دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سکیورٹی، میڈیا اور ریاستی رٹ کا سنگین بحران
No image پشاور(خالد خان) خیبر پختونخوا خصوصاً اس کے جنوبی اضلاع بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرم اس وقت ایک ایسے سکیورٹی ماحول سے گزر رہے ہیں جہاں ریاستی عملداری، مسلح غیر ریاستی گروہ اور اطلاعاتی کنٹرول ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اس پیچیدہ سکیورٹی ڈھانچے کا تسلسل ہے جو 2004 کے بعد شدت پسندی، عسکری کارروائیوں، آپریشنز اور وقفے وقفے سے عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے۔
ان علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑے، حافظ گل بہادر گروپ اور دیگر مقامی و سرحدی نیٹ ورکس طویل عرصے سے اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہی گروہ وقتاً فوقتاً بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کو متاثر کرتے رہے ہیں، جس کے باعث ریاستی اداروں کی عملداری محدود اور چیلنجنگ رہی ہے۔
افغانستان سے طویل اور غیر محفوظ سرحد، دشوار گزار پہاڑی خطہ، اور بعض علاقوں میں ریاستی اداروں کی وقفے وقفے سے موجودگی نے ایک ایسا سکیورٹی خلا پیدا کیا ہے جس میں مختلف مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور اثر و رسوخ برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی خیبر پختونخوا کو ملک کے سب سے زیادہ حساس سکیورٹی زونز میں شمار کیا جاتا ہے۔
حالیہ عرصے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی ہے۔ مختلف علاقوں میں جھڑپیں، سکیورٹی آپریشنز، اور سرحدی تناؤ نے پہلے سے موجود غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی ماحول میں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ صحافتی حلقے بھی غیر معمولی دباؤ میں کام کر رہے ہیں، جہاں رپورٹنگ، معلومات تک رسائی اور ذاتی تحفظ ایک ساتھ سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
اسی تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’کے ٹی وی نیوز‘ کے چیف ایڈیٹر خالد نور کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنی حراست کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں مجاہدین/طالبان کی جانب سے حراست میں لیا گیا۔ وہ اپنی سابقہ صحافتی سرگرمیوں پر معذرت کرتے ہیں اور واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ وہ اپنی تمام سوشل میڈیا سرگرمیاں بند کر رہے ہیں۔
اسی ویڈیو میں وہ دیگر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ ایسی رپورٹنگ سے گریز کریں جو مسلح گروہوں یا بااثر فریقین کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کا باعث بنے۔ یہ بیان خطے میں صحافت کی آزادی اور اس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اسی دوران بنوں سے آٹھ صحافیوں کی مبینہ حراست کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جس نے صحافتی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنوبی اضلاع میں صحافت نہ صرف خطرناک حالات میں ہو رہی ہے بلکہ بعض علاقوں میں یہ سرگرمی شدید دباؤ اور غیر رسمی کنٹرول کے ماحول میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ پورا منظرنامہ ایک وسیع تر سکیورٹی اور ریاستی بحران کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تین بڑے عوامل ایک ساتھ کام کر رہے ہیں: تحریک طالبان پاکستان اور حافظ گل بہادر گروپ سمیت مختلف مسلح نیٹ ورکس کا اثر، ریاستی اداروں کی محدود یا چیلنجنگ عملداری، اور معلوماتی بیانیے پر بڑھتا ہوا دباؤ۔
ان عوامل کے امتزاج نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں صحافت محض پیشہ نہیں رہی بلکہ ایک خطرناک اور مسلسل دباؤ والی سرگرمی بن چکی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی میڈیا کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے میں اطلاعاتی خلا کو بھی مزید گہرا کر دیا ہے۔
اگر اس پورے بحران کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ان اضلاع میں پائیدار امن، مؤثر ریاستی رٹ اور آزاد صحافت ایک ساتھ برقرار رہ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل دباؤ اور تصادم میں دکھائی دیتے ہیں۔
واپس کریں