”شوکت نواز میر کی گرفتاری اور کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مستقبل“

کلعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر اور روح رواں شوکت نواز میر کو گزشتہ روز آزاد کشمیر کے دھیرکوٹ/باغ علاقے سے مخبر کی اطلاع پر گرفتار کر لیاگیا ہے۔ شوکت نواز میر بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات میں مطلوب تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی آذاد کشمیر حکومت نے ان کے ساتھ دیگر رہنماؤں عمر نذیر کشمیری،سردار امان اور خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ کے خلاف بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو جون 2026 میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومتِ پاکستان اور پی پی پی کی آذاد کشمیر حکومت اسے پرتشدد احتجاجوں جس میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں سے جوڑتی ہے، جبکہ کلعدم عوامی تحریک کے حامی اسے عوامی حقوق، مہاجر نشستوں، آئینی اصلاحات اور مقامی اختیارات کی پرامن جدوجہد قرار دیتے ہیں۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری کے فوراً بعد برطانیہ و دیگر بیرونی ممالک، مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ اور دیگر جگہوں پر احتجاج اور مظاہرے ہوئے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہے۔ شوکت نواز میر کو تحریک کی روح کہا جا رہا ہے، سوچ اور نظریے کو قید نہ کرنے جیسے بیانات سامنے آ رہے ہیں اور کلعدم ایکشن کمیٹی کے حامی ایک لیڈر کی گرفتاری سے تحریک ختم نہیں ہوتی کے پیغامات دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب آذاد کشمیر حکومت اس ضمن میں سخت کریک ڈاؤن کر رہی ہے اور گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔
گو کہ شوکت نواز میر کی گرفتاری کلعدم ایکشن کمیٹی کے لیئے بڑا دھچکا ہے اور اگر مذید گرفتاریاں ہوئیں اور عوامی حمایت کم ہوئی تو تحریک کمزور پڑ سکتی ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ مذکورہ عوامی تحریک کی جڑیں بنیادی عوامی مسائل، ہائبرڈ حکومتی سسٹم اور شاہانہ طرز حکمرانی سے عوامی ناراضگی، معاشی، اقتصادی و سیاسی مسائل،بیرون ممالک مقیم کشمیریوں، عام عوام کے جذبات اور احساسات سے جڑی ہیں، اس لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا جلد مکمل خاتمہ آسان یا ممکن نہیں۔
کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مستقبل عوامی ردعمل، دیگر رہنماؤں کی قیادت، حکومت یا اشٹبلشمنٹ کی پالیسی پر بھی منحصر ہے۔
واپس کریں