دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
30 ارکان کا بائیکاٹ ؛ کیا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات کی خبریں درست ثابت ہو گئیں؟
No image رپورٹ خالد خان ۔گزشتہ کئی روز سے خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور متعدد اراکین اسمبلی کی ناراضگی کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں۔ ان اطلاعات کی متعدد حلقوں کی جانب سے تردید بھی کی گئی اور بعض سرکاری ترجمانوں بلکہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے خود انہیں محض افواہیں اور پروپیگنڈا قرار دیا۔
تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے آج کے اجلاس نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اگر ذرائع کے مطابق تقریباً 30 اراکین اسمبلی نے واقعی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے تو یہ محض ایک معمولی سیاسی واقعہ نہیں بلکہ حکمران جماعت کے اندر موجود بے چینی اور اختلافات کا واضح اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی حکومتی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے اتنی بڑی تعداد میں اراکین کی غیر موجودگی ایک اہم سیاسی پیغام تصور کی جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبے میں کابینہ توسیع، ترقیاتی فنڈز، انتظامی فیصلوں اور حکومتی کارکردگی سے متعلق مختلف نوعیت کے تحفظات پہلے ہی زیر بحث ہوں۔
یہ بھی قابل توجہ ہے کہ اجلاس سے قبل وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی جانب سے بعض ناراض اراکین سے رابطوں اور ملاقاتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ شب وزیراعلیٰ نے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ پر بھی ان سے ملاقات کی۔ اگر پارٹی کے اندر کسی قسم کی ناراضگی موجود نہیں تھی تو پھر ایسے رابطوں اور سیاسی کوششوں کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
آج کے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا اور مخالفین کے دعوؤں کو مسترد کیا، تاہم سیاسی حقائق کا تعین بیانات سے نہیں بلکہ عملی صورتحال سے ہوتا ہے۔ اگر واقعی 30 کے قریب اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کے اندر بعض معاملات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں جنہیں صرف پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس تمام صورتحال نے کم از کم یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ گزشتہ دنوں سامنے آنے والی اختلافات اور ناراضگی کی اطلاعات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں تھیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا پارٹی قیادت ان اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہوگی یا یہ ناراضگی مستقبل میں ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرے گی۔
واپس کریں