
مرزا غالب نے تو دنیا بارے کہا تھا کہ:
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔
لیکن دنیا جہان کے لطائف ایک طرف اور پاکستان کی دوسری طرف۔ کم از کم سیاسی، سماجی اور ریاستی لطائف میں ہم اول نمبر پر ہیں۔
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ بالآخر عمران خان کی مشکلات بھی ختم ہونے کا آغاز ہوا ہے اور رفتہ رفتہ وہ بنی گالا کو رونق بخشیں گے۔ جہاں خان صاحب کے مصائب ختم ہوئے، وہاں یقینا پاکستان تحریک انصاف کے خود ساختہ قائدین کی مشکلات شروع ہو جائیں گی۔ آخر خان صاحب بھی تو حساب کتاب کریں گے، کیونکہ انہوں نے رج کر حساب دیا ہے۔ ملکِ خداداد بذاتِ خود ایک معجزہ ہے یا شاید درست لفظ عجوبہ ہو۔ اس ملک میں اندھا ہونے کے بعد صاف صاف دکھائی دیتا ہے۔ خان صاحب کی سیاسی چشم بھی اب عسکری سرجری کے بعد سیکس بائی سکس دیکھیں گی اور بہت سوں کا بستر گویا گول ہونے کو ہے۔ سردست خان صاحب کے ڈیجیٹل متوالے گوں مگوں کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ فیلڈ مارشل صاحب کے بارے میں کیا گل افشانیاں کریں۔ چلیے، ہم ان کی یہ مشکل ایک تاریخی واقعہ بیان کرکے حل کرتے ہیں۔
خان عبدالقیوم خان، جو اس وقت کے صوبہ سرحد کے وزیرِاعلیٰ تھے، ایک زمانے میں کانگریس میں ہوتے تھے۔ ان کے کئی لطائف مشہور ہیں۔ سب سے بڑا لطیفہ ان کی مشہورِ زمانہ کتاب Gold and Guns on the Pathan Frontier تھی، جو انہوں نے کانگریس سے وابستگی کے دور میں لکھی تھی۔ یہ کتاب 1945ء میں شائع ہوئی تھی۔ بعد ازاں وہ مسلم لیگ کو پیارے ہوگئے اور وزارتِ اعلیٰ ان پر نچھاور کی گئی۔ بطور وزیرِاعلیٰ حلف لے کر انہوں نے پہلا کام اپنی کتاب پر پابندی لگانے کا کیا تھا۔ خان صاحب دنیا کے واحد مصنف تھے جنہوں نے خود اپنی کتاب بین کی تھی۔ باقی لطائف نجی محفل میں سنانے کے ہیں۔
فی الوقت ان کا ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، کی خدائی خدمتگار تحریک اور خان قیوم کی عداوت بابڑہ قتلِ عام کی صورت میں تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک موقع ایسا آیا کہ خان قیوم اور خدائی خدمتگاروں کی بات چیت شروع ہوئی تاکہ تناؤ کو کم کیا جاسکے۔ خدائی خدمتگار ایک طرف مذاکرات میں مصروف تھے اور دوسری جانب تحریک کے ہندکو بولنے والے سرخ پوشوں نے اندرونِ شہر سے دباؤ ڈالنے کے لیے جلوس نکالا۔ چوک یادگار سے ہوتے ہوئے جلوس نے گورنر ہاؤس جانا تھا، جہاں مذاکرات ہو رہے تھے۔
ایک شہرداری نوجوان اچھل اچھل کر خان قیوم کے مخالف نعرے لگا رہا تھا۔ قلعہ بالاحصار کی طرف ناز سنیما کا موڑ مڑتے ہوئے وہ کئی فٹ ہوا میں نعرہ لگانے کے لیے اچھل پڑا۔ اسی دوران ایک اور نوجوان دوڑتا دوڑتا آیا اور اس کے ساتھ اچھل کر کان میں کہا کہ صلح ہوگئی ہے۔ مخالف نعرہ مارنے کے لیے اچھلے ہوئے نوجوان کے پیر جونہی زمین پر ٹکے، اس نے نعرۂ مستانہ لگایا:
انّڑ خبر آئی اے، خان ساڈا بھائی اے
ڈیجیٹل انصافی متوالے بلاشبہ کہہ سکتے ہیں:
انّڑ خبر آئی اے، چیف ساڈا بھائی اے
واپس کریں