دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گاؤں سے پردیس تک
منظر الحق
منظر الحق
ہمارے دور دراز علاقوں میں،گاوں اور گوٹھوں میں ,عام دیہاتی لندن سے عجب عقیدت رکھتے ہیں اور شاید کچھ والہانہ محبت و انسیت بھی رکھتے ہیں۔اس امر کی کیا وجوہات ہیں،پہلی انگریز سرکار کی برصغیر میں دو سو سالہ حکومت،دوسری ان کا اپنی تہذیب و تمدن پر گھمنڈ ،تیسری سائنسی ایجادات کا بینڈ باجا بجانا اور آخری ہمارے روسا و زعماء کا تعلیمی ،ثقافتی و تفریحی لندن کا سفر،جو تعیش کی معراج سمجھا جاتا تھا۔
پہلے لندن کا قصد صرف امراء کرتے تھے،اس سلسلے کی ابتداء انگریزوں کے دور حکومت میں شروع ہوئ اور بعد میں عام انسانوں کو بھی یہ بیماری لاحق ہو گئ۔جسے دیکھو منہ اٹھائے لندن چلا جاتا ہے،نہ اس کا کوئ تعلیمی تعلق اور نہ ہی کوئ ثقافتی بندھن۔ساٹھ ستر کی دھائ میں ایک وقت آیا،جب گاوں کے گاوں خالی ہونے لگے اور لندن چلو کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئ۔دیہاتی افراد کہاں پیچھے رہنے والے تھے،انھوں نے بھی اپنے سر پر پگڑ باندھے اور دھوتی و کھڑام سنبھال کر، لندن جانے کا قصد کر لیا۔
ہمارے ملک کے دیہاتوں میں، سہولیات کا فقدان ہے اور بیشتر دیہی علاقے دنیاوی آسائشوں سے مبرا ہیں۔ہمارے اکثر دیہاتی، کھیت و کھلیان کی تازہ ہوا میں،زندگی کی ضروریات سے فراغت پاتے ہیں اور استنجا وغیرہ کر کرا کر واپس آتے ہیں۔وہ نہ پانی کا استعمال کرتے ہیں ،نہ ہی کوئ کاغذ استعمال کرتا ہے، بلکہ مٹی،پتھر و پتوں سے صفائ ستھرائ کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اس قماش کا کوئ شخص جہاز میں پرواز کرے گا،ذرا اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگائیں،جب وہ بیت الخلاء کا دروازہ کھولے کھڑا ہو گا اور رفع حاجت کی اشد ضرورت پیش آئے گی۔
خیر یہ قصہ بعد کے لیئے اٹھائے رکھتے ہیں،اب گاوں کے باریش منحنی بزرگ ،جنھیں سارا گاوں بابا جی کہتا ہے،ان کا ذکر ہو جائے۔بابا جی اپنی عمر کے اس حصے میں تھے، جہاں آدمی زیادہ تر اپنے صحن میں بیٹھا ،پرانی یادوں کی تسبیح کے دانے گننے لگتا ہے اور ان یادوں کے سہارے ہی زندہ رہتا ہے۔ بابا جی کے دل میں ایک کونا ایسا تھا ،جو ابھی تک لندن میں مقیم بیٹے کی محبت اور اس کی اولاد، پوتے پوتی کے دیدار کی پیاس سے خالی نہ ہوا تھا۔
بیٹا برسوں پہلے تعلیم اور روزگار کی تلاش میں لندن جا بسا، وہاں کی ہوائیں، وہاں کی تہذیب اور وہاں کا ماحول رفتہ رفتہ اس کو اپنے رنگ میں ڈھالنے لگا۔ بابا جی گاؤں کی مٹی سے جُڑے رہے، وہی کھیت کھلیان، وہی اذانوں کی گونج اور وہی مسجد کے صحن میں بچوں کا شور،بس یہی ان کی زندگی کی حقیقت تھی۔اب دل نے اصرار کیا کہ بیٹے کو دیکھا جائے،یوں سارئ گاؤں میں خبر پھیلی:“بابا جی پہلی بار پردیس جا رہے ہیں!”ہمساے اور رشتہ دار رخصت کرنے آئے۔ کوئی دعائیں
واپس کریں