
آج کی دنیا میںکسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل یا عسکری قوت کے بجائے اس کے انسانی وسائل سے متعین ہوتی ہے‘ اور انسانی وسائل کی تعمیر کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے۔ جدید معیشت‘ سائنسی تحقیق‘ ٹیکنالوجی‘ اختراع‘ سماجی ہم آہنگی اور جمہوری استحکام سب کا انحصار ایک مضبوط تعلیمی نظام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ ہر سال کا وفاقی بجٹ پاکستان میں تعلیم پر کم سرمایہ کاری کی وہی پرانی بحث دوبارہ چھیڑ دیتا ہے۔ اس سال کا بجٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات‘ جو پہلے ہی جی ڈی پی کے محض 0.8 فیصد کے برابر تھے‘ مزید کم ہو کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات ہر اس شخص کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے جو یہ سمجھتا ہے کہ تعلیم معاشی ترقی‘ سماجی نقل و حرکت اور جمہوری ارتقا کی بنیاد ہے۔
مگر ناکافی فنڈنگ صرف آدھی کہانی ہے۔ اتنا ہی اہم یہ ہے کہ محدود وسائل کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں مالی وسائل کمیاب ہیں‘ ہر روپے کی اپنی ایک opportunity cost ہوتی ہے؛ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان تعلیم پر کافی خرچ کرتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جو تھوڑا بہت خرچ ہوتا ہے وہ ملک کی سب سے فوری تعلیمی ضروریات پر لگایا جا رہا ہے یا نہیں؟ پاکستان کو غیر معمولی آبادیاتی چیلنج درپیش ہے۔پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں سے ایک کے حامل اس ملک میں ہر سال لاکھوں مزید بچوں کو سکولوں تک رسائی درکار ہوتی ہے۔تازہ ترین پاکستان اکنامک سروے (2025-26ء) کے مطابق حکومت کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ تعلیم کے تقریباً ہر مرحلے پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ دونوں رجحانات درست مان لیے جائیں تو ملک کے سرکاری سکولوں کے نظام کو تیزی سے پھیلنا چاہیے تھا۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار اس کے بالکل برعکس صورتحال بیان کرتے ہیں۔ 2020-21ء اور 2024-25ء کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد 180217 سے کم ہو کر 154964 رہ گئی‘ یعنی صرف چار برسوں میں 25 ہزار سے زائد سکول کم ہو گئے۔ مڈل سکولوں کی تعداد بھی 47182 سے کم ہو کر 43931 رہ گئی جبکہ سیکنڈری تعلیمی اداروں کی مجموعی تعداد 2756 ہزار سے گھٹ کر 2683 ہزار رہ گئی۔ اعداد وشمار میں یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر زیادہ بچے سکول میں داخل ہو رہے ہیں اور سکولوں کی تعداد سکڑ رہی ہے‘ تو یہ اضافی طلبہ کہاں جا رہے ہیں؟ اس کا ایک ہی منطقی جواب ہو سکتا ہے کہ انہیں دستیاب سکولوں میں ٹھونسا جا رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں کلاس رومز میں ہجوم‘ طلبہ اور اساتذہ کے تناسب میں اضافہ‘ اساتذہ پر بڑھتا دباؤ اور تعلیمی معیار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یوں ہمارا سکڑتا ہوا سکول نیٹ ورک نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے کے بجائے نئے چیلنجز کو جنم دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے باقی ماندہ سکولوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ تعلیمی معیار صرف اساتذہ اور نصابی کتب پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس ماحول پر بھی منحصر ہوتا ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم اداروں میں میسر سہولتیں تعلیمی عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں میسر سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ اکثر سرکاری سکولوں میں بجلی‘ پینے کا صاف پانی‘ بیت الخلا اور حفاظتی چار دیواری کوئی اضافی سہولتیں نہیں بلکہ بچوں کی صحت‘ تحفظ اور وقار کیلئے بنیادی ضروریات ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق صرف 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی‘ 76 فیصد میں صاف پینے کے پانی کی سہولت‘ 77 فیصد میں بیت الخلا اور 75 فیصد میں چار دیواری موجود ہے۔ پرائمری سکولوں میں صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے جہاں صرف 59فیصد سکولوں میں بجلی میسر ہے۔ صوبائی تفاوت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ پنجاب نے ان سہولتوں کی فراہمی میں کافی پیشرفت کی ہے جبکہ بلوچستان جیسے صوبے کو بجلی‘ پینے کے پانی اور سکولوں کی محفوظ عمارتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان حقائق کو حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے تھا۔ ایک ایسے ملک کو‘ جسے سکول جانے کی عمر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے‘ سب سے پہلے اپنے سرکاری سکولوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے‘ موجودہ سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے اور یہ یقینی بنانے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے کہ ہر بچہ ایک محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرے۔
لیکن پاکستان کا تازہ ترین بجٹ (2026-27ء) مختلف ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون کو قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ وفاقی بجٹ 2026-27ء میں دانش سکولوں کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح حکومت وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی مالی معاونت بھی جاری رکھے ہوئے ہے‘ جس کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپس منظور کیے گئے ہیں۔ اپریل 2026ء تک 156 سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) کے طلبہ میں 74427 لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے تھے۔ اس سکیم کی مجموعی منظور شدہ لاگت 16801 ارب روپے ہے‘ جبکہ رواں پی ایس ڈی پی میں اس کے تسلسل کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہاں اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ سوال یہ نہیں کہ دانش سکولوں یا وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تعلیمی افادیت ہے یا نہیں‘ اصل معاملہ ترجیحات کا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں بچوں کی مطلق اکثریت عام سرکاری سکولوں میں پڑھتی ہے‘ جہاں داخلوں میں اضافے کے باوجود سکولوں کا نیٹ ورک سکڑ رہا ہے‘ اور جہاں ہزاروں سکول اب بھی بجلی‘ پینے کے پانی‘ بیت الخلا اور چار دیواری سے محروم ہیں‘ کیا ان منصوبوں کو سرکاری نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے پر ترجیح ملنی چاہیے؟ سرکاری بجٹ بالآخر ترجیحات کا اعلامیہ ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک منصوبے کو دیا گیا ہر روپیہ دوسرے کے لیے دستیاب نہیں رہتا۔ دانش سکولوں کے لیے مختص تقریباً 22 ارب روپے اور وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم میں مسلسل سرمایہ کاری کے بجائے‘ یہ رقم نئے سرکاری سکولوں کی تعمیر‘ ہجوم میں کمی اور ہزاروں موجودہ سکولوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں لگائی جا سکتی تھی۔ اس طرح کی سرمایہ کاری طلبہ کی ایک نسبتاً مختصر تعداد کو فائدہ پہنچانے کے بجائے عام سکولوں کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنا سکتی تھی۔
یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران محض ناکافی فنڈنگ کا بحران نہیں بلکہ یہ اتنا ہی غلط ترجیحات کا بحران بھی ہے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانا بلاشبہ ضروری ہے‘ مگر محض اخراجات میں اضافہ کوئی مؤثر تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک وسائل اکثریت کی ضروریات کے مطابق مختص نہ کیے جائیں۔ ہر تعلیمی بجٹ کا پہلا حق ان عام سرکاری سکولوں کا ہونا چاہیے جہاں لاکھوں پاکستانی بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ جب تک ہر بچے کو قریبی سکول تک رسائی‘ مناسب کلاس رومز‘ بجلی‘ صاف پینے کا پانی‘ فعال بیت الخلا اور محفوظ چار دیواری میسر نہیں آ جاتی‘ پاکستان فلیگ شپ منصوبوں کو مضبوط سرکاری نظامِ تعلیم کا متبادل سمجھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہو گا کہ وہ کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کرتا ہے یا کتنے فلیگ شپ سکول بناتا ہے‘ بلکہ اس بات سے طے ہو گا کہ وہ ہر سرکاری سکول میں ہر بچے کو کس معیار کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تعلیم پر کچھ مزید رقم مختص کر دی جائے‘ بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی تعلیم کو قومی ترجیح سمجھتی ہے؟ جب تک سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے‘ اس کے بنیادی ڈھانچے‘ اساتذہ‘ تدریسی وسائل اور معیارِ تعلیم میں سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی‘ تعلیمی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
واپس کریں