دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیر، گلگت بلتستان اور قومی سیاست ۔ محمد خان ابڑو
No image پاکستان کی سیاست میں وفاق اور صوبوں کے تعلقات ہمیشہ قومی استحکام کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ ایک مضبوط وفاق وہی ہوتا ہے جہاں تمام اکائیوں کو مساوی اہمیت دی جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر حل کیا جائے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاست نے یہ واضح کیا ہے کہ علاقائی سیاست کو قومی سیاست سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔سندھ پاکستان کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کی بندرگاہیں، بڑی صنعتی سرگرمیاں، مالیاتی ادارے اور سب سے بڑا شہر کراچی اسی صوبے میں واقع ہیں۔ اس کے باوجود سندھ کی سیاسی قیادت اور وفاق کے درمیان مختلف ادوار میں وسائل، ترقیاتی منصوبوں، مالیاتی تقسیم اور انتظامی معاملات پر اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان اختلافات کا حل سیاسی محاذ آرائی میں نہیں بلکہ آئینی مکالمے، مشترکہ مفادات کی کونسل کے مؤثر کردار اور باہمی اعتماد میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان کی بڑی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن، نے مختلف ادوار میں وفاقی حکومتوں کا حصہ رہتے ہوئے ملک کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان کبھی تعاون اور کبھی سخت سیاسی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم جمہوری نظام کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو عوامی خدمت اور قومی مفاد پر غالب نہ آنے دیا جائے۔آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات ہمیشہ قومی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ان خطوں کی آئینی حیثیت، جغرافیائی اہمیت اور مسئلہ کشمیر سے وابستگی کے باعث وہاں ہونے والے انتخابات صرف مقامی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں ہر انتخاب میں اپنی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلاتی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت، انتظامی غیر جانبداری اور عوام کے آزادانہ حقِ رائے دہی پر عوامی اعتماد برقرار رہنا چاہیے۔پاکستان کی جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب ہر جماعت اپنے مخالفین کے مینڈیٹ کا بھی اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے ووٹ کا احترام چاہتی ہے۔ وفاقی حکومتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی صوبے یا خطے کے ساتھ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار نہ کریں۔ آئین پاکستان تمام صوبوں اور علاقوں کے درمیان مساوات اور انصاف کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور اسی آئینی روح کو عملی شکل دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ برسوں میں سندھ میں مختلف ترقیاتی منصوبے، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور مقامی حکومتوں کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے گئے، جبکہ ان منصوبوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔ اسی طرح وفاقی حکومتوں کی معاشی، مالیاتی اور انتظامی پالیسیوں پر بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے سوالات اٹھائے۔ ایک بالغ جمہوریت میں یہی تنقید و احتساب سیاسی عمل کا حصہ ہوتے ہیں، بشرطیکہ ان کی بنیاد حقائق اور عوامی مفاد پر ہو۔آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے بعد بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے نتائج، انتخابی مہم اور انتظامی معاملات پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایسے مواقع پر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ شفافیت اور غیر جانبداری کے بارے میں پیدا ہونے والے ہر سوال کا قانون کے مطابق جواب دیں تاکہ عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔
پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام، قومی یکجہتی، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی سفارت کاری جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان حالات میں تمام سیاسی قوتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخابی سیاست سے آگے بڑھ کر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں اختلافات کو دلیل، آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ برداشت، مکالمہ، آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، بااختیار پارلیمنٹ اور مضبوط وفاقی اکائیوں کا مجموعہ ہے۔ اگر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ان اصولوں پر اتفاق کریں تو نہ صرف وفاق مضبوط ہوگا بلکہ دنیا میں پاکستان کا جمہوری تشخص بھی مزید مستحکم ہوگا۔
پاکستان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جمہوری تسلسل چاہتے ہیں۔ اب ذمہ داری سیاسی قیادت پر ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو مضبوط کرے، انتخابی عمل کو مزید شفاف بنائے، اداروں کے احترام کو فروغ دے اور صوبوں کے جائز آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ یہی راستہ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔ بشکریہ جنگ
واپس کریں