے سے مختصر دورانیے میں غیر معمولی بارش اور اچانک سیلاب اب ایک مستقل خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں پرانے انتظامی طریقہ کار‘ محدود نکاسی آب کے نظام اور بارش کے بعد کے ہنگامی اقدامات پر انحصار کافی نہیں۔ حکومت کوچاہیے کہ برساتی نالوں اور نکاسی آب کے نظام کا جامع سروے‘ پانی کے قدرتی راستوں کی بحالی‘ آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کا خاتمہ اور واٹر ڈرینج نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں بااختیار بلدیاتی حکومتیں ہی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔
واپس کریں