دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سورڈ آف آنر سے کمانڈر 11 کور تک: لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری کا قابلِ ذکر عسکری سفر
No image (خصوصی رپورٹ۔ خالد خان) پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ روایات میں بعض افسران اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، قائدانہ اوصاف اور خدمات کی بدولت نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری بھی ان عسکری افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے نظام میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری کا تعلق ایک فوجی روایات رکھنے والے خاندان سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی، جو پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا اور 84ویں پی ایم اے لانگ کورس سے نمایاں کارکردگی کے ساتھ گریجویشن کی۔
ان کے عسکری کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل "سورڈ آف آنر" کا حصول ہے۔ یہ اعزاز پاکستان ملٹری اکیڈمی کا سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے، جو بہترین مجموعی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹ کو دیا جاتا ہے۔ سورڈ آف آنر حاصل کرنا کسی بھی نوجوان فوجی افسر کے لیے غیر معمولی اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔
سن 1991 میں انہوں نے 22 بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور عملی عسکری زندگی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ان کا کیریئر مختلف آپریشنل، کمانڈ اور سٹاف تقرریوں سے عبارت رہا، جنہوں نے انہیں پاکستان آرمی کے تجربہ کار اور پیشہ ور افسران کی صف میں لا کھڑا کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری نے لائن آف کنٹرول پر 333 انفنٹری بریگیڈ کی کمان کی، جہاں انہیں حساس آپریشنل ماحول میں ذمہ داریاں نبھانے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ وہ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز کے اہم عہدے پر بھی فائز رہے، جہاں ملکی دفاع اور عسکری آپریشنز سے متعلق منصوبہ بندی اور رابطہ کاری ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔
ان کی نمایاں تقرریوں میں سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات بھی شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے سندھ خصوصاً کراچی میں امن و امان اور سیکیورٹی سے متعلق امور کی نگرانی کی۔ بعد ازاں انہیں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا کمانڈنٹ مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے مستقبل کے فوجی افسران کی تربیت اور پیشہ ورانہ نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔
17 مئی 2024 کو لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری نے پشاور میں 11 کور کی کمان سنبھالی۔ 11 کور پاکستان آرمی کی اہم ترین فارمیشنز میں شمار ہوتی ہے، جو خیبرپختونخوا، ضم شدہ قبائلی اضلاع اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔ یہ خطہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری قومی کوششوں کا مرکز رہا ہے۔
ان کی کمان کے دوران دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، سرحدی نگرانی اور امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان، خیبر اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں نے شدت پسند عناصر کے خلاف ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
عسکری حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری کو ایک پیشہ ور، متوازن اور تجربہ کار انفنٹری افسر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے کیریئر کا بڑا حصہ میدانِ عمل، آپریشنل کمانڈ، عسکری منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی قیادت سے وابستہ رہا ہے۔
سورڈ آف آنر حاصل کرنے والے ایک نوجوان کیڈٹ سے لے کر پاکستان آرمی کی اہم ترین کورز میں سے ایک، 11 کور، کی کمان تک کا سفر ان کی پیشہ ورانہ محنت، عسکری مہارت اور طویل خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج پاکستان آرمی کے ان سینئر افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مختلف سطحوں پر قومی سلامتی کے لیے اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
واپس کریں