فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران، امید کی نئی کرن

امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی تاحال کسی انجام سے ہمکنار ہوتی دکھائی نہیں دے رہی لیکن اس سلسلے میں پاکستان مسلسل ان کوششوں میں مصروف ہے کہ کسی بھی طرح دونوں ملکوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور ان کے درمیان معاملات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے کیونکہ اگر یہ کشیدگی جاری رہتی ہے تو اس سے صرف دو ملکوں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا نقصان ہو گا اور یہ نقصان صرف معاشی نہیں ہو گا۔ پاکستان کی سفارتی اور مصالحتی کوششوں کے سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے ہمراہ ایک بار پھر ایک اہم دورے پر ایران گئے ہیں جہاں تہران میں ان کی ایران کے وزیر داخلہ السکندر مومنی سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی سی ڈی ایف ہمراہ تھے۔مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے ہیں اور وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے حل کے لیے کوششوں کے فروغ پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
ادھر، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقتوں نے دنیا بھر کے ممالک میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خواہش میں خاص طور پر تب اضافہ ہوا جب ممالک نے دیکھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی رکنیت امریکا کی جانب سے حملوں کو روکنے میں غیر مؤثر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جوہری سلامتی کی بجائے جوہری عدم تحفظ پیدا کیا ہے۔ ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات کو قبول کیا اور ان کی تعمیل کی۔ ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور معائنے پر بھی رضامند ہوا ہے۔ ایران واحد ملک ہے جو جوہری ضوابط کی پاسداری میں دیگر تمام ممالک سے آگے ہے۔ ایران کو امریکا کے ساتھ تنازعہ اور اپنے سفارتی طرزِ عمل میں اب تبدیلی لانی چاہیے۔ محسن رضائی نے مزید کہا کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حالیہ نئی فوجی تقرریاں اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران جنگ کے لیے ہر دم تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انھوں نے دیگر ممالک کو سخت تنبیہ کی کہ وہ ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات نافذ کرنے میں امریکا کا ساتھ دینے سے گریز کریں اور واضح کیا کہ بصورتِ دیگر ایران جوابی کارروائی میں ان کے مفادات کو براہِ راست نشانہ بنائے گا۔
اسی طرح، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت معاشی اور عسکری لحاظ سے حالت جنگ میں ہے، تاہم ملک مشکلات کے سامنے مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران غیر قانونی جنگی حالات میں عوام کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔دشمن ایران کو ناکام اور تنزلی کا شکار دیکھنا چاہتا ہے لیکن عوام کے اتحاد نے ایران کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھارا ہے۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ دشمن نے ایران کو وینزویلا بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔ جنگی مشکلات کا سامنا کرنے والے عوام کے متفقہ موقف کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں مدد ملی۔ مسعود پزشکیان کے مطابق، ماہرین نے مفاہمتی یادداشت کو مصلحت، عزت اور دانائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جو لوگ اس مفاہمت کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ معاملات کو درست انداز میں نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مفاہمت کی یادداشت پر اس لیے دستخط کیے کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ہم جنگ کے ذریعے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اس مفاہمتی یادداشت میں ایک بھی ایسی شق موجود نہیں جس پر ہم نے کوئی سمجھوتہ کیا ہو۔
دوسری جانب، امریکا کے سابق وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی معاشی جنگ سے امریکا کو کامیابی نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر کے ا مریکا پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں، سابق امریکی فوجی افسر کرنل سیڈریک لائنن کا کہنا ہے کہ امریکا کا ایران کو غذائی اجناس کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنا جنگی جرم ہو گا، ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے عالمی سطح پر بہت چیخ و پکار مچے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے دیگر ممالک کا امریکا سے متعلق رویہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان بیانات کے ساتھ معروف امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز میں ایک تجزیہ بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب ہونا مشکل ہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن کے لیے بیجنگ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔اس تجزیے کے مطابق، چین نے 2025ء میں ایران کے ساتھ تقریباً 41.2 ارب ڈالر کی تجارت کی جبکہ اسی سال چین نے ایران سے تقریباً 31.2 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا، چینی خریدار ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا بعض اوقات تقریباً 90 فیصد تک حصہ لیتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایران کے تیل کے بڑے خریدار چین کی چھوٹی نجی ریفائنریاں ہیں جنھیں عام طور پر ٹی پاٹس کہا جاتا ہے، یہ کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے نسبتاً کم منسلک ہونے کی وجہ سے روایتی امریکی پابندیوں سے زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں۔ امریکا ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے تاجروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے لیکن اگر چین ایرانی تیل خریدتا اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو ایران کے پاس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ موجود رہے گا۔
یقینا ایران کے پاس چین اور روس کی صورت میں ایسے اتحادی موجود ہیں جو اسے امریکا کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکنے دیں گے اور پاکستان بھی پہلے دن سے اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ کسی بھی طرح ایران کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ پاکستان نے تاریخی نوعیت کی سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے لیے راہ ہموار کی تھی لیکن دونوں جانب کے رہنماؤں کے بیانات نے معاملے کو پھر کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ اب فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک بار پھر ایران کے دورے پر گئے ہیں تو امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ جلد حالات کوئی ایسی کروٹ لیں گے جس سے معاملات میں سدھار پیدا ہو گا اور امن کے قیام کے سلسلے میں دنیا کو ایک ایسی نوید سنائی دے گی جو عالمی استحکام کے لیے راستہ ہموار کرے گی۔
واپس کریں