دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکہ اور ایران میں دوبارہ کشیدگی سے عالمی امن کو لاحق خطرات
No image ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے حالیہ حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر مشترکہ میزائل اور ڈدون حملے کئے ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق دو سے تین بجے کے درمیان ایرانی بحریہ اود ایرو سپیس فورس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں علی السالم ائربیس اور بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر پورٹ سلمان کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے دوران امریکی فوج کے آٹھ اہم فوجی انفرسٹکچر تباہ کئے گئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق امریکہ نے گذشتہ روز ایران کے پانچ ساحلی مقامات پر حملے کئے تھے جو دونوں ممالک کے مابین طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ اس ایرانی کارروائی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پھر ایران کو دھمکی دی کہ اس نے سبق نہ سیکھا تو اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ امریکہ اور ایران میں دوبارہ بڑھتی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فریقین جنگ بندی معاہدہ کی مکمل پاسداری کریں ۔ درسری جانب عراق کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تجویز پیش کی ہے کہ خلیجی ممالک کو نیا سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا چاہیئے جبکہ بحرین نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا تقاضہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین دوبارہ بڑھتی کشیدگی نے پوری دنیا کے امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف فریقین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا اہم ترین خطہ ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی جنگ یا عدم استحکام عالمی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، تجارتی راستوں کی بندش اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بے یقینی عالمی اقتصادی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان نئی محاذ آرائی عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیاں اور ایران کی جوابی کارروائیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ فریقین تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔ طاقت کے استعمال اور دھمکیوں کی سیاست کبھی دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ مسائل کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ کہنا بروقت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ فریقین جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کریں اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں۔ اس تناظر میں بحرین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، کو اس بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے خلیجی ممالک کے لیے نئے سکیورٹی فریم ورک کی تجویز بھی یقینناً قابلِ غور ہے کیونکہ علاقائی سلامتی کے مسائل کا حل علاقائی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔آج دنیا کو جنگ کی بجائے امن، استحکام اور تعاون کی ضرورت ہے۔ انسانی بقا، عالمی معیشت کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں کا محفوظ مستقبل اسی صورت ممکن ہے جب امریکہ اور ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فریقین ہوش کے ناخن لیں، مذاکرات کی راہ اپنائیں اور دنیا کو امن کے ساتھ جینے کا موقع دیں۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں