پاکستان کے سیاسی اور معاشی بحران سے نکلنے کے دو راستے ۔ سید مجاہد علی

پاکستان کے پاس موجودہ بحران سے نکلنے کے صرف دو ہی راستے ہیں۔ ایک مکمل اور قابل توجہ معاشی احیا اور عوام کے زندگیوں میں محسوس کی جانے والی واضح تبدیلی۔ دوسرا راستہ مکمل سیاسی اعتماد کی بحالی اور مل جل کر ملکی مسائل حل کرنے پر اتفاق رائے سے ہو کر گزرتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت یا اس کی سرپرستی کرنے والی اسٹیبلشمنٹ ان دونوں میں سے کوئی ایک راستہ بھی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔
ملک میں ہائبرڈ نظام کا چرچا ہے۔ اس بارے میں نت نئی موشگافیاں سننے میں آتی رہتی ہیں لیکن اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ شہباز شریف کی سربراہی میں قائم حکومت کو فوجی قیادت کا مکمل تعاون دستیاب ہے۔ دونوں طرف سے اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ وزیر اعظم تو کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جب وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے نہ ملائیں۔ انہوں نے ملکی سیاست میں طویل مدت گزارنے کے بعد یہی ایک ہنر سیکھا ہے کہ خوشامد اور چاپلوسی سے فوجی قیادت کو ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی معاملہ پر کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا نہ کیا جائے۔ وہ سمجھتے رہے ہیں اور اب کر کے دکھا رہے ہیں کہ عسکری لیڈروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کا قومی مقصد کے لیے یا انفرادی طور سے سود مند نہیں ہو سکتا ۔ وہ یہی نسخہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو بھی ازبر کرانے کی کوشش کرتے رہے تھے لیکن بڑے شریف نے جب بھی اقتدار سنبھالا، کسی نہ کسی سوال پر فوجی لیڈروں سے بگاڑ پیدا کیا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت بار بار ختم ہوتی رہی۔ بالآخر اب اقتدار کا ہما شہباز شریف کے سر پر بیٹھا ہے تو وہ اپنی اس صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ طریقہ شہباز شریف کے اقتدار کی حفاظت کی حد تک تو درست ثابت ہو رہا ہے لیکن قومی مسائل کے حل میں اس رویہ سے کوئی فرق محسوس نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ایک ممتاز صحافی نے گزشتہ دنوں موجودہ حکومت کے دن گن جانے کے بارے میں پیش گوئی پر مشتمل تجزیہ پیش کیا اور موقف اختیار کیا کہ جو حکومت معاشی مسائل حل نہ کرسکے اور سیاسی بحران سے ملک کو نہ نکال سکے، اس کا تادیر قائم رہنا ممکن نہیں ہو سکتا ۔ بعد میں ملک کے متعدد تجزیہ نگاروں نے اس موقف کی تائید کی۔ تاہم حکومت نے اس پر کوئی خاص ردعمل دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
البتہ ان عوامل کا احاطہ کرتے ہوئے جن کی وجہ سے موجودہ حکومت کو ختم ہوجانا چاہیے، یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حکومت صرف شہباز شریف کا نام تو نہیں ہے۔ اگر بعض سیاسی مجبوریوں یا اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کی وجہ سے موجودہ حکومت تبدیل کرنے کی نوبت آ جائے تو کیا ہو گا؟ تجزیوں میں حکومت تبدیلی کی نوید دینے والے بھی نئے انتخابات کی بات نہیں کرتے۔ اس طرح یہ اندازے صرف ایک فرد یا سیاسی پارٹی کے طرز عمل کے بارے میں گفتگو تک محدود ہو جاتے ہیں۔ فرض کر لیا جائے کہ موجودہ سیٹ اپ میں شہباز شریف کی بجائے کسی دوسرے کو وزیر اعظم بنانے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو وہ یا تو مسلم لیگ (ن) کے اندر سے شہباز شریف کی بجائے کسی دوسرے لیڈر کو وزارت عظمی کا منصب دینے کے لیے ہوگی یا پھر پیپلز پارٹی پر بھروسا کر کے اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یہ عہدہ مل سکتا ہے۔ اول تو یہ دونوں تبدیلیاں کسی بھی طرح ممکن دکھائی نہیں دیتیں۔ لیکن اگر طاقت ور اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے اس حد تک مایوس ہو جائے تو کیسے یہ ہدف حاصل کیا جائے گا اور اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ کیا کوئی بھی نیا وزیر اعظم معاشی بحالی، سیاسی استحکام، مکالمہ کے آغاز اور میڈیا کو آزادی و احترام دینے کا بہتر راستہ اختیار کرسکے گا؟
ملکی سیاست سے واقف کوئی بھی شخص اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ ایسا معجزہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) پر شریف خاندان کا کنٹرول ہے، وہ خاندان سے باہر کسی شخص کو ملک کے سب سے بڑے عہدے تک پہنچنے نہیں دے گا۔ شریف خاندان میں شہباز شریف کے علاوہ نواز شریف یا اسحاق ڈار ہی باقی بچتے ہیں۔ نواز شریف کے لیے تو ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر اسحاق ڈار کو متبادل کے طور پر سامنے لایا جاتا ہے تو وہ سیاسی طور سے شاید شہباز شریف جتنا وقت بھی نہ بتا سکیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری اس وقت تک وزیر اعظم نہیں بن سکتے جب تک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کو اقتدار میں قابل ذکر حصہ نہیں دیتی۔ اس طرح سوائے چہرے تبدیل ہونے کے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ ایک تیسرا آپشن مریم نواز کو وزیر اعظم بنانے سے متعلق موجود ہے۔ تاہم ایسی صورت میں ایک تو مسائل حل کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ سامنے نہیں آ سکے گا۔ دوسرے مریم کے مزاج کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ہم آہنگی سے زیادہ افتراق اور تصادم کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ اسی لیے موجودہ حالات میں ایسے انقلابی اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔
تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہائبرڈ نظام یا فوج کی سرپرستی سے قائم ہونے والی کوئی نئی حکومت کیوں کر شہباز حکومت سے مختلف اور بہتر کارکردگی دکھا سکے گی۔ اس بارے میں یہ کلیدی سوال بھی توجہ طلب ہو گا کہ اگر فیصلہ ساز قوت اسٹیبلشمنٹ ہے تو صرف ایک ’کٹھ پتلی وزیر اعظم‘ کی تبدیلی سے کیا حاصل ہو گا۔ اس لیے وزیر اعظم تبدیل کرنے کی بجائے مناسب ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کے بارے میں سنجیدگی دکھانے مطالبہ کیا جائے۔ البتہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اس وقت حکمران طبقہ خود کو محفوظ اور طاقت ور سمجھ رہا ہے۔ اسے عالمی رسائی حاصل ہے اور اہم ممالک فوجی سربراہ کی خدمات کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ایسے میں ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال اور میڈیا کی آزادی کے سوال پر کسی قسم کا کوئی دباؤ موجود نہیں ہے۔ اس لیے شہباز شریف ہوں یا ان کے پشت پناہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، انہیں یہ احساس دلانا ممکن نہیں ہے کہ ملکی معاملات فوری درستی کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اگر سیاسی بداعتمادی کی فضا ختم نہیں ہو سکتی اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی چنی ہوئی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا تو موجودہ حکومت کو معاشی میدان میں بہتر پرفارمنس دکھانے پر مجبور کیا جائے۔ دکھاوے کے لیے ہی سہی، پارلیمنٹ کا اعتماد بحال کیا جائے اور اہم معاملات زیر بحث لانے کی روایت زندہ کی جائے۔ اسی طرح میڈیا کو آن بورڈ لینے اور گھٹن کے ماحول میں کمی کے لیے کچھ ضروری اقدام کیے جائیں تاکہ کسی طرف سے روشنی کی کوئی کرن تو نمودار ہو۔
دریں حالات موجودہ سیٹ اپ میں سیاسی تبدیلی کا نہ تو امکان ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہو گا۔ فوج کو اگر موجودہ نظام کا محافظ مان لیا جائے تو وہ بھی اسے تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ کیوں کہ طاقت ور حلقوں میں یہ احساس مستحکم ہو چکا ہے کہ اب بحرانوں پر قابو پا لیا گیا ہے اور ملک کے آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ نئے انتخابات یا کسی نئی پارٹی کی کامیابی کی شکل میں یہ ’استحکام‘ ضائع ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں اس ’موقع‘ کو ضائع کرنے کا رویہ دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ کوئی حکومت یا نظام خواہ کتنا ہی مستحکم ہو، جب تک عام شہری کو اطمینان اور سہولت میسر نہیں ہوگی، بے چینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
بدگمانی، بے چارگی اور مایوسی کا یہ عنصر کسی بھی نظام کو اندر سے کمزور یا تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اپنے اختیار اور معاملات پر مکمل دسترس کا گمان کرتے ہوئے ارباب اختیار کو اس پہلو پر بھی غور کر لینا چاہیے۔
بشکریہ: کاروان ناروے
واپس کریں