ڈاکٹر صائمہ غیاث الدین پہلی MRCOG کنسلٹنٹ بننے کا اعزاز پانے والی، برطانوی ڈگری سے سرفراز

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی ۔ کراچی کے صنعتی مضافات کی متحرک اور جاندار فضاؤں میں جب لیبر اسکوائر اور کارخانوں کے پہیے ملک کی معاشی ترقی کا مینوفیکچرنگ آرڈر لکھ رہے ہوتے ہیں، تو وہاں محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود اور ان کا سماجی تحفظ ریاست اور اداروں کا ایک مقدس ترین فریضہ بن جاتا ہے۔ اس صنعتی ماحول میں، جہاں پبلک سیکٹر کے ادارے دن رات مزدوروں کے معیارِ زندگی اور ان کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں، کلثوم بائی ولیکا (KV) سوشل سیکیورٹی ہسپتال محض ایک علاج گاہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی امیدوں کا ایک معتبر اور مضبوط سہارا قرار پاتا ہے۔ اسی پروقار پس منظر میں ڈاکٹر صائمہ غیاث الدین کا معتبر برطانوی طبی اعزاز (MRCOG) حاصل کر کے اس اہم طبی ادارے میں پہلی باضابطہ کنسلٹنٹ کے طور پر سامنے آنا ایک ایسا خوبصورت فکری استعارہ ہے جو پیشہ ورانہ عزمِ صمیم کی معراج کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سنگِ میل صحتِ عامہ کے شعبے میں جاری تعمیری سفر کا ایک روشن اور تاریخی باب ہے، جہاں اب محروم طبقات کی ماؤں اور بہنوں کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار کی زچگی و امراضِ نسواں کی سہولیات میسر آئیں گی، جس سے پبلک سیکٹر کی طبی خدمات کا وقار مجموعی طور پر مزید بلند ہوا ہے۔ ان کا یہ اعزاز قابلیت، استعدادِ کار اور میرٹ کے فروغ کے موجودہ دور میں ایک واضح محققانہ گواہی ہے کہ اگر انسانی جذبوں کو مخلصانہ پیشہ ورانہ لگن کا ایندھن مل جائے تو عوامی خدمت کے ہر دائرے میں شفا کی نئی شمعیں روشن کی جا سکتی ہیں۔
یہ شاندار کامیابی کسی وقتی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے اس خطے کے پبلک ہیلتھ کیڈرز کی وہ انتھک تعمیری حرکیات کارفرما ہیں جو نسل در نسل نرسنگ اسٹاف اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے سروس اسٹرکچرز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور طبی نظام کو مزید جاندار بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اگر ہم سندھ کے سماجی تحفظ کے اداروں (SESSI) کی ادارہ جاتی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں حالیہ برسوں میں نظام کی جدید کاری، ماڈرن ہیلپ ڈیسکوں کے قیام اور اسٹاف ٹریننگ سیشنز کے ذریعے ایک تعمیری اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل مخلصانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سازگار اور ارتقائی ماحول میں ایک اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ قابلیت کا حامل ہونا اس حقیقت پسندانہ عکاسی کو جنم دیتا ہے کہ اب اس ہسپتال کے کوریڈورز میں آنے والے لاچار مریضوں کو سائنسی بنیادوں پر استوار وہ جدید ترین طبی نگہداشت مستقل بنیادوں پر ملے گی جو ان کا بنیادی آئینی و سماجی حق ہے۔ یہ تروتازہ فکری زاویہ روایتی کالم نگاری کی اس فرسودہ روش سے ہٹ کر ہے جو ایسے اعزازات کو صرف ایک ذاتی کامیابی کا ذریعہ سمجھتی ہے؛ درحقیقت یہ ایک مشترکہ ادارہ جاتی بیانیے کی کامیابی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ کے وی سائٹ ہسپتال اب اپنی بہترین روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ کارکردگی اور بین الاقوامی معیار کی ایک نئی بساط بچھانے کی مکمل سکت اور وژن رکھتا ہے۔
اس پورے منظرنامے کو اگر ایک تمثیلی داستان کے طور پر دیکھا جائے، تو یہ ایک ایسے روشن ضمیر اور مخلص مسیحا کی کہانی ہے جو نجی شعبے کے پرآسائش ماحول پر عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے محنت کشوں کے درمیاں آ کھڑا ہوا ہے تاکہ ان کی زندگیوں میں آسودگی لائی جا سکے۔ ہمارے ہاں ریاستی میزانیے اور مالیاتی پالیسیوں میں انسانی وسائل کی اس سائنسی ترقی اور پیشہ ورانہ استعداد کو اب خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، اور بجٹ سازی کے عمل میں ملازمین کے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے سمیت دیگر مراعات کو بہتر بنانا حکومتی ترجیحات کا حصہ نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ کی یہ فتح اس سماجی ارتقا کا ایک شاندار اور عملی نمونہ ہے، کیونکہ یہ یاد دلاتی ہے کہ جب ہم اپنے محنت کش طبقے کے لیے عالمی معیار کے ماہرین فراہم کرتے ہیں، تو صحتِ عامہ کا پورا نظام مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔ ان کی یہ مسند نشینی اب کے وی ہسپتال کے نظم و نسق کے لیے ایک تعمیری موقع بھی بن چکی ہے کہ وہ اس غیر معمولی انسانی سرمائے کی بھرپور قدردانی کرتے ہوئے انہیں ایک جدید ترین، سازگار اور معاون طبی ماحول فراہم کرے، تاکہ پبلک سیکٹر میں برین ڈرین کے امکانات کا تدارک کر کے ایسے ہیروں کی چمک سے عوام کو طویل عرصے تک فیض یاب کیا جا سکے۔
آج جب ہم اس شاندار کامرانی پر ترقی اور خوشحالی کے اس مجموعی سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو یہ اعتراف ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہماری مٹی اور ہمارے پبلک سیکٹر کے ادارے اب بھی انتہائی زرخیز ہیں، بشرطیکہ انہیں مخلصانہ قیادت اور تعمیری انتظامی سرپرستی کی مسلسل نمی میسر رہے۔ یہ نئی لفظیات اور گہرا تجریدی پیرایہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس صدارتی اور ادارہ جاتی فخر کو نہ صرف سراہیں، بلکہ اسے ایک ایسے منظم اور مربوط ہیلتھ ماڈل کا نقطہ آغاز بنائیں جہاں کلینکل گورننس اور پیشنٹ کیئر کے اعلیٰ ترین معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ماشاءاللہ کا یہ روحانی حصار اور دلی تبریک اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ جب کوئی بیٹی اپنی محنت، خلوص اور خونِ جگر سے تاریخ کا ایک نیا اور سنہرا ورق لکھتی ہے، تو پورے معاشرے اور ملک کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر صرف ایک قابل ڈاکٹر کی کامیابی کا اعتراف نہیں، بلکہ سندھ کے پورے پبلک ہیلتھ سیکٹر کے لیے ایک تروتازہ اور امید افزا تعمیری مینی فیسٹو ہے، جو واضح کرتا ہے کہ مستقل ترقی کا سفر علامتی نعروں سے نہیں، بلکہ اسی طرح کے ٹھوس، مستند اور بین الاقوامی معیار کے انقلابی سنگِ میلوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
واپس کریں