دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سرمایہ کاری کی حکومتی اپیل اور حقائق
No image محترم وفاقی وزیر حنیف عباسی نے ابصار عالم کے ٹی وی شو میں اپنی حکومت کی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ”ہماری حکومت لوگوں کو باہر کے ملک سے پیسہ پاکستان میں لگانے کا کہہ رہی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کارخانے بند پڑے ہیں“۔ یہ کھلی افسوس ناک کھلی حقیقت تو ہر کوئی جانتا ہے لیکن سوال ہے کہ آخر یہ حکومت کس مرض کی دوا ہے؟کیا اس کا کام صرف آئی اہم ایف سے سودی قرضے لینا ہی رہ گیا ہے؟
امر واقع یہ ہے کہ ملک میں کارخانوں خاص طور پر ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ سیکٹرکے بند ہونے کی وجوہات اور مسائل کئی سالوں سے چل رہے ہیں۔ 2022-2026 کے دوران خاص طور پر یہ صورت حال سامنے آئی ہے اور یہ صرف ایک حکومت کی نہیں بلکہ طویل مدتی اقتصادی اور ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ مثلاًتوانائی کا بحران اور مہنگی بجلی/گیس۔ واضع رہے کہ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت علاقائی ممالک بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام سے تقریباً دگنی ہے۔
بار بار لوڈ شیڈنگ اور آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے capacity payments بہت زیادہ ہیں،گیس کی قلت اور مہنگی قیمتوں سے ٹیکسٹائل ملز متاثر ہوتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پروڈکشن لاگت بڑھ جاتی ہے اور مارکیٹ میں مقابلہ نہیں ہو پاتا اور سرمایہ کار واپس بھاگ جاتا ہے۔
مہنگے قرضوں کی شرح اور شرح سود کی وجہ سے کاروباری قرضے مہنگے ہیں جس باعث فیکٹریاں نئی مشینری، آپریشنز یا توسیع کے لیے فنڈ نہیں اٹھا پاتیں۔پیچیدہ ریگولیشنز، متعدد ٹیکسز اور سرکاری مداخلت نے بھی شریف آدمی کے کاروبار کو مشکل بنایا ہوا ہے۔
حکومت یا اس کے کسی وزیر کی جانب سے سرمایہ کاری کی اپیل کے باوجود جب مقامی فیکٹریاں بند ہو رہی ہوں تو باہر سے پیسہ لانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ سرمایہ کار رسک دیکھتے ہیں۔ کوئی وزیر صاحب یا ان کی حکومت کو بتائے کہ اپنی ناکامی کا رونا رونے کے بجائے سب سے پہلے حکومت خود سادگی اختیار اورشاہی قسم کے اخراجات ختم کرے تا کہ سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے میں راغب ہو سکے،حکومت توانائی کی قیمتوں میں کم اور ٹیکس ریفارم کرے، طویل مدتی معاشی پالیسیاں، سیاسی استحکام اور برآمدات بڑھانے کی کوشش کرے، ملک میں جو کاروباری طبقہ رہ گیا ہے اسے تسلی سے کاروبار کرنے دے،ایف بی آر اور پیرا فورس کو لگام دے اورسب سے اہم کہ بلیک منی کو مارکیٹ میں آنے دے تا کہ پیسہ سسٹم میں داخل ہو سکے۔ عوام کے ٹیکسوں سے ہی حکومتی نظام چلتا ہے، سب جانتے ہیں اس لیئے ٹیکس ضرور لگائیں لیکن پہلے چھوٹے تاجر وں اور دکانداروں کو کمانے تو دیں۔
واپس کریں