دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کی مکہ معاہدے کی حمایت اور اسرائیل کی امن مخالف سرگرمیاں
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اسے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا جرا ت مندانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ متحد ہو رہا ہے اور اس خطے کے ممالک آخرکار زیادہ مو ثر انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوں گے۔ بظاہر امریکی صدر کا یہ بیان ایک مثبت پیش رفت ہے اور اسی بنا پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ سماجی رابطے کے ذریعے ’ایکس‘ پر وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حمایت کے الفاظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان اپنے برادر ملکوں سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ مل کر پورے خطے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ پائیدار امن عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے ضروری اور بنیادی شرط ہے۔
ایک طرف امریکی صدر تین سرکردہ مسلم ممالک کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کی حمایت کر رہا ہے اور دوسری جانب امریکا کی طرف سے مسلسل ناجائز صہیونی ریاست کو ہر قسم کی امداد و اعانت مہیا کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ امریکی حمایت کی وجہ ہی سے ناجائز صہیونی ریاست پورے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی یہ کارروائیاں قابلِ قیاس مستقبل میں رکتی دکھائی نہیں دیتیں کیونکہ صہیونی گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے پاکستان اور ترکیہ سمیت ہر وہ مسلم ملک صہیونیوں کو برا لگتا ہے جو دفاعی اعتبار سے اس حد تک مضبوط ہو کہ کسی بھی موقع پر ان کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ مزید یہ کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ایک واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا بھی پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کو صہیونیوں کے لیے ناقابلِ قبول بناتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے جس امن بورڈ کا اعلان کیا تھا اس کے ایک رکن نے حال ہی میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور آئندہ کے انتظام سے متعلق مذاکرات حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کو بنیادی شرط سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ غزہ میں موجود حماس کے تمام ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ سرنگوں کو بھی ختم کیا جائے گا اور انھیں مستقبل میں دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ حماس کے مکمل غیرمسلح ہونے تک اسرائیلی فوج کو غزہ سے واپس بلانے یا دوبارہ تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس انتظام میں اسرائیل کے لیے اپنے دفاع کا حق بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اگر حماس دوبارہ دہشت گردی یا مسلح ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اسرائیل کارروائی کر سکے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کی سربراہی میں بورڈ آف پیس کے وفد اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسی طرح ناجائز صہیونی ریاست کی قومی سلامتی کے مشیر اتمار بن گویر کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو غزہ میں ہر رات30 سے40 افراد کو ہلاک کرنا چاہیے۔ ایک انٹرویو میں غزہ کے لوگوں متعلق اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے اس انتہا پسند مشیر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی صرف خطرے کا سبب بننے والوں تک ہی محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ غزہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں۔ ان لوگوں کو زندہ نہیں رہنا چاہیے، وہ انسان ہی نہیں ہیں۔اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ صہیونی مجرم بیک وقت فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کی بات کر رہا ہے۔ ان اعترافات کو ثبوت کے طور پر محفوظ اور آن ریکارڈ رکھنا چاہیے تاکہ انھیں اسرائیلی مجرموں کے احتساب اور مقدمے کے دن پیش کیا جا سکے۔
اسی دوران میں یہ خبر بھی منظرِ عام پر آئی ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے کیونکہ اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل تباہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف، امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملے ترکیہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں پر انقرہ گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ترک صدر نے کہا کہ ایسے حملوں سے نہ صرف لبنان میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
علاوہ ازیں، صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششوں میں عمان نے رکاوٹ پیدا کی تو اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائیں گے۔ ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انھیں ایران کے ساتھ جاری تنازعہ ختم کرنے کے لیے کوئی جلدی نہیں۔ اب ایران سفید جھنڈا لہرا کر سرنڈر کرنے کا اعلان کرے۔ ایران کی طرف سے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی ثابت قدمی نے دشمنوں کے اندازوں اور منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔ ایک پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کے قطر کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں۔ پاکستان اور قطر کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران ڈیڈ لائنز اور الٹی میٹمز کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتا۔ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، فریقین آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بنی ہوئی اس ساری صورتحال میں امریکا کا کردار منفی اور خطرناک ہی دکھائی دیتا ہے اور اس سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ویسے بھی یہ طے ہے کہ امریکا کسی بھی صورت میں کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے صہیونیوں کے مفادات پر زد پڑے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے مکہ معاہدے کی حمایت کے کیا معانی ہیں؟ امریکا ممکنہ طور پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اس معاہدے کو سنّی ممالک کے اتحاد کے طور پر دیکھ رہا ہے اسی لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ایران کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے تاکہ امریکا سمیت ساری دنیا کو واضح طور پر یہ پیغام دیا جاسکے کہ مسلمان دفاعی اور تزویراتی معاملات کے حوالے سے نفاق اور انتشار کا شکار نہیں ہیں۔ یوں بھی نیٹو کی طرز پر مسلم ممالک کا عسکری اتحاد اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب تمام مسلمان ریاستیں فروعی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے یک جہت ہوں۔
واپس کریں