اسلام آباد فتح کرنے کی بجائے ہماری پنشن ادا کرو۔ خیبرپختونخوا کے پنشنرز کی وزیرِاعلیٰ سے دہائی

(پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان ۔ خیبرپختونخوا کے بزرگ پنشنرز ستمبر کی پنشن کے لیے پریشان ہیں، بینکوں کے چکر لگا رہے ہیں اور اپنی جائز رقم کے انتظار میں ہیں، جبکہ اسی صوبے کا وزیرِاعلیٰ ستمبر کے مہینے میں اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ ریاست اور صوبے کی خدمت میں گزار دیا اور اب اپنی پنشن کے محتاج ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں جن کا مرکز صوبے کے مسائل سے زیادہ سیاسی احتجاج، تصادم اور 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک بزرگ پنشنر کے لیے یکم تاریخ کیلنڈر کی کوئی معمولی تاریخ نہیں ہوتی۔ یہی وہ دن ہے جب اسے اپنی عمر بھر کی سرکاری خدمت کا معاوضہ ملنا ہوتا ہے، اسی رقم سے گھر کا راشن آتا ہے، بجلی کا بل ادا ہوتا ہے، دوائیں خریدی جاتی ہیں اور خاندان کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اگر یکم تاریخ گزر جائے اور پنشنر کے اکاؤنٹ میں اس کی پنشن نہ پہنچے تو یہ محض دفتری تاخیر نہیں رہتی بلکہ ایک عمر رسیدہ انسان کی زندگی میں پیدا ہونے والا عملی بحران بن جاتی ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جب صوبے کے بزرگ شہری اپنی جائز پنشن کے منتظر ہیں، اسی وقت صوبائی حکومت کی توجہ اسلام آباد کی طرف ہے۔ سوال بہت سادہ ہے: جس حکومت سے ایک بزرگ پنشنر کو یکم تاریخ کو اپنی پنشن چاہیے، کیا اس حکومت کی پہلی ذمہ داری اسلام آباد کی سڑکیں ہیں یا خیبرپختونخوا کے خزانے اور عوام کی ضروریات؟
یکم ستمبر 2026 کو خیبرپختونخوا کے بعض پنشنرز کی جانب سے پنشن نہ ملنے کی شکایات سامنے آئیں۔ متعلقہ بینک عملے کی طرف سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے رقم منتقل نہیں کی گئی۔ اگر یہ صورتحال سرکاری ادائیگی کے نظام میں تاخیر کے باعث پیدا ہوئی ہے تو صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر بتائے کہ پنشن کی رقم کہاں رکی، کیوں رکی اور پنشنرز کو کب تک ان کا حق ملے گا۔ یہ کوئی معمولی رقم یا معمولی طبقہ نہیں۔ خیبرپختونخوا کے وہ سرکاری ملازمین جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتیں صوبے اور ریاست کی خدمت میں صرف کر دیں، بڑھاپے میں حکومت سے کسی احسان کے طلب گار نہیں، اپنی جائز رقم کے حق دار ہیں۔ انہیں ہر ماہ اپنی پنشن کے لیے کسی سیاسی جماعت کے نعرے، کسی دھرنے یا کسی لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
خیبرپختونخوا کے سرکاری بجٹ کے اعدادوشمار اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ 2025-26 کے بجٹ میں پنشن کے لیے تقریباً 190 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ 2026-27 میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 228 ارب روپے ہو گئی ہے۔ یعنی صرف ایک سال میں پنشن کے بجٹ میں تقریباً 38 ارب روپے، یا تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا۔ سرکاری بجٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 2025-26 میں پنشن کی مد میں تقریباً 125 ارب روپے کی اصل ادائیگی بھی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد خود بتا رہے ہیں کہ پنشن صوبائی خزانے پر ایک بڑا مالی بوجھ ضرور ہے، مگر یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی ذمہ داری نہیں۔ حکومت برسوں سے اس ذمہ داری سے آگاہ ہے، پنشن کے لیے بجٹ مختص کرتی ہے اور اس کے لیے مالی منصوبہ بندی کی پابند ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جب ایک سال میں پنشن کا بجٹ تقریباً 38 ارب روپے بڑھایا جا سکتا ہے تو پنشن کی ادائیگی بروقت کیوں یقینی نہیں بنائی جا سکتی؟
مسئلہ صرف آج کی ایک ادائیگی کا بھی نہیں۔ دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں پنشنرز کی تعداد 2020 میں تقریباً 170,000 تھی جو 2025 تک بڑھ کر تقریباً 228,000 ہو چکی ہے۔ یعنی صرف پانچ برس میں تقریباً 58,000 نئے پنشنرز کا اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں صوبے کی جمع شدہ پنشن ذمہ داری بھی تقریباً 3 کھرب روپے سے بڑھ کر 3.5 کھرب روپے سے زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ یہ اعداد صوبائی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں اور اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پنشن کے نظام، مالی منصوبہ بندی اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی جائیں۔ لیکن اس بڑھتے ہوئے مالی مسئلے کا علاج اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں، بہتر مالی نظم و نسق، بروقت فنڈ منتقلی، شفاف خزانہ داری اور ذمہ دارانہ حکمرانی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت سے بنتا ہے کہ اس وقت اس کی سب سے بڑی ترجیح کیا ہے؟ صوبے کے بزرگ پنشنرز، جن کی تعداد تقریباً 228,000 تک پہنچ چکی ہے، یا 27 ستمبر کو اسلام آباد میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ؟ ایک طرف پنشن کا سالانہ بل 228 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، پنشنرز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور جمع شدہ پنشن ذمہ داری 3.5 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت ایک ایسے سیاسی معرکے کی تیاری میں مصروف ہے جس کا براہِ راست تعلق خیبرپختونخوا کے ان لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی سے نہیں جو حکومت سے بنیادی سہولتیں اور اپنے حقوق چاہتے ہیں۔
پنشنر کو اسلام آباد نہیں جانا، اسے اپنے گھر سے بینک تک جانا ہے۔ اسے جلسے میں نعرہ نہیں لگانا، اسے اپنی دوا خریدنی ہے۔ اسے کسی سیاسی تصادم میں حصہ نہیں لینا، اسے اپنے گھر کا راشن خریدنا ہے۔ اسے حکومت کے خلاف کسی مہم کی ضرورت نہیں، اسے صرف یہ یقین چاہیے کہ یکم تاریخ کو اس کی پنشن اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ریاست کے نظام کو اپنی جوانی دی ہے۔ ان کے بڑھاپے کو سیاسی کشمکش کا ایندھن بنانا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اگر 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس سے پہلے صوبائی حکومت کو اپنے گھر کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون اسلام آباد میں کتنے لوگ جمع کر سکتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اپنی حکومت کے اختیار میں موجود صوبے کو کون بہتر چلا سکتا ہے۔ کیا دہشت گردی 27 ستمبر تک رک جائے گی؟ کیا بے روزگاری ختم ہو جائے گی؟ کیا سرکاری ہسپتالوں کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا سکولوں کی کمی پوری ہو جائے گی؟ کیا صوبے کی مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی؟ کیا پنشنرز کی پریشانی دور ہو جائے گی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر صوبائی حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ اسلام آباد کی سیاست کو خیبرپختونخوا کی حکمرانی پر فوقیت کیوں دی جا رہی ہے۔
اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو آئین اور قانون نے اس کے لیے راستے متعین کر رکھے ہیں۔ عدالت کے فیصلے کا جواب عدالت میں دیا جا سکتا ہے اور قانونی حق قانونی طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ احتجاج بھی جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کو حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ صوبائی حکومت کا اصل مینڈیٹ اپنے صوبے کے لوگوں کی زندگی آسان بنانا ہے، انہیں سیاسی تصادم کے ایک اور میدان میں دھکیلنا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 27 ستمبر کا اعلان صرف ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا امتحان بھی ہے۔ ایک طرف 228 ارب روپے کا سالانہ پنشن بل ہے، تقریباً 228,000 پنشنرز ہیں اور 3.5 کھرب روپے سے زیادہ کی جمع شدہ پنشن ذمہ داری ہے؛ دوسری طرف اسلام آباد مارچ کی تیاری ہے۔ ایک طرف وہ بزرگ ہیں جو یکم ستمبر کو اپنے اکاؤنٹ میں پنشن آنے کے منتظر ہیں، دوسری طرف وہ سیاسی قیادت ہے جو 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس تضاد کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
سیاست کا اصل امتحان جلسے کے سائز، نعروں کی شدت یا سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں ہوتا۔ حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ یکم تاریخ کو پنشنر کے اکاؤنٹ میں اس کی پنشن موجود ہے یا نہیں، مریض کو سرکاری ہسپتال میں علاج مل رہا ہے یا نہیں، بچے کے سکول میں استاد موجود ہے یا نہیں، شہری کو امن، پانی، سڑک اور بنیادی سہولتیں میسر ہیں یا نہیں۔ اسلام آباد کا راستہ اختیار کرنا آسان ہے، مگر اپنے صوبے کے مسائل حل کرنا اصل حکمرانی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے پاس 2026-27 میں پنشن کے لیے تقریباً 228 ارب روپے کا بجٹ موجود ہے۔ یہ رقم معمولی نہیں۔ یہ صوبے کے خزانے پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اسی لیے حکومت کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے مالی انتظام میں ترجیحات واضح ہیں۔ اگر پنشن کا بجٹ بڑھ رہا ہے تو ادائیگی کا نظام بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ اگر پنشنرز کی تعداد بڑھ رہی ہے تو مستقبل کی مالی منصوبہ بندی بھی اسی رفتار سے ہونی چاہیے۔ اور اگر صوبہ پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے تو حکومت کو اپنی سیاسی ترجیحات کے انتخاب میں بھی غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایک بزرگ پنشنر کو سیاسی نعرہ نہیں چاہیے۔ اسے اسلام آباد فتح کرنے کی خبر نہیں چاہیے۔ اسے کسی لانگ مارچ کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اپنی پنشن چاہیے۔ اسے یکم تاریخ کو اپنے اکاؤنٹ میں اپنی رقم چاہیے۔ اسے اپنی دوا خریدنی ہے، گھر کا خرچ چلانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے اور زندگی کے آخری برس عزت کے ساتھ گزارنے ہیں۔
اس لیے خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سے ان بزرگ شہریوں کی دہائی ہے: اسلام آباد فتح کرنے کی تیاری بعد میں کر لیجیے، پہلے اپنے صوبے کے پنشنرز کی پنشن ادا کیجیے۔ ان بزرگوں نے آپ کے لیے ووٹ مانگنے نہیں، اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سرکاری خدمت میں گزارا ہے۔ اب انہیں کسی سیاسی معرکے میں شریک ہونے کی نہیں، اپنے حق کی بروقت ادائیگی کی ضرورت ہے۔
27 ستمبر ابھی دور ہے، مگر ایک پنشنر کے لیے یکم ستمبر گزر چکا ہے۔ اس کے لیے سیاست کی اگلی تاریخ سے زیادہ اہم وہ تاریخ ہے جس دن اس کی پنشن ملنی تھی۔ حکومت اگر واقعی عوام کی حکومت ہے تو اسے پہلے اسی تاریخ کا حساب دینا چاہیے۔
اسلام آباد بعد میں بھی فتح کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے؛ پنشنر کا گزرا ہوا یکم ستمبر واپس نہیں آ سکتا۔
واپس کریں