
مہنگائی نے معاشرے کے تقریباً ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ہر محفل،دکان اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مہنگائی کا شکوہ سنائی دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ گزارا مشکل ہوگیا ہے، آمدنی کم اور اخراجات بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عوام واقعی مہنگائی سے اتنے پریشان ہیں تو اس کے خلاف عملی اور منظم احتجاج کیوں نہیں کرتے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام مہنگائی سے متاثر نہیں یا انہیں احتجاج کا حق نہیں، بلکہ یہ ایک طنزیہ انداز میں ہمارے اجتماعی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم مہنگائی پر شور تو بہت کرتے ہیں، لیکن اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر اسی نظام کو قبول کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
عوام کےاس رویے کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ کہ عام آدمی اپنی روزی کمانے میں اتنا مصروف ہے کہ طویل احتجاج یا اجتماعی جدوجہد کے لیے وقت اور وسائل نہیں نکال پاتا۔ ایک مزدور اگر ایک دن کام نہ کرے تو اس کے گھر کا چولہا متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک دکاندار، ڈرائیور یا ملازم کے لیے بھی مسلسل احتجاج میں شریک ہونا آسان نہیں۔
دوسری بڑی وجہ اجتماعی اتحاد کا فقدان ہے۔ لوگ انفرادی طور پر مہنگائی کی شکایت کرتے ہیں، مگر مشترکہ مقصد کے لیے منظم ہونا مشکل سمجھتے ہیں۔ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ اگر میں اکیلا احتجاج کروں گا تو کیا فرق پڑے گا؟ نتیجتاً لاکھوں افراد کی ناراضی ایک مضبوط اجتماعی آواز میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔
اس کے علاوہ عوام میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ احتجاج سے شاید کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ماضی کے تجربات، سیاسی اختلافات اور اداروں پر عدم اعتماد نے بہت سے لوگوں کو مایوس کردیا ہے۔ چنانچہ وہ عملی جدوجہد کے بجائے صرف شکایت، بحث اور سوشل میڈیا پر غصے کے اظہار کو کافی سمجھتے ہیں۔
ایک ذمہ دار معاشرے میں شہری اپنے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھاتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی شے کی قیمت ناجائز طور پر بڑھائی جائے تو صارفین اجتماعی طور پر اس کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں، متعلقہ اداروں کو شکایت کرسکتے ہیں، پُرامن احتجاج کرسکتے ہیں اور اپنے منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ووٹ کے ذریعے بھی عوام اپنی معاشی ترجیحات اور حکمرانوں کے احتساب کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
حقیقی تبدیلی صرف سڑکوں پر نعرے لگانے سے نہیں آتی بلکہ شعور، اتحاد، مسلسل جدوجہد اور ذمہ دارانہ شہری کردار سے آتی ہے۔ اگر عوام ہر مسئلے پر صرف شکایت کریں اور پھر خاموشی سے اسے قبول کرلیں تو حکمرانوں اور طاقتور طبقات پر اصلاح کے لیے دباؤ کم ہوجاتا ہے۔
"عوام روتے بھی ہیں اور کھاتے بھی ہیں" ہمارے لیے محض ایک طنزیہ جملہ نہیں بلکہ ایک سوال ہے: کیا ہم صرف شکایت کرنے والے شہری ہیں یا اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور عملی جدوجہد کرنے والے باشعور لوگ بھی ہیں؟ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی اتحاد، سیاسی و معاشی شعور اور آئینی و پُرامن طریقوں سے اجتماعی آواز اٹھانا ضروری ہے۔ صرف شور مچانے سے حالات نہیں بدلتے؛ تبدیلی کے لیے آواز کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔
واپس کریں