کشمیری عوام بائی چانس پاکستانی نہیں بلکہ بائی چوائس پاکستانی ہیں

پٹرولیم کمپنیوں یعنی اشرافیہ کو فائدہ دیتے ہوئے پٹرول سستا نہ کرنے پر حکومت پر ایسے محب الوطنوں کو تنقید کرنے کرنے کا کوئی حق نہیں جو آذاد کشمیر میں اپنے حقوق کے لیئے احتجاج کرنے والے عام عوام پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔ خیر اصل موضوع کی جانب آتے ہیں،امر واقع یہ ہے کہ اگر حکومتیں عوامی مسائل پر توجہ نہیں دیتیں تو دنیا بھر میں پہیہ جام یا شڑ ڈاون کر کے ہی اپنے مطالبات اور احتجاج کو ریکارڈ کروایا جاتا ہے اور یہی احتجاج کرنے کا ایک مہذب طریقہ ہے نا کہ بندوق اٹھا کر حکومتوں کے خلاف محاذ آرائی کی جائے،ایسی صورت میں حکومتیں یہ انوکھا موقف اختیار نہیں کرتیں کہ چونکہ شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہے لہذا عوام کا راشن پانی ہی بند کر دیا جائے اور پھر دنیا بھر میں خود کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔
گزشتہ تین ہفتوں سے اپنے جائز اور بنیادی مطالبات کو منوانے کے لیئے آذاد کشمیر میں مختلف مقامات پر عوام پر امن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں،احتجاج کرنے والوں کے پاس کسی قسم کا اسلحہ یا ڈنڈے نہیں ہیں،ہاں اگر کسی کے پاس اسلحہ برآمد ہوتا ہے یا کوئی شرپسندی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیئے اور حوالے سے پیشگی طور پر دھرنے کے منتظمین پہلے ہی باور کروا چکے ہیں کہ پر امن احتجاج یا لانگ مارچ میں افراتفری پھیلانے اور اسلحہ کا استعمال کرنے والوں کا ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا جبکہ دوسری جانب چند شرپسند عناصر کی وجہ سے پوری ریاست کے عوام کو غدار یا دہشت گرد پکارنا بھی کوئی دانشمندی نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے عوام کے لیئے نفرت کا کھلا پیغام ہے۔
مذکورہ احتجاج یکا یک منظر عام پر نہیں آیا بلکہ کئی ماہ قبل ایکشن کمیٹی نے اس کا اعلان کر رکھا تھا اور اس ضمن میں مذاکرات کرنے اور اپنے مطالبات کی بات کی تھی لیکن ہدایت کاروں کو شائد اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ اتنا طول پکڑ جائے گا کہ بی بی سی جیسے عالمی نشریاتی ادارے کو بھی اس ضمن میں خصوصی رپورٹ جاری کرنا پڑی جس سے پاکستانی پالیسی سازوں اور ہدایت کاروں پر انگلیاں اٹھی ہیں۔بحرحال
ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ہمیں اپنے دشمنوں کو مذید موقع نہیں دینا چاہئے جو دن رات منفی پراپوگنڈے میں مصروف عمل ہیں۔ایکشن کمیٹی کے لیڈران سے بامعنی بات کی جائے،فورتھ شیڈول میں شامل لوگ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں، یہ دل جیتے کا وقت ہے نہ کہ اپنوں کو اپنے سے دور کرنے کا۔
اپنے حقوق مانگنا غداری نہیں بلکہ محب الوطنی ہے کیونکہ جن کو غدار کہا جا رہا ہے وہ آپ سے ہی مخاطب ہو کر اپنے بار بار اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں ناکہ کسی دشمن ملک سے اپنے مطالبات کے پورا کرنے کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔پاکستانی بھائی بہن یاد رکھیں کہ کشمیری عوام بائی چانس پاکستانی نہیں بلکہ بائی چوائس پاکستانی ہیں لیکن نہ جانے ہدایت کار کون سی قوتوں کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں مصروف عمل ہیں؟
بقول نامور صحافی مطیع اللہ جان کہ ”وفاقی حکومت کشمیریوں کو ناراض کر کے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جس کے نتیجے میں ردِعمل سامنے آئے اور پھر اسی ردِعمل کو بنیاد بنا کر آئین میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں جیسا کہ بھارت میں کیا گیا تاکہ کشمیر کو مستقل طور پر پاکستان کا حصہ بنانے کی راہ ہموار ہو سکے“ تو عرض کرتا ہوں کہ پھر وفاقی حکومت اور ہدایت کاروں کو مایوسی کا سامنا ہو گا کیونکہ کشمیری کبھی بھی بلکہ کسی صورت بھی کشمیر پر اپنے بھائی،دوست اور محسن ملکِ پاکستان کا مقدمہ کمزور نہیں ہونے دیں گے۔
واپس کریں