دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عوام کی حالتِ زار اور معاشی بہتری سے متعلق حکومتی دعوے
No image پاکستان میں مہنگائی اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ کوئی جاروبی بیان (sweeping statement)نہیں ہے بلکہ ایسی زمینی حقیقت ہے جو اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اعداد و شمار کسی حکومتی عہدیدار کی طرف سے جلسے یا انٹرویو وغیرہ میں پیش نہ کیے جا رہے ہوں۔ مہنگائی اور غربت میں اضافے کے باوجود حکومت اور اشرافیہ کی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی جس کی وجہ سے مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اسی خبر سے ہو جاتی ہے کہ رواں مالی سال یعنی 2026-27ء کے پہلے ماہ (جولائی) میں ملکی درآمدات 19 فیصد بڑھنے کے باعث تجارتی خسارے میں 26 فیصد اضافہ ہوگیا۔ ادارۂ شماریات کے مطابق، غذائی اجناس، گاڑیوں اور مشینری سمیت مختلف اشیاء کی درآمد میں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ جولائی میں 80 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئیں جن کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 224 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ درآمدات کے ضمن میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جولائی میں 112 میٹرک ٹن چینی بھی درآمد کی گئی۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی اشیائے خور و نوش کس طبقے کے استعمال میں آتی ہیں۔ عام آدمی تو اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ مقامی اشیاء خریدکر اپنی بنیادی ضروریات ہی پوری کر سکے کیونکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کر کے تقریباً تمام اشیاء کو قیمتوں کو بڑھانے کا ایسا جواز پیدا کر دیا ہے جس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ ادارۂ شماریات، جو وفاقی حکومت کا ایک محکمہ ہے، اس کی طرف سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ ایل پی جی، آٹے، سبزیوں اور پھلوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ ان قیمتوں کے مقابلے میں عام آدمی کی آمدن وہیں کھڑی ہے، لہٰذا ہر گھر کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور لوگ بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی نہیں خرید پا رہے۔
اسی مسئلے کو بنیاد بنا کر جماعتِ اسلامی احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت امن، محفوظ ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے اور عوام کے سامنے صرف چند نمائشی اقدامات پیش کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے خواتین کو گھریلو مسائل میں مبتلا کر دیا۔ مائیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ لوگوں کے چولھے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔ حکومت نے بنیادی مراکز صحت سے متعلق ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے پاس ڈاکٹروں کو دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں نے عوام کو مزید غریب کر دیا ہے۔ حکمران عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں اور عوام پر بجلی اور لیوی بم گرائے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کے مظالم سے معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکومت کو اپنی ڈھٹائی ختم کر کے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں خواتین کی بڑی تعداد مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث احتجاج میں شریک ہے۔
یہ بات ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے، مہنگائی پر قابو پانے اور غربت میں ہونے والے اضافے کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود حکومتی عہدیداروں کے بیانات اور سرکاری اجلاسوں سے ایسا لگتا ہے کہ ملک مسلسل ترقی و استحکام کی جانب گامزن ہے اور عوامی مسائل کی بات کرنے والے حقائق بیان نہیں کرتے بلکہ وہ حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی صدارت میں ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے اجلاس کو ہی دیکھ لیجیے جس میں خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے کی تعمیر، لیسکو، حیسکو اور پیسکو میں بجلی کی تقسیم کے نظام کی استعداد کار میں بہتری کے منصوبے، تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے جیسے پراجیکٹس کے علاوہ جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے منصوبے پر بھی بات کی گئی۔ محض جنوبی پنجاب کے ذکر سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے باقی پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہے اور جنوبی پنجاب پیچھے رہ گیا ہے، لہٰذا وہاں بھی غربت کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔
ادھر، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں زرعی شعبے کی اصلاحات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی معاونت ترجیح ہے۔ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے اور چھوٹے کسانوں کے لئے زرعی جدت سے استفادہ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین سے زرعی تربیت کے بعد طلبہ کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے، چین میں تربیت کے لیے طلبہ کے انتخاب میں میرٹ کو ترجیح دی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ فصلوں کی پیداوار کے قومی تخمینوں کا جامع پلان مرتب، این اے آر سی اور پی اے آر سی کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سنٹر کی اصلاحات کی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کی مصروفیات اور ان کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ سب اچھا چل رہا ہے، عام آدمی سکون کی زندگی جی رہا ہے، مہنگائی سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ترقی کی منزل بس چند قدم کی دوری پر ہے، اور سرکاری اجلاسوں کے ذریعے یہ احساس اس ملک میں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں حکومت اس قابل بھی نہیں ہے کہ ایک مہینہ یا پندھرواڑا تو دور کی بات ایک ہفتے کے لیے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اطلاق کر سکے یا اشیائے خور و نوش سے متعلق اپنی اعلان کردہ قیمتوں پر ان اشیاء کی خرید و فروخت یقینی بنا سکے۔ اس سب کے ذریعے حکومت عام آدمی کے دل میں صرف حکومت ہی نہیں، جمہوری نظام کے لیئے بھی بدگمانیاں بڑھا رہی ہے۔ اگر حکمران طبقات نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب عام عوام اپنے حقوق کے لیے خود سڑکوں پر نکل آئیں گے!
واپس کریں