دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیلاب، ہمارا سالانہ المیہ
No image احتشام الحق شامی ۔راولپنڈی اور اسلام آباد میں حالیہ سیلابی صورت حال بنیادی طور پر شدید مون سون بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی، مگر اس کے اثرات کو کئی انسانی اور انتظامی عوامل نے شدید بنا دیا۔تا دم تحریر تقریباً 200 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی (شمس آباد میں 197-201 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 185-186 ملی میٹر وغیرہ)، جس سے نالہ لئی میں پانی کی سطح 27 سے 29 فٹ تک پہنچ گئی ہے، نشیبی علاقے ڈوب گئے، سڑکیں زیر آب اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ فوج اور ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں ہیں۔
قصور کس کا ہے؟ ظاہر ہے کہ قصور ادارہ جاتی ناکامی کا ہے اور ذمہ دار ادارے واسا ، راولپنڈی میونسپل کارپوریشن ، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور کینٹونمنٹ بورڈز ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتی سطح پر بھی طویل المیعاد منصوبہ بندی اور نفاذ کی کمی نموادار ہوئی ہے۔
حالیہ سیلابی مسئلہ ہر مون سون میں دہرایا جاتا ہے اور حکام خود بھی اسے "گورننس فیلئیر" قرار دیتے ہیں۔ حالات پیش آنے کے بعد ردعمل دیا جاتا ہے، جبکہ روک تھام کمزور رہتی ہے۔
شہر کی ڈرینج پرانی اور چھوٹی آبادی کے لیے بنائی گئی تھی۔ آبادی اور تعمیرات بڑھنے کے باوجود صلاحیت نہیں بڑھائی گئی۔ نالے اور سیوریج سسٹم دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔
نالہ لئی جو کہ اسلام آباد سے راولپنڈی آتا ہے کی چوڑائی تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور تعمیراتی ملبے کی وجہ سے تنگ ہو چکی ہے۔ کناروں پر آبادیاں، پلاٹنگ اور ڈھانچے بن گئے ہیں، جس سے پانی کا قدرتی بہاؤ رک جاتا ہے۔ یہ مسئلہ دہائیوں سے چل رہا ہے۔
نالوں میں گھریلو کچرا، پلاسٹک اور تعمیراتی ملبہ ڈالا جاتا ہے، جو انہیں بند کر دیتا ہے۔ مین ہولز بغیر کور کے رہتے ہیں اور باقاعدہ صفائی/ڈیسِلٹنگ نہیں ہوتی۔ فنڈز کی کمی کا بہانہ بھی کیا جاتا ہے۔
گرین بیلٹس، کھلی جگہیں اور قدرتی پانی کے راستے کنکریٹ اور عمارتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں جس باعث بارش کا پانی جذب نہیں ہوتا بلکہ تیزی سے نالوں میں بہہ رہا ہے۔
دوسری جانب موسم کی پیش گوئی کی صلاحیت محدود ہے ۔ الرٹ کے باوجود مؤثر کارروائی تاخیر سے ہوٗی ہے۔
بارش قدرتی ہے، مگر سیلاب "انسان ساختہ" ہے۔ تجاوزات ہٹانا، نالے صاف رکھنا، ڈرینج کی صلاحیت بڑھانا، اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ ہر سال صرف ردعمل دینے کی بجائے روک تھام پر کام کرنا چاہیے تاکہ یہ سالانہ المیہ نہ بنے۔
واپس کریں