دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی چشم کشا رپورٹ
No image غزہ سے بچوں سمیت پچاس افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو اس بات کی گواہی ہیں کہ صہیونی دہشت گردی کسی بھی طرح قابو میں نہیں آ رہی۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اپنی چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اس وقت 94 فیصد آبادی چھتوں سے محروم ہے اور ہر 80 فیصد گھرانے مناسب پناہ گاہ کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ترجمان کے مطابق، متعدد پناہ گاہوں کو ایندھن، توانائی اور روزمرہ ضروری اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث انسانی امداد پر عائد پابندیاں لوگوں کی سونے، کھانا پکانے، نہانے، کھانے، پانی ذخیرہ کرنے اور گرمی و سردی سے نمٹنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائی حملوں، شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات میں فلسطینیوں کے شہید و زخمی ہونے کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے شہری مسلسل خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس انسانی بحران کے ساتھ ساتھ ایک اور تشویش ناک پیش رفت مقبوضہ بیت المقدس میں دیکھنے میں آئی جہاں صہیونیوں نے نیا آبادکاری منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اٹلی، فرانس، کینیڈا اور ناروے سمیت متعدد ممالک نے بھی مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کا یہ اقدام دو ریاستی حل کے امکانات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ آبادکاری کی توسیع خطے میں امن کے قیام کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ یہ زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے جس سے مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی حل کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی برادری بیانات اور مذمتی قراردادوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ فلسطینیوں پر مظالم کی یہ داستان کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ پون صدی سے یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے، کبھی بے دخلی کی صورت میں، کبھی محاصرے کی شکل میں اور کبھی براہِ راست صہیونی دہشت گردی کی صورت میں۔ اس طویل عرصے میں اقوام متحدہ میں سیکڑوں قراردادیں منظور ہوئیں، درجنوں عالمی رہنماؤں نے مذمتی بیانات دیے مگر عملی طور پر فلسطینیوں کی حالت میں کوئی بنیادی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی ادارے اور عالمی قیادتیں محض زبانی مذمت اور اعلامیوں تک ہی محدود رہیں گی یا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب ان بیانات کو عملی اقدامات کی شکل میں ڈھالا جائے گا؟ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ظلم کو محض الفاظ سے نہیں روکا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس، مؤثر اور فیصلہ کن عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں جن کا فقدان آج بھی بین الاقوامی اور عالمی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
واپس کریں