دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خلوت کا بیانیہ، جلوت کا بیانیہ
زین سہیل وارثی
زین سہیل وارثی
2012 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جانا ہوا۔ ملک انگریزوں کا تھا، تہذیب و تمدن ہمارے معاشرے سے بہت مختلف ہیں، ہمارے ایک انتہائی قریبی دوست ہم سے ملنے آئے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ یہاں کن باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے، آخر ایک بالکل مختلف معاشرے میں زندگی گزارنی تھی۔
باتوں باتوں میں پاکستان کا تذکرہ ہوا تو فرمانے لگے:
"یہاں کسی کو مت بتانا کہ تم پاکستان سے ہو۔"
میں ورطۂ حیرت میں پڑ گیا۔ پوچھا: "کیوں جناب؟"
فرمانے لگے: "کوئی پوچھے تو کہنا پنجاب سے ہوں۔ زیادہ پوچھے تو کہنا کہ پاکستان اور بھارت کے بارڈر کے قریب سے ہوں۔"
میں نے حیرت سے پوچھا: "یہ کیا بات ہوئی؟"
وہ مسکرائے اور کہا:
"زندگی میں ہمیشہ دو بیانیے رکھو؛ ایک خلوت کا اور ایک جلوت کا۔ زندگی آسان، حسین اور خوب صورت گزرے گی۔"
اس وقت یہ بات ایک عجیب مشورہ محسوس ہوئی۔ مگر زندگی کے سفر میں آگے بڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کا مشورہ نہیں تھا، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی حقیقت تھی جس میں ہم میں سے بیشتر لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔
میری زندگی کے بھی یہی دو بیانیے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ میری زندگی کا حصہ تو تھے، مگر ان کی حقیقت مجھ پر بائیس سال بعد آشکار ہوئی۔
میں بحیثیت مسلمان اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ بچپن میں جب بھی گھر والوں نے نماز کے بارے میں پوچھا، میں نے اکثر جھوٹ بولا کہ نماز پڑھ لی ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نماز پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ اگر کبھی پڑھتا بھی تھا تو کبھی والدین کے خوف سے، کبھی محلے داروں کے خوف سے، کبھی اساتذہ کے خوف سے اور کبھی قاری صاحب کے خوف سے، دل سے، اپنے رب سے ملاقات کے احساس کے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت کم ہی نصیب ہوئی۔
زندگی کے دوسرے معاملات بھی کچھ مختلف نہ تھے۔ تعلیم حاصل کی تو کبھی والدین کے دباؤ میں، ملازمت کی تلاش کی تو معاشرتی توقعات کے تحت، اخلاقی اقدار کی پابندی کی تو لوگوں کے خوف سے، بہت سے کام اپنی خواہش، شعور اور اندرونی اطمینان سے نہیں بلکہ اس خوف سے کیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
رفتہ رفتہ انسان دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کی کوشش میں اپنے ہی اندر سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ انسان کو یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ وہ حقیقت میں چاہتا کیا ہے۔
شاید یہی ہمارے اجتماعی المیے کی بنیاد ہے۔
ہمارے ہاں ہر شخص کی زندگی کے دو بیانیے ہیں: ایک خلوت کا اور ایک جلوت کا۔
جلوت میں ہم وہ ہیں جو معاشرہ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے، اور خلوت میں وہ جو ہم حقیقت میں ہیں۔
ہمارے کسی سرکاری افسر سے ملیے، جلوت میں وہ رشوت لینے والے کو گناہ گار اور معاشرے کا ناسور قرار دیتا ہے، مگر خلوت میں وہ خود رشوت لینے اور دینے کے نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کو دیکھیے، حزبِ اختلاف میں جلوت کا بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کے تمام مسائل کا حل ہمارے پاس ہے۔ اقتدار میں پہنچتے ہی خلوت کا بیانیہ سامنے آتا ہے کہ مسائل ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھے، حالات ہمارے اختیار میں نہیں تھے اور ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ صورتِ حال اتنی خراب ہے۔
علماء کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ جلوت میں معمولی دینی اختلاف کو فرقہ واریت اور حق و باطل کی جنگ بنا دیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے عوام میں تقسیم پیدا ہوتی ہے اور تقسیم سے اثر و رسوخ بڑھتا ہے؛ مگر خلوت میں وہی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے، ملتے اور گھلتے ملتے ہیں۔
جلوت میں ہم سب نیکوکار ہیں، خلوت میں ہم سب اپنے اپنے گناہوں سے واقف ہیں۔
جلوت میں عسکری بیانیہ جمہوریت کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر خلوت میں جمہوری عمل کے خلاف سازشوں کی کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ جلوت میں سیاست دان اور عسکری ذرائع ایک صفحے پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر خلوت میں ایک دوسرے سے شاکی نظر آتے ہیں۔
جلوت میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر خلوت میں ان کے برتن تک الگ رکھنے میں ہمیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔
من حیث القوم جلوت میں ہم اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہش مند ہیں، مگر جب خلوت میں ووٹ دینے کا وقت آتا ہے تو کسی مذہبی جماعت کو اقتدار کے قابل اکثریت نہیں دیتے۔
جلوت میں ہم ہر سیاسی جماعت کی قیادت کو جمہوریت کا درس دیتے سنتے ہیں، مگر خلوت میں اپنی ہی جماعت کے اندر اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کرتے۔ جلوت میں "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگتا ہے، مگر خلوت میں اپنی جماعت کے سربراہ کو مطلق العنان بنانے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
جلوت میں برادری، زبان اور ذات کی بنیاد پر تقسیم کو برا سمجھتے ہیں، مگر خلوت میں اپنی اولاد کے رشتے بھی اکثر انہی تعصبات کی بنیاد پر طے کرتے ہیں۔
جلوت میں دہلی پر پاکستان کا پرچم لہرانے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر خلوت میں جانتے ہیں کہ یہ ایک جذباتی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر یہ ممکن ہوتا تو شاید ہندوستان آج بھی اسی شکل میں موجود نہ ہوتا۔
جلوت میں ہر بڑا بھائی ایثار و قربانی کا پیکر ہوتا ہے، مگر خلوت میں اکثر اپنی بیوی کے سامنے تمام اصول بھول جاتا ہے۔
جلوت میں شوہر نامدار سنجیدہ، بااصول اور باوقار شخصیت کا مالک ہوتا ہے، مگر خلوت میں اس کی شخصیت کی ایک بالکل مختلف رومانوی داستان ہوتی ہے۔
جلوت میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے اربابِ اختیار، خواہ کسی سیاسی جماعت یا اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہوں، ہمیشہ صادق اور امین نہیں رہے۔ مگر خلوت میں ہم اپنے پسندیدہ رہنما کو نجات دہندہ ثابت کرنے کے لیے دلیل، اخلاق اور سچ تک قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
جلوت میں جہیز ایک لعنت اور گالی ہے، مگر خلوت میں یہی معاشرہ اسے "رسم"، "ضرورت" اور "عزت" کے نام پر طلب کرتا ہے۔
جلوت میں بیٹی اللہ کی رحمت ہے، مگر خلوت میں بعض گھرانے بیٹے کی خواہش میں بیٹی کی پیدائش پر افسردہ ہو جاتے ہیں۔
جلوت میں ہم عورت کے وراثتی حق کے علمبردار ہیں، مگر خلوت میں اسی عورت سے اس کا حق معاف کروا لیتے ہیں۔
جلوت میں ہر قسم کے نشے کو مضرِ صحت قرار دیتے ہیں، مگر خلوت میں خود اس کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر جب زہریلی شراب یا کسی اور نشے سے اموات ہوتی ہیں تو ہمیں اچانک صحت اور اخلاقیات کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
یہ دو بیانیے اچانک ہماری زندگی میں پیدا نہیں ہوتے۔ بچپن ہی سے ہم انہیں سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
بچے کو سچ بولنے کا درس دیا جاتا ہے، مگر گھر کی گھنٹی بجتے ہی اسے کہہ دیا جاتا ہے: "کہہ دینا ابو گھر پر نہیں ہیں۔"
اسے نماز کی تلقین کی جاتی ہے، مگر نماز کا مقصد رب سے تعلق کے بجائے لوگوں کے سامنے نیک دکھائی دینا بن جاتا ہے۔
اسے ایمانداری سکھائی جاتی ہے، مگر عملی زندگی میں "کام نکلوانے" کے لیے سفارش، رشوت اور جھوٹ کو معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یوں بچہ سچ اور جھوٹ کے درمیان نہیں بلکہ جلوت اور خلوت کے درمیان جینا سیکھتا ہے۔
اور پھر یہی بچہ بڑا ہو کر افسر بنتا ہے، استاد بنتا ہے، سیاست دان بنتا ہے، عالم بنتا ہے، تاجر بنتا ہے، والد بنتا ہے، شوہر بنتا ہے اور بالآخر اسی معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بن جاتا ہے۔
پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے۔
معاشرہ آخر کس سے بنتا ہے؟
ہم جیسے افراد سے،
ریاست کوئی الگ مخلوق نہیں، ادارے کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے، سیاست دان بھی اسی معاشرے سے نکلے ہیں، افسر بھی، تاجر بھی، عالم بھی اور عام شہری بھی۔
اس لیے ہمارا مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، صرف سیاست کا نہیں، صرف مذہب کا نہیں اور صرف اداروں کا بھی نہیں۔ یہ ہمارے کردار کا مسئلہ ہے۔
ہم نے جلوت کو خوب صورت بنانے پر اتنی محنت کی کہ خلوت کو بھول گئے۔
ہمیں اس بات کی فکر رہی کہ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں، مگر یہ فکر کم رہی کہ ہم حقیقت میں کیا ہیں۔
ہم نے کردار کے بجائے تاثر کو اہمیت دی، سچ کے بجائے بیانیے کو، اصول کے بجائے مصلحت کو اور خدا کے خوف کے بجائے مخلوق کے خوف کو۔
شاید اسی لیے ہم نے زندگی بھر دو چہرے پال لیے۔
ایک وہ جو دنیا دیکھتی ہے، دوسرا وہ جو ہم خود سے چھپا نہیں سکتے۔
مسئلہ گناہ گار ہونا نہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی خطا کو تسلیم کرنے کے بجائے اس پر نیکی کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔
گناہ گار کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، مگر ریاکاری کا المیہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی بیماری کا احساس ہی نہیں رہتا۔ جب انسان خود کو نیک ثابت کرنے میں مصروف ہو جائے تو اسے اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے معاشروں کا زوال شروع ہوتا ہے۔
ہمیں دوسروں کے سامنے نیک بننے سے پہلے اپنے آپ کے سامنے سچا ہونا ہوگا۔
ہمیں جلوت کے بیانیے کو بدلنے سے پہلے خلوت کے بیانیے کو درست کرنا ہوگا۔
کیونکہ جب خلوت اور جلوت ایک ہو جائیں، جب انسان تنہائی میں بھی وہی ہو جو لوگوں کے سامنے دکھائی دیتا ہے، تو شاید اسے کسی دوسرے بیانیے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
ہمیں دو زندگیوں سے نکل کر ایک زندگی کی طرف لوٹنا ہوگا؛ ایسی زندگی جس میں ہمارا ظاہر بھی وہی ہو جو باطن ہے، اور باطن بھی وہی جسے ہم اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کے قابل سمجھیں۔
ورنہ صورتِ حال یہی رہے گی:
جلوت میں ہم نیکوکار، خلوت میں گناہ گار؛
جلوت میں سچے، خلوت میں مصلحت پسند؛
جلوت میں اصول پسند، خلوت میں مفاد پرست۔
اور یہی تضاد ہمیں اس مقام تک لے آیا ہے جہاں واقعی آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔
شاید اب بھی وقت ہے کہ ہم دوسروں کا بیانیہ بدلنے سے پہلے اپنا خلوت کا بیانیہ بدلیں۔
واپس کریں