دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کربلا: اعلاء کلمۃ الحق کا آفاقی پیغام
No image واقعۂ کربلا صبر‘ استقامت اور اعلاء کلمۃ الحق کاآفاقی پیغام ہے جس سے یہ درس ملتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا ہی انسانی زندگی کا شرف اور معراج ہے۔ امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی ؓ کی سیرت اور شہدائے کربلا کی عزیمت امتِ مسلمہ کیلئے حوصلے‘ عزم اور استقامت کا ایک ایسا سرچشمہ ہے کہ قریب 1400 برس سے جاری ہے‘ امتدادِ زمانہ کے ساتھ نہ اس کی تاثیر اور روانی میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی اس سے وابستہ پیغام کی تازگی میں۔ عاشورا ہر دور کے انسان کو ظلم‘ ناانصافی اورجبرو استبداد کا مقابلہ کرنے کا درس دیتا ہے اور اصلاح کی ایسی تحریک ہے جو سماج میں عدل اور انفرادی سطح پر جذبۂ حریت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نفاذ کا دستور العمل ہے۔ضروری ہے کہ واقعۂ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ اور اس کے ساتھ وابستہ المناکیوں کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک فکری تحریک اور ایک اصلاحی نظام کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جناب ِحسین ابن علیؓ نے میدانِ کربلا میں اپنی اور اپنے اعزہ و اقربا کی عظیم قربانیاں پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ایک مومن کی شان نہیں۔
آج کے دور میں جب سماج طرح طرح کی خرابیوں سے آلودہ ہے ‘ حق تلفی ہے‘ ناانصافی ہے‘ بے رحمی اور انفرادی سطح پر مظلوم کا ساتھ دینے کے حوصلے پست ہیں ‘ان حالات میں ہمیں یہ سمجھنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ واقعۂ کربلا صرف غم و سوگ کا استعارہ نہیں بلکہ حق‘ عدالت‘ حریت اور انسانی شرف و تکریم کی یادگار ہے۔ کوئی بھی فرد اور سماج جو فکرِ حسینؓ سے ہدایت کا اکتساب کرے تو ممکن نہیں کہ اس کی ذات میں وہ بنیادی تبدیلیاں واقع نہ ہوں جوفلسفۂ کربلا کا مطمح نظر ہیں۔ اس لیے اگر ہمیں ذاتی اور سماجی سطح پر ایسی معصیتوں کا سامنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم فکرِ حسینؓ کے ساتھ اپنے تعلق کو مستحکم کریں۔ واقعۂ کربلا کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے یہ واضح کیا کہ حق و باطل کی کشمکش میں اصل کامیابی ظاہری غلبے سے نہیں اصولی مؤقف پر ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔فکرِ حسینؓ کا ایک پہلو انسانی وقار اور آزادی کا تحفظ بھی ہے۔ جب معاشروں میں حق گوئی کی آواز دبنے لگے‘ انصاف کمزور پڑ جائے اور اقتدار جوابدہی سے آزاد ہو جائے تو ایسے حالات میں کربلا کا پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ پیغام افراد کو اپنے ضمیر کی آواز سننے‘ اپنا محاکمہ کرنے اور حق بات کہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا مختلف سماجی‘ سیاسی اور اخلاقی بحرانوں سے گھری ہوئی ہے‘ واقعہ کربلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سماج کی اصلاح صرف نعروں سے نہیں کردار اور عملی جدوجہد سے ممکن ہے۔
اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں دیانت‘ انصاف اور اصولوں کے ساتھ سچی وابستگی کو فروغ دیں تو بہتر اور متوازن سماج کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ عالم اسلام کے کتنے ہی حصے ظلم و جبر کے نشانے پر ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران ایک کے بعد ایک ایسی اندوہناک مثال سامنے آئی۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت کا بازار ابھی گرم ہے کہ اس سال کے شروع میں ایران امریکی اور اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گیا اور ایران میں جنگ بندی ہوئی تو لبنان میں ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی جانے لگی۔ ادھر مقبوضہ کشمیر پون صدی سے پنجہ ٔاستبداد میں ہے۔ امت مسلمہ کو ان دکھوں سے نجات پانے کیلئے فلسفۂ کربلا سے کسبِ فیض کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور قیام امن کی راہ ہموار کرکے ملکِ عزیز پاکستان نے ایک قابلِ فخر مثال قائم کر دی ہے کہ فی زمانہ مظلوم مسلم برادر ممالک کے مفادات کے تحفظ کی کیا ممکن صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسلم ممالک عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ اور مالی و عسکری قوت کے حامل ہیں مگر باہمی رنجشوں اور تفرقات نے اغیار کا کام آسان کیا۔ہمیں ایک منہج پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں