
سفارتی و عسکری کامیابیوں کے باوجود جب بیرونی سرمایہ کاری کی جب بات آتی ہے تو تصویر مکمل طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار جب پاکستان آتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے سامنا بیوروکریسی کے جال کا کرنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کار سرخ فیتے کی بھول بھلیوں میں ایسا پھنستے ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں۔
”اجازت ناموں“ کا لامتناہی سلسلہ، مثلاً ایک فیکٹری لگانے کے لیئے لینڈ الاٹمنٹ، پاور کنکشن، ٹیکس ایگزمپشن یا انوائس کلیئرنس کے لیے درجنوں محکموں سے NOC درکار ہوتے ہیں۔ ہر فائل مختلف میزوں اور دفتروں میں پڑی رہتی ہے، ہر افسر اپنا ''حصہ'' مانگتا نظر آتا ہے اور پھر اوپر سے آئے روزبدلتی ہوئی پالیسیاں اور عدم استحکام یعنی آج ایک پالیسی تو کل دوسری ہو گی۔ نئے آنے والے سرمایہ کار کو پتہ نہیں چلتا کہ اگلے سال اس کے پروجیکٹ پر کون سا ٹیکس لگے گا یا کون سی سبسڈی ختم ہو جائے گی۔
ملک ریاض ٹھیک کہتا تھا کہ یہاں اپنی رکی ہوئی فائل کو نوٹوں کے پہئے لگانے پڑتے ہیں۔جی ہاں نظام ہی ایسا ہے کہ بغیر ''تیل'' کے یہاں ٹائر نہیں چلتے۔ سرمایہ کار کو بار بار مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے اس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور یوں لاگت بڑھ جاتی ہے لیکن وہ شریف آدمی اپنی فائلوں کو ٹائر لگانے کے فن سے نا آشنا ہو تا ہے۔
اگر وفاقی سطح پر کچھ آسانی ہو بھی جائے تو صوبائی محکمے مثلاً ریونیو، انڈسٹریز، ایکسائز اور مخکمہ لیبر وغیرہ الگ سے تنگ کرتے ہیں۔نتیجہ سرمایہ کاروں کی مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے اور بیرونی کمپنیاں یا افراد جو ابتدائی طور پر دلچسپی دکھاتے تھے، یہاں سے واپسی کی راہ لیتے ہیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ اب تو ملکی سرمایہ کار بھی ہجرت کر رہے ہیں، بجائے یہ کہ بیرونِ ملک سے پیسہ آئے، اندرونِ ملک کا سرمایہ بھی بیرونِ ملک بھاگ رہا ہے۔ اسی باعث یعنی سرمایہ کاری نہ آنے سے انڈسٹریل زونز خالی پڑے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان مایوس ہو رہے ہیں لیکن حکومت اور متعلقہ ادارے چاٹے کی لسی پی کر لیٹے ہوئے ہیں۔
پاکستان جیسے کو ملک کو ایک سرمایہ کاری دوست ماحول کی ضرورت ہے۔ تمام”اجازت ناموں“ کو آن لائن سنگل ونڈو سسٹم میں لا کر اور وقت کو 30 دن سے کم کرنا چاہیے اورسرمایہ کار کے منظور شدہ پروجیکٹ کو کم از کم پانچ سال تک بدلتی حکومتی پالیسیوں یا تبدیلی سے محفوظ رکھنا اور تاخیری حربوں کی گنجائش کو ختم کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں خصوصی اقتصادی زونز کو حقیقی معنوں میں ''بیوروکریسی فری'' بنانا ہو گا۔
یاد رہے کہ پاکستان سنگل ونڈو (PSW) پاکستان کی ٹریڈ فیسیلیٹیشن اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کی بہتری کے لیے ایک اہم ڈیجیٹل اقدام تھا۔ یہ 2021 کے پاکستان سنگل ونڈو ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا اور جون 2022 میں طور پر لانچ ہوا۔ بنیادی مقصد تمام درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ سے متعلق دستاویزات اور منظوریوں کو ایک ہی آن لائن پلیٹ فارم پر لانا تھا تاکہ کاغذی کارروائی، متعدد محکموں کے چکر اور تاخیر ختم ہو لیکن جب ملک میں سرمایہ کار دوست ماحول ہی نہ دستیاب ہو اور پالیسیوں میں ہی عدم استحکام ہو تو ایسے”پاکستان سنگل ونڈو“سسٹم کی اہمیت صفر رہ جاتی ہے اور ایسا ہی ہوا۔
سفارتی اور عسکری کامیابیاں یقینا قومی وقار بڑھاتی ہیں، مگر عوام کی خوشحالی، روزگار اور ترقی”معاشی استحکام“ سے ہی ممکن ہے۔ جب تک بیوروکریسی کا طلسم ٹوٹ نہیں جاتا، پاکستان اپنے حقیقی معاشی پوٹینشل کو حاصل نہیں کر سکے گا تا کہ سرمایہ کار یہاں آ کر توبہ نہ کریں بلکہ اچھے استقبال کا احساس کریں۔یہی اس وقت اس ملک کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واپس کریں