
عوام الناس اپنے بنیادی اور حقیقی مسائل اور مشکلات کو نظر انداز کر کے ان معاملات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جن سے عام آدمی کا کوئی لینا دینا نہیں یا اسے کوئی براہِ راست فائدہ نہیں پہنچتا۔ مثال کے طور پر عمران خان کا علاج، فیلڈ مارشل کے اختیارات اوراسی طرح کے دیگر تنازعات۔ آج کل ملک عزیز میں عوامی گفتگو، سوشل میڈیا اور قومی میڈیا کی زیادہ تر توجہ ان موضوعات پر مرکوز ہے جو جذباتی طور پر پرکشش ضرور ہیں مگر روزمرہ زندگی کے حقیقی مسائل سے کوسوں دور۔
پاکستان کے عام شہری کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بل، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کی کمی، تعلیم کے معیار میں گراوٹ اور خاص طور پر قانون اور انصاف کی حکمرانی کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ان مسائل کا براہِ راست اثر گھروں کے بجٹ، بچوں کے مستقبل اور خاندانوں کی سلامتی پر پڑتا ہے۔ لیکن ان مسائل کی بجائے قومی اور نجی بحث کا مرکز کسی ایک سیاسی رہنما کی بیماری،علاج یا فوجی عہدوں کے اختیارات بن جاتا ہے جس سے نہ تو مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔
بر سر اقتدار سیاسی جماعت اور حامی اپنی پارٹی اور سرکاری بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے ایسے موضوعات کو اٹھاتے ہیں جو ان کے حامیوں کو متحرک کریں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی سطح پر توجہ ان چیزوں پر مرکوز ہو جاتی ہے جو چند لوگوں یا اداروں کے ارد گرد گھومتی ہیں، جبکہ لاکھوں بلکہ کروڑوں عوام کی روزمرہ مشکلات پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں یعنی سیاسی اور ادارہ جاتی تنازعات عوامی توجہ کو نیا رخ دیتے ہیں۔ مثلا جب قومی میڈیا پر بحث صرف کسی ایک خاص قیدی کے علاج یا کسی اعلیٰ عہدے کے اختیارات تک محدود رہتی ہے تو معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی شفافیت، تعلیم و صحت کے بجٹ اور روزگار کے مواقع جیسے بنیادی سوالات اوجھل ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے پاکستانی معاشرے کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوں گی۔ یوٹیوبرز، صحافی، تجزیہ کار، سیاسی کارکنان اور عام شہری ان مسائل پر بات کریں جن کا براہِ راست تعلق عوام کی فلاح و بہبود سے ہو۔ مہنگائی کنٹرول کرنے کے اقدامات، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانا، اور شفاف حکمرانی جیسے موضوعات کو نجی اور سوشل میڈیا مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے شہری اپنے حقیقی مسائل کو پہچانیں اور ان کے حل کی طرف توجہ دیں۔ سیاسی اور ادارہ جاتی معاملات اہم ہو سکتے ہیں، لیکن جب وہ عوام کے بنیادی مفادات پر غالب آ جائیں تو معاشرہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مسائل کو ترجیح دیں اور ان موضوعات پر توجہ مرکوز کریں جن سے عام آدمی کو حقیقی فائدہ پہنچے۔
واپس کریں