دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قانونی لوٹ مار۔ نصر اللہ ناصر
No image ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757 سے 1857 تک اس خطے پر تسلط رکھا، یہ کمپنی بحری قزاقوں کے ایک گروہ نے قائم کی تھی ۔ اس گروہ نے برطانوی بادشاہ کو ایک بڑی رقم بطور رشوت دے کر قانونی حیثیت حاصل کی تھی ۔
1857 سے 1947 تک کا برطانوی راج، اسی کمپنی کی حکومت کا تسلسل تھا ۔ یعنی سیاست، معیشت اور معاشرت کے اصول وہی تھے جو کمپنی نے متعارف کروائے تھے ۔
اس دو سو سالہ دور کی اجتماعی تاریخ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے حصے میں جو قیادت آئی اس نے اس دور کے حوالے سے نہ خود لکھا اور نہ لکھنے دیا ۔
نصابی کتابوں کو تو اس حوالے سے ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی میڈیا کو بھی اس موضوع پر کچھ کہنے اور لکھنے سے دور رکھا گیا ۔
وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ 1947 سے 2026 تک کا دور کمپنی کی حکومت کا روحانی تسلسل ہے یعنی یہاں کے مقتدر حلقے اپنے آپ کو اسی دور کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے ۔
باری علیگ نے " کمپنی کی حکومت" ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے " اوور انڈین مسلم" شمس القمر قاسمی نے " روداد بر صغیر" اور سید حسین احمد مدنی نے " نقش حیات" میں جو کچھ لکھا ہے، پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں جانتا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ فکر و عمل کے تاریخی تسلسل کی سمجھ کے بجائے وقتی ہیجان کا شکار رہتا ہے ۔
یہ کبھی شہباز شریف کو برا بھلا کہے گا، کبھی کسی آرمی چیف کو، کبھی یہ سمگلنگ کے خلاف غصے کا اظہار کرتا ہے تو کبھی انرجی مافیا کو گالیاں دیتا پایا جاتا ہے ۔
مسئلہ یہاں کی صحافت کا نہیں، مسئلہ یہاں کی جہالت کا ہے اور یہ جہالت پیدا نہیں ہوئی، باقاعدہ طور پر پیدا کی گئی ہے ۔
کمپنی کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ مواقع سے فائدہ اٹھاتی تھی اور اپنی اس لوٹ مار کو باقاعدہ طور پر قانونی شکل دیتی تھی ۔
جب ایران امریکہ تنازع شروع ہوا تو کمپنی کے ملازمین نے فوری طور ہنگامی اجلاس طلب کیا اور کہا کہ عالمی منڈی میں توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے اس لیے فوری طور پر گیس اور تیل کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہے ۔ یعنی ایک ہی لمحے میں وہ بحران ہر پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن تک پہنچ گیا تھا ( حالانکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 28 دنوں کا ایندھن موجود تھا ۔ پڑے پڑے وہ ایندھن بحران کا شکار ہو کر مہنگا ہوگیا)
اور جب عالمی منڈی میں قیمتیں نارمل ہوگئیں تو اس کے اثرات بہت سست روی سے نیچے آتے رہے ۔
ہر ہفتے قیمتوں پر نظر ثانی کے نام سے لوٹ مار کی قانون سازی ہوتی رہی ۔ اس کو کہتے ہیں قانونی لوٹ مار ۔
یہ الگ داستان ہے کہ اس عرصے میں سمگلنگ کے ذریعے کتنا سیاہ، سفید کیا گیا ۔ اسمگلنگ کے اس کاروبار بارے بات کرنا جرم ہے کہ یہ پچھلے تین سو سال سے ہو رہا ہے اور اس میں کمپنی کے بڑے ملازمین شریک ہیں ۔ اس کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آسکتی ۔
ہاں یہ رپورٹ منظر عام پر لائی گئی کہ نچلے درجے کے مافیا نے 27 ارب مار لئے ۔
کمپنی کی حکومت کے اس تاریخی تسلسل کو بھی ملاحظہ کیجئے کہ:
زرداری کے پہلے دور میں ایران سے تیل اور گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ باقاعدہ طور پر منظور ہوا اور ایران نے اپنی طرف کا سارا کام مکمل کر دیا جبکہ کمپنی کے ملازمین ابھی تک اس معاملے پر " غور" فرما رہے ہیں ۔
ہے نا تاریخی تسلسل ۔
واپس کریں