دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وکلاء الیکشنز۔ پریکٹس کی مشہوری یا عدالتی نظام کی اصلاح؟
No image ملک بھر کی بار کونسلوں اور وکلاء کی دیگر تنظیموں میں تقریباً سال بھر الیکشن منعقد ہوتے رہتے ہیں،جس میں کامیاب ہونے والے وکلاء حضرات کا مقصد ظاہر ہے اپنی پریکٹس کی مشہوری،عدلیہ میں اثر و رسوخ کا حصول اور پھرعدلیہ اور حکومت میں اعلی سرکاری عہدوں تک رسائی وغیرہ ۔اس سارے عمل میں بذاتِ خود کوئی بھی نامناسب بات نہیں۔ جمہوری طریقے سے اپنے نمائندے منتخب کرنا اور پیشہ ورانہ تنظیموں میں فعال کردار ادا کرنا حق ہے اور بعض اوقات مفید بھی لیکن خاکسار کی طرح ایک عام سائل جو ریگولر عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے اور جب وہ ہر کچھ ہفتوں بعد کچہری یا عدالتوں کے احاطے میں وکلاء الیکشن مہم کے بڑے بڑے بینر اور پوسٹرزکی رونقیں دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال ابھرتا ہے کہ جتنی محنت وکلاء حضرات اپنے الیکشن کے لیئے کرتے ہیں اگر اتنی ہی محنت سے اس ملک کے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیئے کریں،عدلیہ کے ججوں کو مجبور کریں کے وہ مقدمات کو لٹکانے کے بجائےفیصلے برقت کریں،تا کہ وکلاء اور ان کے کلائنٹس کا وقت برباد نہ ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔اگر وکلاء حضرات اپنی انفرادی اور اجتماعی توانائی کا وہی حصہ جو ان کی الیکشن مہم پر صرف ہوتا ہے،اپنے عدالتی نظام کی بہتری پر لگائیں تو کیا صورت حال مختلف نہ ہو؟
گو کہ وکلاء حضرات کا بنیادی کام اپنے موکلوں کے حقوق کا دفاع کرنا ہے مگر وہی وکلاء جب اجتماعی طور پر متحرک ہوتے ہیں تو ان کی آواز وزن رکھتی ہے۔ اگر یہ توانائی مقدمات کی تاخیر کے خلاف مؤثر دباؤ پیدا کرنے، کیس مینجمنٹ کے بہتر نظام پر زور دینے، غیر ضروری التواؤں کو کم کرنے، اور ججوں کو بروقت فیصلے دینے کی طرف راغب کرنے میں صرف ہو تو نہ صرف موکلوں کا وقت بچے گا بلکہ وکلاء خود بھی زیادہ مؤثر طریقے سے پریکٹس کر سکیں گے۔ تاخیر سے نہ صرف سائل متاثر ہوتا ہے بلکہ وکلاء کی پریکٹس بھی غیر یقینی اور طویل ہو جاتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ نظام کی خرابیاں صرف وکلاء کی ذمہ داری نہیں۔ وسائل کی کمی، مقدمات کا بوجھ، پروسیجرل پیچیدگیاں، اور دیگر عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر وکلاء کی تنظیمیں، بار کونسلز اور نمائندہ ادارے ان مسائل پر بات کرنے، تجاویز پیش کرنے، اور مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ الیکشن کی مہم جتنی منظم، پرجوش اور وسائل سے بھرپور ہوتی ہے، اگر اس کا کچھ حصہ عدالتی اصلاحات، ٹرائل کورٹس کی کارکردگی، اور بروقت انصاف کی تحریک پر خرچ ہو تو عام سائل کو بھی احساس ہو کہ پیشہ ورانہ تنظیموں کا مقصد صرف عہدے اور اثر نہیں بلکہ نظام کی بہتری بھی ہے۔
وکلاء الیکشن کا حق اور پیشہ ورانہ ترقی کا حصول جائز ہے۔ مگر جب عام آدمی بار بار الیکشن کے بینر دیکھ کر سوچے کہ اتنی ہی محنت نظام کو بہتر بنانے میں لگ جائے تو یہ سوچ قابل غور ہے۔ وکلاء اگر اپنی اجتماعی طاقت کو تاخیر کے خاتمے اور بروقت انصاف کی طرف موڑیں تو نہ صرف ان کی پریکٹس کو فائدہ ہوگا بلکہ پورے معاشرے کا اعتماد عدلیہ پر بڑھے گا۔
واپس کریں