دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاسبانِ حرمین شریفین
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
یہ محض اتفاق نہیں کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان دن میں پانچ مرتبہ ایک ہی مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امتِ مسلمہ کا دل مکہ مکرمہ میں دھڑکتا ہے اور اس کی روح مدینہ منورہ کی گلیوں میں سکون پاتی ہے۔ بیت اللہ صرف پتھروں کی ایک عظیم عمارت نہیں، بلکہ توحید کا پرچم، امت کی وحدت کا نشان اور ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی غیرت کی علامت ہے۔ روضۂ رسول ﷺ صرف ایک مقدس مقام نہیں، بلکہ ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی دھڑکن ہے۔

حرمین شریفین کی حفاظت کسی ایک حکومت، ایک قوم یا ایک خطے کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی دینی، اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔ جب بھی مکہ و مدینہ کی طرف کوئی میلی آنکھ اٹھتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل بے چین ہو جاتے ہیں، کیونکہ حرمین شریفین سے محبت ایمان کی حرارت اور عقیدت کی نشانی ہے۔

آج دنیا ایک نئے عالمی صف بندی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آگ و خون کے امتحان سے دوچار ہے، مسلم دنیا مختلف بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور دشمن قوتیں ہمیشہ امت کے اتحاد سے خائف رہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کے لیے ایک اہم اور امید افزا پیش رفت ہے۔

اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو نئی وسعت دینے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مشترکہ فوجی مشقوں، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں اشتراک، عسکری تربیت اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل رابطہ کاری پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرتے ہوئے مشترکہ مشاورت کے ذریعے مناسب ردِعمل اختیار کیا جائے گا۔ تینوں ممالک نے اس تعاون کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اجتماعی دفاع، امن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان کی عسکری مہارت، ترکی کی جدید دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی سیاسی، معاشی اور روحانی قیادت اگر اخلاص، بصیرت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ یکجا ہو جائے تو یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے اعتماد، خود انحصاری اور دفاعی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر متحد ہوئے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے ٹھہر نہ سکی، اور جب وہ فرقہ واریت، تعصب اور باہمی کشمکش میں مبتلا ہوئے تو دشمن نے ان کی صفوں میں دراڑیں ڈال دیں۔ قرآنِ کریم مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں آخر الزمان کے فتنوں اور آزمائشوں کا ذکر بھی ملتا ہے، اور متعدد روایات میں حضرت امام مہدیؑ کی بیعت بیت اللہ کے پاس مکہ مکرمہ میں ہونے کا بیان ہے۔ یہ روایات مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایمان، صبر، تقویٰ اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتی ہیں۔ اس لیے امتِ مسلمہ کو ہر حال میں اتحاد، اصلاحِ احوال اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اختیار کرنا چاہیے، جبکہ موجودہ سیاسی واقعات کو بلا دلیل ان پیش گوئیوں کی قطعی تعبیر قرار دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حرمین شریفین کو صرف عقیدت کا مرکز نہیں بلکہ امت کے اتحاد کا محور بنایا جائے۔ مکہ مکرمہ سے اٹھنے والی اتحاد کی ہر آواز، اگر اخلاص اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھے، تو وہ امتِ مسلمہ کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دفاعی تعاون کو صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ اسلامی اخوت، مشترکہ سلامتی اور امت کے وقار کے تحفظ کا ذریعہ بنایا جائے۔

آج امتِ مسلمہ کے دشمن مسلمانوں کی وحدت سے خائف ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اسلامی دنیا اپنے وسائل، اپنی عسکری صلاحیتوں، اپنی معیشت اور اپنی قیادت کو ایک مقصد پر مجتمع کر لے تو کوئی طاقت اس کے وقار کو پامال نہیں کر سکتی۔ یہی وہ پیغام ہے جو مکہ مکرمہ کی سرزمین آج بھی پوری امت کو دے رہی ہے کہ اختلافات کو دفن کر کے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔

اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کو ہمیشہ امن و سلامتی کا گہوارہ رکھے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اس دفاعی تعاون کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، استحکام اور خیر کا ذریعہ بنائے، اور تمام اسلامی ممالک کو خادم حرمین شریفین اور پاسبان حرمین شریفین کی صورت ایک ایسی قیادت نصیب فرمائے جو امت کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے۔ آمین
واپس کریں