دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جان بہ لب محکمۂ صحت میں 28 ارب کی بے ضابطگیاں، کنڈومز کی کمائی اور 27 ستمبر کا مارچ
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کی کہانی اب صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں، ادویات اور صحت کارڈ کی کہانی نہیں رہی، بلکہ اب یہ عوام کے پیسے کے حساب کتاب کا مقدمہ بھی بن چکا ہے۔ ایک طرف چودہ برس سے بلا شرکتِ غیرے اقتدار پر قابض پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ، احتجاج اور تصادم کے لیے پر تول رہی ہے اور دوسری طرف اسی صوبے کے صحت کے شعبے سے متعلق سرکاری آڈٹ کی ایسی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جنہیں نظرانداز کرنا کسی حکومت، کسی سیاسی جماعت اور کسی باشعور شہری کے لیے ناممکنات میں سے ہے۔ سوال بہت سادہ ہے: جس صوبے کے خزانے سے اربوں روپے صحت کے نام پر خرچ ہوئے، پہلے اس کا حساب ہوگا یا اسلام آباد کی طرف ایک اور ناکام سیاسی مہم جوئی ہوگی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ یہاں اعداد و شمار کسی سیاسی مخالف کے بیان سے نہیں لیے جا رہے ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حکومتِ خیبر پختونخوا کے شعبۂ صحت میں 2017-18 سے 2021-22 تک کے اقدامات پر ’’پرفارمنس آڈٹ رپورٹ‘‘ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس رپورٹ میں صحت کے مختلف منصوبوں، بالخصوص صحت سہولت پروگرام کے مالی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا اور متعدد سنگین بے ضابطگیوں اور کمزور نگرانی کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں سامنے آنے والی مالی بے ضابطگیوں کی مجموعی مالیت 28.61 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔ یہ رقم کوئی معمولی دفتری غلطی نہیں۔ اٹھائیس ارب اکسٹھ کروڑ روپے ایک ایسا حجم ہے جس کے ساتھ صوبے کے کتنے ہسپتالوں کی حالت بدلی جا سکتی تھی، کتنے ڈاکٹروں کی کمی پوری کی جا سکتی تھی، کتنی ضروری ادویات خریدی جا سکتی تھیں اور کتنے غریب مریضوں کو علاج فراہم کیا جا سکتا تھا، اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی ماہرِ اقتصادیات کی ضرورت نہیں۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اور عوام کو اس کے استعمال کا جواب ملنا چاہیے۔
صحت کارڈ کے معاملے میں آڈٹ نے مزید حیران کن صورتِ حال سامنے رکھی۔ دس اضلاع میں پروگرام کے لیے شامل 48 ہسپتالوں میں سے 17 ہسپتال ایسے تھے جو متعلقہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں صحت کارڈ کے تحت ادائیگیاں ہوئیں۔ یعنی تقریباً ہر تین میں سے ایک ہسپتال بنیادی رجسٹریشن کے سوال سے دوچار تھا۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت نے غریبوں کو علاج کیوں دیا؛ سوال یہ ہے کہ غریبوں کے علاج کے لیے بنائے گئے سرکاری پروگرام میں ہسپتال شامل کرنے سے پہلے بنیادی قانونی اور انتظامی جانچ کس نے کی؟ کس نے تصدیق کی؟ کس نے منظوری دی؟ اور جب ادائیگی ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر تھی؟
رپورٹ میں سوات کے دو نجی ہسپتالوں کو بھی نمایاں کیا گیا جنہیں متعلقہ رجسٹریشن کے سوال کے باوجود صحت کارڈ کے تحت ایک ایک ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں کی گئیں۔ یہ اعداد ایک عام شہری کے لیے شاید صرف ہندسے ہوں، مگر صوبے کے خزانے کے لیے یہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے ہیں۔ اگر کسی نجی ادارے کی اہلیت ہی سوال کے زد میں ہو تو اس کو اتنی بڑی رقم ادا کرنے سے پہلے حکومت کے پاس تصدیق کا کیا نظام تھا؟ اور اگر تصدیق ہوئی تھی تو پھر آڈٹ کے اعتراض کی وضاحت کیا ہے؟
اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال مریضوں کے ڈیٹا کا ہے۔ ایک ایسے صحت بیمہ پروگرام میں جس میں حکومت عوامی خزانے سے علاج کی ادائیگیاں کرتی ہے، مریض کا نام، شناخت، تشخیص، علاج، آپریشن، ہسپتال اور اخراجات کا مستند ریکارڈ بنیادی ضرورت ہے۔ مگر آڈٹ نے صحت کارڈ سے مستفید ہونے والے افراد کے مکمل ڈیٹا کی دستیابی اور مرکزی معلوماتی نظام کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ جب مکمل اور مربوط ڈیٹا ہی قابلِ اعتماد نہ ہو تو حکومت کیسے یقین کرے گی کہ ایک ہی مریض کے نام پر بار بار دعویٰ نہیں ہوا، غیر ضروری علاج کو ضروری بنا کر پیش نہیں کیا گیا، یا ایسا علاج جس کی ضرورت ہی نہیں تھی، اس کی ادائیگی نہیں ہو گئی؟
اور پھر آڈٹ نے ایک ایسے مسئلے کی طرف اشارہ کیا جو صحت کارڈ کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھاتا ہے: نجی ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی ارتکاز اور دعووں کی شفافیت کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق 2021 میں صحت کارڈ کے تحت 69 فیصد مریض نجی ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ آڈٹ نے سوات اور صوابی کے دو ہسپتالوں کا تقابلی جائزہ بھی لیا: سرکاری ہسپتال باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں 29,911 داخلوں کے مقابلے میں نجی ہسپتال سردار خان ہاسپٹل نے 14,999 داخلے رپورٹ کیے، مگر نجی ہسپتال کا دعویٰ ادائیگی 88.27 کروڑ روپے، جبکہ سرکاری ہسپتال کا دعویٰ ادائیگی صرف 33.826 کروڑ روپے تھا۔ آڈٹ نے واضح طور پر کہا کہ کلیم کی درستگی کی تصدیق اور شفافیت کے لیے تیسرے فریق یا خود محکمۂ صحت کی طرف سے مناسب جائزہ نہیں لیا گیا۔
یہ اعداد اپنے آپ میں کسی ہسپتال یا ڈاکٹر کو مجرم قرار نہیں دیتے۔ مگر یہ سوال ضرور پیدا کرتے ہیں کہ اگر تقریباً نصف مریضوں کے مقابلے میں ایک ادارہ ڈھائی گنا سے بھی زیادہ رقم کا دعویٰ کرے تو حکومت کی نگرانی کہاں ہے؟ علاج کا معیار، بیماریوں کی نوعیت، طریقۂ کار، مریضوں کی پیچیدگی اور اخراجات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ایسے غیر معمولی فرق کی آزادانہ جانچ تو ہونی چاہیے۔ آڈٹ کا اعتراض یہی ہے کہ ایسی تصدیق مناسب طور پر نہیں ہوئی۔
پھر اپر دیر کا وہ معاملہ سامنے آتا ہے جو صحت کارڈ کے نظام میں طبی دعووں کی نگرانی پر مزید بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔ محکمۂ صحت کی انکوائری کے حوالے سے رپورٹ ہوا کہ ایک نجی ہسپتال میں ایک سال کے دوران تقریباً 2,200 آپریشنز ہوئے، جن میں تقریباً 1,800 اپینڈکس کے آپریشنز تھے۔ اس معاملے میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دیر اپر سے وابستہ ایک ماہرِ معالج کے بارے میں رپورٹ ہوا کہ اس نے قریبی نجی ہسپتال میں صحت کارڈ کے تحت 775 اپینڈکس کے آپریشنز کیے۔ متعلقہ ڈاکٹر کو صحت کارڈ سے تقریباً 3 کروڑ روپے ملنے کی رپورٹ بھی موجود ہے۔ معاملہ اتنا غیر معمولی تھا کہ محکمۂ صحت کی انکوائری اور کارروائی کی نوبت آئی۔
اب ذرا اس عدد پر ٹھہریے: ایک ہی نجی ہسپتال، ایک سال، تقریباً 2,200 آپریشن، ان میں تقریباً 1,800 اپینڈکس کے آپریشن۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ 1,800 میں سے ہر آپریشن جعلی تھا، کیونکہ ایسا فیصلہ نہ آڈٹ نے دیا ہے نہ ہم عدالت ہیں۔ لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ 1,800 کا عدد ایک ایسا طبی رجحان ہے جس کی تفتیش و تحقیق کسی بھی ذمہ دار نظام کو فوراً کرنی چاہیے تھی۔ ہر مریض کا تشخیصی ریکارڈ کہاں ہے؟ ہر آپریشن کی طبی جواز کیا تھی؟ کیا آزادانہ میڈیکل آڈٹ ہوا؟ کیا یہ دیکھا گیا کہ ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کے اپینڈکس کے آپریشن کیسے ہوئے؟ اگر کسی ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت کے ساتھ نجی ادارے میں اتنی بڑی تعداد میں صحت کارڈ کے آپریشن کیے تو نگرانی کا نظام اس غیر معمولی سرگرمی سے پہلے کیوں بے خبر رہا؟ یہی وہ سوال ہیں جن کے جواب عوام چاہتے ہیں۔
اور اب آتے ہیں ادویات اور طبی سامان کی خریداری کی طرف۔ یہاں بھی اصل بحث کسی ایک چیز کے نام پر جذباتی ہونے کی نہیں بلکہ سرکاری پیسے اور سرکاری ریکارڈ کی ہے۔ اگر کسی خریداری کی ضرورت پر سوال اٹھے، اگر سامان کی وصولی کا ریکارڈ واضح نہ ہو، اگر اضلاع کو معلوم نہ ہو کہ ان کے نام پر کیا منگوایا گیا، اور اگر اربوں روپے کی خریداری کے بعد ریکارڈ اور ضرورت دونوں سوال بن جائیں تو حکومت کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
اور یہاں ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جس نے محکمۂ صحت کی خریداری کے نظام پر ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے: کنڈومز کی خریداری۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق محکمۂ صحت نے ضروری ادویات کے لیے مختص رقم سے 12 لاکھ کنڈومز خریدے۔ فی کنڈوم قیمت 18.75 روپے تھی، یوں صوبائی خزانے سے مجموعی طور پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ ادائیگی نجی فرم کو 7 فروری 2024 کو کی گئی۔ لیکن آڈٹ کے مطابق سپلائی آرڈر 29 جنوری 2024 کو جاری ہوا، جبکہ سپلائر کی دستاویزات میں ان کنڈومز کی تیاری کی تاریخ اپریل 2024 درج تھی۔ مزید حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ ضلعی صحت دفاتر نے 2 فروری 2024 کو ان کنڈومز کی وصولی ظاہر کی، جبکہ درآمدی دستاویزات میں نومبر 2023 کا ذکر موجود تھا۔ یعنی دستاویزی ریکارڈ میں سامان کی وصولی اور تقسیم اس کی درج شدہ تیاری کی تاریخ سے بھی پہلے ظاہر ہوئی۔
آڈٹ کے مطابق یہ 12 لاکھ کنڈومز چھ اضلاع کے ضلعی صحت دفاتر کو فراہم کیے گئے۔ ان میں شمالی وزیرستان کو 7 لاکھ، باجوڑ کو 60 ہزار، لوئر دیر کو ایک لاکھ، ملاکنڈ کو ایک لاکھ 50 ہزار اور کرم کو 50 ہزار کنڈومز دیے گئے۔ صرف شمالی وزیرستان کو 7 لاکھ کنڈومز دیے گئے جو کل مقدار کا تقریباً 58 فیصد بنتے ہیں۔ آڈٹ نے سوال اٹھایا کہ خریداری سے پہلے کسی ضلعی ہسپتال یا ضلعی صحت دفتر سے طلب کا تخمینہ کیوں نہیں لیا گیا، خریداری اور تقسیم کے لیے معیاری طریقۂ کار کیوں نہیں بنایا گیا، اور صرف چھ اضلاع کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا۔
مسئلہ صرف اتنا بھی نہیں تھا۔ آڈٹ کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں یہ واضح نہیں تھا کہ ضلعی صحت دفاتر میں کن اہلکاروں نے یہ کنڈومز وصول کیے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پشاور اور متعلقہ ضلعی صحت دفاتر نے تقسیم کی تصدیق بھی نہیں کی۔ محکمۂ صحت یہ بھی واضح نہیں کر سکا کہ ضروری ادویات کے بجٹ سے کنڈومز خریدنے کی ہدایت کس نے دی تھی۔ آڈٹ نے اس قبل از وقت وصولی اور تقسیم، بغیر دستاویزی طلب کے خریداری اور ریکارڈ کی خامیوں کو 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کے مبینہ خردبرد کے معاملے کے طور پر نشان زدہ کیا اور حقائق معلوم کرنے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور رقم کی وصولی کی سفارش کی۔
یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ کنڈوم کوئی غیر ضروری طبی چیز نہیں اور خاندانی منصوبہ بندی اور متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ان کی طبی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اصل سوال کنڈوم نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خریداری کس ضرورت کے تحت ہوئی، کس بجٹ سے ہوئی، کس نے منظوری دی، سامان کب تیار ہوا، کب درآمد ہوا، کب وصول ہوا، کس نے وصول کیا اور کس بنیاد پر اضلاع میں تقسیم ہوا۔ اگر خریداری جائز تھی تو حکومت ریکارڈ سامنے لائے؛ اگر ضرورت تھی تو اس کا ثبوت دے؛ اگر سامان وصول ہوا تو اس کا اندراج دکھائے؛ اور اگر کسی نے عوامی خزانے کو نقصان پہنچایا تو اس سے رقم واپس لے۔
یہی اچھی حکمرانی ہوتی ہے۔
اچھی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت ہر تنقید کو سیاسی سازش قرار دے۔ اچھی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت خود اپنے حساب کی محافظ بنے۔ آڈیٹر جنرل سوال اٹھائے تو جواب دیا جائے۔ آڈٹ پیرا بنے تو ذمہ داری طے کی جائے۔ انکوائری ہو تو رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے۔ جرم ثابت ہو تو سزا ہو۔ اور اگر الزام غلط ہو تو حکومت دستاویز کے ساتھ اسے غلط ثابت کرے۔
مگر یہاں اصل المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں چودہ سال کی مسلسل سیاسی حکمرانی کے بعد بھی سیاسی توانائی کا ایک بڑا حصہ حکومت چلانے سے زیادہ حکومت بچانے، مرکز سے لڑنے اور نئے سیاسی معرکے کھڑے کرنے میں صرف ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ صوبے کے عوام کے سامنے امن کا مسئلہ ہے، صحت کا مسئلہ ہے، تعلیم کا مسئلہ ہے، روزگار کا مسئلہ ہے، سرکاری اداروں کی کارکردگی کا مسئلہ ہے؛ لیکن سیاسی منظرنامہ ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے۔
27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاج سیاسی حق ہے۔ اختلافِ رائے بھی سیاسی حق ہے۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانا بھی جمہوری حق ہے۔ مگر حکومت میں رہتے ہوئے احتجاج کی سیاست کا ایک بنیادی تضاد ضرور پیدا ہوتا ہے: جس جماعت کے پاس صوبائی حکومت ہے، وہ پہلے اپنے صوبے کے عوام کو کیا جواب دے گی؟
اگر سیاسی مارچ کے لیے لاکھوں نہیں، کروڑوں روپے جمع کیے جا سکتے ہیں تو صحت کے نظام کی نگرانی کے لیے مضبوط آڈٹ میکنزم کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ اگر کارکنوں کو اسلام آباد پہنچانے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے تو ہسپتالوں کے ادائیگی کے کلیمز کی آزادانہ تصدیق کیوں نہیں ہو سکتی؟ اگر جلسوں اور مارچوں کے لیے سیاسی مشینری دن رات متحرک ہو سکتی ہے تو سرکاری ہسپتالوں میں مریض کے علاج کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے وہی عزم کیوں نظر نہیں آتا؟
اسلام آباد کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، جیسے خیبر پختونخوا بھی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں۔ دونوں جگہ عوام رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام آباد کے لیے سیاسی مارچ کرنے والوں کو پہلے خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے اپنا انتظامی حساب رکھنا چاہیے۔
ہم صحت کارڈ کے مخالف نہیں۔ بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ صحت کارڈ بچے، مضبوط ہو، شفاف ہو اور غریب مریض کے لیے حقیقی سہارا بنے۔ لیکن کوئی بھی فلاحی منصوبہ اتنا مقدس نہیں ہو سکتا کہ اس میں عوام کے اربوں روپے خرچ ہوں اور حساب نہ لیا جائے۔ اگر نجی ہسپتال بہتر علاج دیتے ہیں تو انہیں شامل کریں، مگر معیار اور ریکارڈ کے ساتھ۔ اگر سرکاری ہسپتال کمزور ہیں تو انہیں بہتر کریں، نہ کہ عوام کے اعتماد کو مستقل طور پر نجی شعبے کی طرف دھکیل کر سرکاری نظام کو مزید کمزور چھوڑ دیں۔ خود آڈٹ رپورٹ نے سرکاری ہسپتالوں پر صحت کارڈ سے مستفید ہونے والوں کے نسبتاً کم اعتماد اور نجی ہسپتالوں میں زیادہ داخلوں کو نوٹ کیا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 28.61 ارب روپے کی آڈٹ بے ضابطگیوں کا مطلب 28.61 ارب روپے کی ثابت شدہ چوری نہیں۔ یہ فرق ہم پوری دیانت داری سے برقرار رکھیں گے۔ لیکن اسی دیانت داری کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ کوئی حکومت آڈٹ کے اتنے بڑے سوالات کو معمولی انتظامی غلطی کہہ کر دفن بھی نہ کرے۔ آڈٹ سوال اٹھاتا ہے؛ حکومت کا فرض ہے کہ جواب دے، ریکارڈ فراہم کرے، ذمہ داری متعین کرے اور جہاں جرم ثابت ہو وہاں قانون حرکت میں آئے۔
ہم کسی کو چور اس وقت کہیں گے جب چوری ثابت ہو۔ لیکن جہاں آڈٹ بے ضابطگی کہتا ہے وہاں ہم بے ضابطگی کہیں گے، جہاں انکوائری سوال اٹھاتی ہے وہاں سوال اٹھائیں گے، اور جہاں عوام کے پیسے کا حساب مانگنا بنتا ہے وہاں حساب مانگیں گے۔
نرمی اس لیے نہیں کہ معاملہ بڑا ہے۔
خاموشی اس لیے نہیں کہ سیاسی جماعت طاقتور ہے۔
معافی اس لیے نہیں کہ حکومت چودہ سال سے اقتدار میں ہے۔
عوام کا پیسہ کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں، ریاست کی امانت ہے۔
اس لیے 27 ستمبر کے مارچ سے پہلے خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت سے چند سوالات کا جواب مانگنا کوئی سیاسی جرم نہیں: 28.61 ارب روپے کی آڈٹ بے ضابطگیوں کا کیا بنا؟ 17 غیر رجسٹرڈ ہسپتال صحت کارڈ کے پینل تک کیسے پہنچے؟ سوات کے ان اداروں کو ادائیگیاں کس بنیاد پر ہوئیں؟ مریضوں کا مکمل ڈیٹا کیوں دستیاب نہیں تھا؟ ادائیگی دعووں کی آزادانہ تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے ادائیگی دعووں میں اتنا بڑا فرق کیوں پیدا ہوا؟ اپر دیر میں 1,800 اپینڈکس آپریشنز کے غیر معمولی پیٹرن کی بروقت نگرانی کیوں نہ ہوئی؟ 12 لاکھ کنڈومز کی 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خریداری ضروری ادویات کے بجٹ سے کس منظوری کے تحت ہوئی؟ 29 جنوری کے سپلائی آرڈر کے بعد اپریل 2024 کی تیاری کی تاریخ رکھنے والا سامان 2 فروری کو کیسے وصول ہو گیا؟ نومبر 2023 کے درآمدی کاغذات اس تضاد کی کیا وضاحت کرتے ہیں؟ شمالی وزیرستان کو کل 12 لاکھ میں سے 7 لاکھ کنڈومز کیوں دیے گئے؟ ان کی وصولی اور تقسیم کی تصدیق کس نے کی؟ اور سرکاری خزانے سے ہونے والی ہر مشکوک یا غیر واضح ادائیگی کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ سوالات کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں۔
یہ سوالات خیبر پختونخوا کے مریض کے حق میں ہیں۔
یہ سوالات اس ماں کے حق میں ہیں جو اپنے بچے کو ہسپتال لے جاتی ہے۔
یہ سوالات اس غریب آدمی کے حق میں ہیں جو سمجھتا ہے کہ صحت کارڈ واقعی اس کا حق ہے۔
یہ سوالات اس ٹیکس دہندہ کے حق میں ہیں جس کے پیسے سے حکومتیں چلتی ہیں۔
اور یہ سوالات اس صوبے کے حق میں ہیں جس نے چودہ برس تک تبدیلی کے وعدے سن کر ووٹ دیا۔
اب نعرے بہت ہو چکے۔
حساب دو۔
ریکارڈ دکھاؤ۔
ذمہ داری طے کرو۔
اور جہاں جرم ثابت ہو، مجرم کو قانون کے مطابق سزا دو۔
اسلام آباد کا راستہ بعد میں بھی موجود رہے گا۔
پہلے خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت کا حساب دو۔
واپس کریں