
بلاشبہ کسی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سب سے بڑا نقصان معیشت کو پہنچتا ہے۔ سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں قوانین میں تسلسل، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی اعتماد موجود ہو۔ جب حکومتی توجہ کا بڑا حصہ سیاسی کشمکش، احتجاج، قانونی تنازعات اور طاقت کی رسہ کشی پر صرف ہونے لگے تومعاشی اصلاحات، صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے مواقع پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے، لیکن جمہوریت کی طاقت شہری آزادیوں، آزاد صحافت، پارلیمانی احتساب اور آئین کی بالادستی سے قائم رہتی ہے۔
پاکستان کو آج الزام تراشی سے زیادہ سیاسی بصیرت، ادارہ جاتی توازن اور معاشی ترجیحات کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی استحکام کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا، معاشی بحالی کے دعوے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل رہیں گے۔ ایک مضبوط معیشت صرف اقتصادی پالیسیوں سے نہیں بنتی بلکہ اس کی بنیاد مستحکم سیاست، قابل اعتماد اداروں اور قانون کی یکساں حکمرانی پر استوار ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں سیاسی اور قومی تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے، پاکستان میں بھی سیاسی قوتوں کے درمیان بامعنی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نبٹنے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔وطن عزیزپاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی عدم استحکام نے سر اٹھایا، معیشت نے اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ سرمایہ کاری میں کمی، پالیسیوں کا عدم تسلسل، اداروں کے درمیان کشیدگی اور عوام کا کمزور ہوتا اعتماد، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں۔ آج بھی ملک ایسے ہی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی معاملات معیشت، حکمرانی اور شہری آزادیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب بھی کسی ملک کے سیاسی نظام میں بے یقینی، قانون سازی پر تنازع اور پالیسیوں میں عدم تسلسل پیدا ہو جائے تو اس کا پہلا اور سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں سرمایہ کاری کم، کاروباری اعتماد متزلزل اور عوام مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران سے نہیں بلکہ اعتماد کے بحران سے بھی گزر رہا ہے۔یہ کہنابھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کی واحد وجہ سیاسی عدم استحکام ہے، کیونکہ توانائی، ٹیکس نظام، قرضوں کا بوجھ، برآمدات اور عالمی معاشی حالات بھی اہم عوامل ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلسل سیاسی کشیدگی ان تمام مسائل کے حل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں قانون پر اعتماد، پالیسیوں میں تسلسل اور سیاسی استحکام موجود ہو۔
یاد رہےجمہوریت صرف اکثریت سے قانون منظور کرنے کا نام نہیں بلکہ اختلاف رائے کو جگہ دینے، پارلیمان کو مؤثر بنانے، شہری آزادیوں کے تحفظ اور آئین کی روح کے مطابق قانون سازی کا نام ہے۔ اگر قانون سازی کا عمل شفاف، جوابدہ اور وسیع مشاورت پر مبنی ہو تو نہ صرف سیاسی تناؤ کم ہوتا ہے بلکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے سیاسی ماحول کی ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری عمل کا لازمی حصہ سمجھیں۔ سیاسی استحکام، آئینی بالادستی اور معاشی اصلاحات ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ترقی کے دعوے اور معاشی بحالی کے منصوبے بار بار سیاسی ہنگاموں کی نذر ہوتے رہیں گے۔
ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار اہم ہے تاہم ملکی معیشت پر کالے بادل بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ملکی مسائل کا حل ایک ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات ہی سے ممکن ہے ٹکراؤ سے نہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے تاہم مذاکرات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوتے ہیں لیکن اِس وقت حکومت تو ہے مگر اپوزیشن نہیں ہے۔ قوم کو سیاسی قوتوں کے مابین مکالمے کی ضرورت پر زور دینا چاہئے،جب تک سیاسی قیادت ایک دوسرے کے موقف کو سہنے اور برداشت کرنے پر تیار نہیں ہو گی اُس وقت تک قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ممکن نہیں ہو پائے گا، پاکستان اگر عالمی سطح پر دو متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت کا ماحول پیدا کر سکتا ہے تو پھر ملک کے اندر سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی ذمہ داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے، وزیراعظم اور قائد ِ حزبِ اختلاف سمیت تمام اہم قومی کرداروں کو مکالمے کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ قومی مسائل کا حل اور سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
واپس کریں