
اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم سٹریٹجک قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے اور پوری مسلم دنیا میں سلامتی اور استحکام کیلئے ایک بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ او آئی سی کے سربراہ کا یہ مؤقف اس اہم معاہدے کو مسلم دنیا کی سلامتی کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کیلئے اس معاہدے کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ اجتماعی سلامتی کے تصور کو مضبوط کرنا ہے۔ مسلم ممالک کو مختلف نوعیت کے خطرات درپیش رہے ہیں۔ کہیں دہشت گردی‘ کہیں سرحدی تنازعات اور کہیں سیاسی عدم استحکام اور بیرونی دباؤ سلامتی کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم دنیا کے تین اہم ممالک کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بھی تعاون کا ایک ماڈل پیش کرتا ہے۔ دوسرا اہم فائدہ دفاعی ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ ہے۔ ترکیہ نے ڈرونز‘ دفاعی صنعت اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے‘ پاکستان‘ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت‘ طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے دفاعی اور جنگی تجربات کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل اور جدید دفاعی سازوسامان تک رسائی ہے۔
ان صلاحیتوں کو باہمی تعاون کے ذریعے یکجا کیا جائے تو مسلم ممالک دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس معاہدے کا تیسرا اہم پہلو انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون ہے۔ آج کے دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ دہشت گرد تنظیمیں‘ سائبر حملے‘ منظم جرائم اور دیگر غیر روایتی خطرات ریاستوں کی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون کا مؤثر نظام قائم ہو تو دہشت گردی اور دیگر مشترکہ خطرات کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ او آئی سی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن مشترکہ عملی اقدامات نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون دوسرے مسلم ممالک کیلئے بھی باہمی تعاون کی ترغیب بن سکتا ہے۔ یوں او آئی سی ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں رکن ممالک صرف سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔
او آئی سی کیلئے اس معاہدے سے ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ مسلم دنیا اپنی اجتماعی سلامتی کیلئے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کر سکتی ہے۔ پاکستان کی افرادی اور دفاعی صلاحیت‘ ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی معاشی طاقت ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔ یہی تصور مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے درمیان بھی مختلف شعبوں میں تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین پر تین سرکردہ مسلم ممالک میں طے پانے والے اس معاہدے کو وسیع تر مسلم مفاد‘ باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے تو یہ او آئی سی کے رکن ممالک کیلئے جامع تزویراتی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب اصل ذمہ داری او آئی سی اور اس کے رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے کہ اس موقع کو محض سفارتی پیش رفت تک محدود نہ رہنے دیں۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ اپنے دفاعی تعاون کو شفاف‘ مؤثر اور ادارہ جاتی انداز میں آگے بڑھائیں اور دوسرے مسلم ممالک کو بھی مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ معاہدہ وہ بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے جس کا ذکر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کیا ہے۔ مسلم دنیا کو آج ایسے ہی عملی اتحاد کی ضرورت ہے جو اس کی سلامتی‘ خود انحصاری اور عالمی سطح پر اجتماعی آواز کو مضبوط بنا سکے۔
واپس کریں