ملک میں سیاسی تبدیلی کی باتیں کیوں ضروری ہیں؟ سید مجاہد علی

پاکستان میں ایک غیر جمہوری، غیر منتخب اور کسی حد تک غیر ذمہ دار حکومت کام کر رہی ہے۔ فی الوقت ایسے حالات نہیں ہیں کہ اسے تبدیل کرنا ضروری ہو۔ فوج ملک پر براہ راست حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کی کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے لیکن مارشل لا یا اس قسم کے کسی انتظام کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں اعلی سطح پر فائز صحافیوں کی طرف سے تبدیل یا ری سیٹ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
کوئی آزاد کشمیر میں ایک نام نہاد ٹیکنوکریٹ کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک میں بھی ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کی خبر دے رہا ہے تو کسی کا خیال ہے کہ تبدیلی کے سارے انتظامات ہوچکے ہیں، بس مسلم لیگ (ن) ہی اس سے بے خبر ہے لیکن اس کی آنکھیں تب کھلیں گی جب پانی سروں کے اوپر سے گزر چکا ہو گا۔ کسی بھی نظام میں تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوتی۔ حکومت خواہ جمہوری ہو، مسلط کردہ ہو یا اسے ہائبرڈ کا نام دیا جائے، اس میں تبدیل کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کی متعدد سیاسی اور عملی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت تبدیل ہونے کی خبریں عام کرنے یا کرانے والوں کا ایجنڈا واضح نہیں ہے۔
عام طور سے یہی قیاس کیا جاتا رہا ہے کہ فوج سانحہ 9 مئی کے بعد عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ تین سال پہلے اس روز ہونے والے مظاہروں کو براہ راست ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں بالواسطہ یا براہ راست اشارے دینے کے باوجود کبھی کوئی ایسا سرکاری یا فوجی کمیشن یا کمیٹی قائم نہیں ہوئی جو اس دن ہونے والے ہنگاموں اور مظاہروں کی نوعیت اور مقصد کا جائزہ لے کر عوام کو ان کی تفصیل سے آگاہ کرتی۔ البتہ تحریک انصاف کو سیاسی طور سے نشانہ بنا کر، عمران خان کو مسلسل قید میں رکھ کر اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود سیاست کے لیے سپیس دینے سے انکار کر کے ملک میں گھٹن اور بے یقینی کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی تجزیہ نگار اس ماحول کو ملک اور حکومت کے لیے بوجھ سمجھتے ہوئے قیاس کرے گا کہ اس میں بہتری کی گنجائش پیدا ہونی چاہیے۔ لیکن کوئی حکم صادر نہیں کر سکتا کہ جس قوت پر ملک میں ہائبرڈ نظام مسلط کرنے یا 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے موجودہ نظام استوار کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، وہی اب اس حکومت کو گرا کر کوئی نیا تجربہ کرنا چاہتی ہیں اور اسے قبول بھی کر لیا جائے۔
عام طور سے نئے تجربہ میں ایک سیاسی پارٹی کو نظر انداز کر کے کسی دوسری پارٹی کو معاملات سنبھالنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سیاسی قوت پاکستان تحریک انصاف ہو سکتی ہے۔ لیکن تبدیلی کی خبر دینے والے یہ تو نہیں کہتے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ساتھ سودے بازی کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور اب شہباز شریف اپنی عدم مقبولیت کی وجہ سے اثاثہ کی بجائے بوجھ بن چکے ہیں۔ اگر اس عنوان سے تبدیلی کا امکان نہیں ہے تو پھر ملک میں کون سی اور کیسی تبدیلی کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔ چونکہ ’سنسر شپ‘ کے ستائے ہوئے صحافی اشاروں کنایوں میں باتیں کرنے پر مجبور ہیں، اس لیے صرف تبدیلی اور اس کے بہرصورت واقع ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود یہ بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کون اقتدار سنبھالے گا اور معاملات کیسے اور کیوں کر درست ہوجائیں گے۔
اس کی ایک وضاحت تو یہ کی جا سکتی ہے کہ ملک میں چونکہ عوام الناس میں صرف سنسنی خیزی ’بکتی‘ ہے اور اس حوالے سے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا مجاہدین نے باقی دکانداروں کا روزگار چھینا ہوا ہے لہذا بعض صحافیوں کو زندہ رہنے اور اپنی اہمیت جتانے کے لیے کچھ ’نیا‘ بتانے کی شدید حاجت محسوس ہوتی ہے۔ ملکی سیاست میں چونکہ کچھ بھی نیا نہیں ہے اور نہ کسی اچانک طوفان اٹھنے کا کوئی امکان ہے، اس لیے اس ’نئے‘ کے لیے تبدیلی لانے، حکومت کے جانے اور مسلم لیگ (ن) کے لیے برے وقت کی پیش گوئی کرنا سب سے تیر بہدف نسخہ ہو سکتا ہے۔ اس سے سرکاری پارٹی میں ہلچل ہوگی، متعلقہ صحافیوں کی آؤ بھگت میں اضافہ ہو گا یا اس چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے کچھ ایسے معاملات سے پردہ اٹھ سکے گا جنہیں خبر بنا کر دکانوں میں رونق لگائی جا سکے۔
البتہ تبدیلی کے پیامبر اس کی جو وجوہات بتاتے ہیں ان میں سر فہرست کمزور مرکز کا معاملہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے مرکز مالی لحاظ سے بے بس اور لاچار ہے۔ اس لیے اسٹیبلشمنٹ کسی بھی صورت موجودہ انتظام کو تبدیل کر کے مرکز کے اختیار اور مالی وسائل میں اضافہ کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے یا تو صوبوں کے مالی حقوق کم کیے جائیں یا نئے صوبے بنا کر صوبائی طاقت کے موجودہ مراکز کو ختم کیا جائے۔ اتفاق سے ملک کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں درحقیقت ’صوبائی‘ پارٹیاں بن چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حاکم ہے۔ سندھ پر پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے جبکہ خیبر پختون خوا تحریک انصاف کی طاقت کا گڑھ ہے۔ اس طاقت کو توڑنے کے لیے صوبوں کا موجودہ نظام تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اسی انتظام کو نئی صوبوں یا انتظامی یونٹ تشکیل دینے کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم اور بحث طلب ہے کہ ملک میں آئینی پارلیمنٹ کی موجودگی میں طاقت کے زور پر یہ انتظام کیسے کیا جائے گا۔
اس حوالے سے آئین میں اٹھائیسویں ترمیم لانے کی باتیں بھی ہوتی رہی ہیں تاکہ صوبوں اور مرکز کے درمیان مالی وسائل کی از سر نو تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ غالباً یہ بیل سیاسی پارٹیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے اندر اور باہر اس کے نمائندے ملکی آبادی میں اضافے اور موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ لیکن نئے انتظامی یونٹ بنانے کی بات کرنے والے بھی کبھی غلطی سے یہ تقاضا نہیں کرتے کہ ملکی آئین تمام صوبائی حکومتوں کو لوکل انتخابات کرا کے، انتظامی اختیارات اور مالی وسائل ان لوکل انتظامی یونٹوں تک منتقل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن کسی صوبائی حکومت نے بھی فعال اور موثر لوکل باڈیز نظام استوار کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اگر نئے صوبے بنانے یا این ایف سی ایوارڈ ختم کرنے کا مطالبہ ٹھونسنے کی بجائے لوکل باڈیز کے انتخابات کرانے اور مقامی اداروں کو با اختیار بنانے کے آئینی تقاضے کو پورا کرنے پر زور دیا جائے تو عفریت بنی ہوئی صوبائی حکومتیں از خود ایک خاص حد کے اندر محدود ہو جاتیں۔ اس کے بعد نئے صوبوں کے قیام پر بحث کا آغاز زیادہ متوازن انداز میں ہو سکتا تھا۔
البتہ تبدیلی یا ’ری سیٹ‘ کی جو خبریں اس وقت قوم کو فراہم کی جا رہی ہیں، ان میں عوامی خواہشات و ضروریات کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ نیا انتظام زیادہ عوام دوست اور ملک کے لوگوں کی رائے پر استوار ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ ایک تبدیلی مسلط ہونے والی ہے۔ اس کے تحت نئے صوبے بنیں گے اور مرکز طاقت ور ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرکز ایوب خان کے زمانے کے ون یونٹ انتظام سے بھی زیادہ طاقت ور ہو جائے گا جس کے بطن سے بنگلہ دیش کے نام سے علیحدہ ملک ظہور پذیر ہوا؟ پاکستانیوں کو تبدیلی کی خبریں بتانے والے یہ کہنے پر بھی آمادہ نہیں ہیں کہ سیاسی انتظام پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور کوئی ایسی سیاسی سوچ ابھر کر سامنے آنے والی ہے جو ہائبرڈ نظام کی بجائے پارلیمنٹ کو طاقت ور اور لوگوں کو با اختیار دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے برعکس تبدیلی کی خبر بتانے والے یہ تاثر دیتے ہیں کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت میں تبدیلیاں کی جائیں گے۔ یعنی ڈوریاں ہلانے والے ایک بار پھر خود کو زیادہ مضبوط اور معاملات پر مسلط ثابت کریں گے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس میں عوام کے لیے خوش ہونے کی کیا بات ہے؟ کیا وجہ ہے کہ تبدیلی کی باتوں کو پراسرار طریقے سے پھیلا کر ملکی عوام کو کسی بڑی انتظامی تبدیلی کے لیے تیار کرنے والے گراں قدر صحافی اور تجزیہ نگار جمہوریت، آزادی اور معاملات میں عوام کی شرکت کے سوال کو نظر انداز کر کے اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کو ہمارا مقدر بتا کر خوش ہو رہے ہیں۔ اگر ہمارا صحافی بھی تبدیلی کی خبر دیتے ہوئے عوامی اختیار کی بات نہیں کرے گا تو اس ملک میں جمہوریت، بنیادی حقوق اور آزادی کی جنگ میں کون سامنے آئے گا؟
بشکریہ: کاروان ناروے
واپس کریں