دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایک کشمیری کے آنسو
حامدمیر
حامدمیر
لبنان کے شہر صیدا کا ٹرکش ہاسپٹل اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونیوالوں سے بھرا ہوا تھا۔ لبنان کے کسی بھی ہاسپٹل کا دورہ کرنے کیلئے صحافیوں کو وزارت صحت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ تین دن کی کوشش کے بعد ہمیں یہ اجازت ملی تو ہم جنوبی لبنان کے تباہ شدہ علاقوں سے واپس آتے ہوئے صیدا کے اس ہاسپٹل میں رُک گئے۔ پتہ چلا کہ یہاں ایک پاکستانی ڈاکٹر امریکہ سے آئے ہوئے ہیں اور اس وقت آپریشن تھیٹر میں مصروف ہیں۔ ہاسپٹل انتظامیہ نے ہمیں آپریشن تھیٹر کے باہر انکا انتظار کرنے کی اجازت دیدی۔ انتظار کے لمحات نے طوالت پکڑی تو میں نے اپنے موبائل فون کو ہاسپٹل کے وائی فائی سے منسلک کر کے پاکستان کا حال معلوم کرنے کی کوشش کی۔ پہلی خبر جو میرے سامنے آئی وہ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے کسی بیان پر قومی اسمبلی میں تنقید تھی۔ بلاول اور مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع کے اس بیان کی مذمت کی تھی جس میں انہوں نے راولاکوٹ اور میرپور والوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ انہیں کشمیری نہیں مانتے۔ مجھے یقین نہ آیا کہ خواجہ محمد آصف نے یہ بات کی ہوگی کیونکہ چند دن قبل میں نے اُن سے خود درخواست کی تھی کہ وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بگڑتی صورتحال کو سنبھالنے کیلئے کوئی کردار ادا کریں۔ ایک دن میں اور جناب مشاہد حسین حریت کانفرنس کے کچھ دوستوں کی درخواست پر راولاکوٹ جانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن پھر ہمیں بتایا گیا کہ راستے بند ہیں اور آپ وہاں نہیں پہنچ سکتے۔ میں راولاکوٹ تو نہ پہنچ سکا البتہ لبنان کے جنگ زدہ علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہاں آکر پتہ چلا کہ وطن عزیز میں کشمیریوں کی کشمیریت اور پاکستانیوں کی پاکستانیت پر ایک غیر ضروری بحث جاری ہے۔ میں نے جلدی جلدی اس معاملے کو سمجھنے کیلئے اپنے فون پر مزید خبریں تلاش کرنا شروع کیں۔ خواجہ محمد آصف نے راولاکوٹ اور میرپور والوں کے بارے میں کہا تھا کہ میں انہیں لمبا چوڑا کشمیری نہیں سمجھتا کیونکہ یہ پوٹھوہاری بولتے ہیں اور اسکے علاوہ انہوں نے کشمیریت کا پیمانہ جدوجہد اور قربانیاں قرار دیا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا خواجہ محمد آصف کو یاد نہیں کہ 19جولائی1947ء کو جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے جس اجلاس میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی گئی وہ اجلاس کہاں ہوا تھا؟ یہ اجلاس سرینگر میں سردار ابراہیم خان کی رہائشگاہ پر ہوا تھا۔ سردار ابراہیم کا تعلق پونچھ سے تھا۔ اس اجلاس میں سردارفتح خان کریلوی بھی موجود تھے۔ انکا تعلق بھی پونچھ سے تھا اور راولاکوٹ آج بھی پونچھ ضلع کا صدر مقام ہے۔ سردار ابراہیم اور سردار فتح خان کریلوی نے 1947ء میں ڈوگرہ حکومت کیخلاف مسلح بغاوت میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے خواجہ محمد آصف پر تو تنقید کی گئی لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُنکی پارٹی سےتعلق رکھنے والے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیکر جموں وکشمیر کے حالات کو مزید کشیدہ کیوں کردیا؟ فیصل ممتاز راٹھور کا تعلق بھی راولاکوٹ سے ہے۔ عام خیال مگر یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کسی اور نے کیا اور راٹھور نے مجبوری میں اس حکم کو تسلیم کیا۔ اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو پھر انہیں سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔ میں آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ایک دوسرے کیخلاف منافقانہ بیان بازی پر پریشان ہو رہا تھا کہ اچانک آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ایک ڈاکٹر صاحب اپنے چہرے کا ماسک ہٹاتے ہوئے میری طرف بڑھے۔ یہ تھے ڈاکٹر سلمان دستی جن کا تعلق لاہور سے ہے لیکن وہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رہتے ہیں اور لبنان جنگ کے زخمیوں کے علاج کیلئے کئی دن سے بلامعاوضہ صیدا کے ٹرکش ہاسپٹل میں کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان مجھے مختلف وارڈز میں لے گئے۔ یہاں کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی کسی کا بازو کٹ چکا تھا لیکن سب زخمیوں کے حوصلے بلند تھے۔ اسرائیلی بمباری سے شہید اور زخمی ہونیوالوں میں شیعہ بھی تھے اور سُنی بھی۔ اسرائیلی راکٹوں اور گولوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جنوبی لبنان میں رہنے والوں کا رنگ ، نسل اور فرقہ کیا ہے؟ اسرائیلی راکٹوں نے ہر فرقے کے مسلمان اور اُسکی مسجد کو نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر سلمان اس سے قبل غزہ میں بھی مظلوم مسلمانوں کی خدمت کر چکے ہیں۔ اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔ ”پاکستان کا کیا حال ہے؟“ میں نے انہیں وہ حال بتانے سے گریز کیا جو تھوڑی دیر پہلے مجھے پتہ چلا تھا۔ یہ ڈاکٹر اپنے وطن سے ہزاروں میل دور کسی ذاتی یا سیاسی مقصد کے بغیر صرف اور صرف اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی خدمت کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے اور اُسکے وطن کا حکمران طبقہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کو آپس میں اُلجھا رہا ہے۔ ڈاکٹر سلمان سے رخصت لیکر ہم صیدا سے بیروت کی طرف روانہ ہوئے تو میرا ذہن پاکستان میں اُلجھا ہوا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے حکمران عالمی تنازعات حل کرانے پر ٹرمپ سے شاباش لے رہے ہیں لیکن اپنے ملک میں غیر ضروری تنازعات کھڑے کر رہے ہیں؟بیروت سے پاکستان واپسی کیلئے دوحہ پہنچا تو ائیرپورٹ پر سرینگر کے ایک صحافی مل گئے جو برطانیہ جا رہے تھے۔ مجھے گلے لگاتے ہی رونے لگے اور کہا کہ یہ آپ لوگ کشمیریوں کو کشمیریوں سے کیوں علیحدہ کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے انجان بننے کی کوشش کی تو وہ دھاڑیں مارکر رونے لگے اور پاکستان کے حکمرانوں کے نام لے لیکر انہیں کوسنے لگے۔ مجھے یاد دلاتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم کشمیریوں کی سب سے مستند تاریخ محمدالدین فوق نے لکھی ہے جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن ہوئے۔ کشمیریت کا تعلق زبان سے نہیں تاریخ ، جغرافیے اور ثقافت سے ہے۔ محمد الدین فوق کی کتاب ”تواریخ اقوامِ کشمیر‘‘ (دو جلدیں) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وادئ کشمیر میں صرف کشمیری بولنے والے نہیں بلکہ بہت سے گجر، راجپوت، افغان اور مغل بھی بستے ہیں۔ انکی دوسری کتاب ”تاریخ اقوام پونچھ “ میں بتایا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور پونچھ کے دیگر علاقوں میں صرف سدھن، راجپوت، بھٹی، گجر اور گکھڑ نہیں بلکہ کشمیری میر، لون، بٹ، ڈار اور سادات بھی بستے ہیں۔ کشمیر کے سادات کی تمام نسلوں کا اس کتاب میں تفصیلی ذکر موجود ہے۔ انکی تیسری کتاب ” تاریخ اقوام جموں“بھی یہی بتاتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن اس ریاست کے تمام رہنے والے اپنے آپکو کشمیری سمجھتے ہیں ۔ محمد الدین فوق نے سردار فتح خان کریلوی کی قیادت میں پونچھ بغاوت کو جموں وکشمیر ایجی ٹیشن کا حصہ قرار دیاہے۔ اس بغاوت میں پونچھ کے لوگوں نے 1929ء میں ناجائز ٹیکسوں کیخلاف کسٹم کی چوکیاں جلائیں ،جموں کے لوگوں نے 1931ء میں توہینِ قرآن کیخلاف جلوس نکالنے شروع کئے اور میرپور والوں نے پیر صبح صادق شاہ کی قیادت میں تھانوں پر حملے کر کے گرفتار مسلمانوں کو رہا کرایا۔ یہ بغاوت سرینگر پہنچی جہاں ایک پختون عبدالقدیر کی رہائی کیلئے کشمیری مسلمانوں نے مظاہرہ کیا۔ ان مسلمانوں پر 13 جولائی 1931ء کو فائرنگ ہوئی اور اس میں دو درجن شہادتیں ہوئیں۔ 13جولائی آج بھی کشمیریوں کا یوم شہداء ہے جو آر پار مشترکہ طور پر منایا جاتا ہے اور اسکا تعلق کشمیریوں کی کسی نسل یا زبان سے نہیں بلکہ اُنکے عقیدے سے ہے۔ کشمیری صحافی کپکپاتی آواز میں روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میرپور سے مظفر آباد تک اور جموں سے سرینگر تک سب کشمیری ایک ہیں۔ کشمیریوں کو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ اُنہیں اپنی کشمیریت کیلئے کسی جاتی امرا کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ جس طرح پنجاب میں رہنے والے پنجابی اور سندھ میں رہنے والےسب سندھی ہیں اسی طرح ریاست جموں وکشمیر میں رہنے والے بھی سب کشمیری ہیں۔ سرینگر کے اس کشمیری صحافی کی فلائٹ کا ٹائم ہو رہا تھا وہ اپنی بات ختم کر کے بورڈنگ گیٹ کی طرف روانہ ہو گیا لیکن بار بار پیچھے مڑ کر مجھے دیکھتا اور اپنے آنسو پونچھتا جا رہا تھا۔
واپس کریں