دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
معاشی زوال اور راہِ نجات
No image بدقسمتی سے ہمارے تجربہ کاروں اور عالمی ثالثوں نے پورا زور لگا کر اپنے ملکی حالات ہی ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری تو درکنار ملک کے اندر کا لوکل سرمایہ کار بھی گھبرایا ہوا ہے۔اب کاروبارِ حکومت اور زبوں حال معیشت کو چلانے کے لیئے ٹورزم یعنی سیاحت ہی کا ایک واحد شعبہ بچا ہے جس پر حقیقی معنوں میں سنجیدہ ہو کر اور محنت کر کے قومی معیشت کو سہارا دیا جا جا سکتا ہے، جس سے یقینا بے روزگاری بھی کم ہو گی اور باہر سے پیسہ بھی سسٹم میں آئے گا۔ اس حوالے سے کوئی حکومتی لمبے چوڑے خرچے کی ضرورت نہیں ہو گی، شمالی علاقاجات اور ملک کے دیگر میدانی سیاحتی مقامات پر اچھی سڑکیں بنا دیں،تیز انٹر نیٹ سروس مہیا کر دیں،سیاحوں کے تحفظ کا بندوبست کر دیں،نجی گیسٹ ہاوس اور ہوٹل مالکان کو سیاحوں کو لوٹنے سے منع کریں اور پاکستانی سیاحت کے حوالے سے اچھی مارکیٹنگ کریں،اس ضمن میں بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو مفت میں بیٹھ کر روٹیاں توڑ رہے ہیں۔
اب اہم سوال ہے کہ پاکستان صرف سیاحت کی شعبے میں ترقی کر کے سالانہ کتنا کما سکتا ہے؟
ہمارے تجربہ کار اور معاشی سائنس دان جو کہ محض2 ارب ڈالرز کے قرضہ کے لیئے بھی آئی ایم ایف کے آگے ایڑیاں رگڑتے ہیں جبکہ پاکستان سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر ترقی دے کر سالانہ تیس سے40 ارب ڈالرز (تقریباً 8.3 سے 11 ٹریلین پاکستانی روپے) کما سکتا ہے جو بڑی رقم ہے اور یہ خود ہماری حکومتوں کا تخمینہ ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں سیاحت کی آمدنی، تقریباً صرف چار سے پانچ ارب ڈالز یعنی تقریباً 1.1-1.2 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2029 تک صرف ساڑھے پانچ ارب تک ہی بڑھ سکتی ہے، جو کہ نا ہونے کے برابر ہو گی۔
ٹریول اینڈ ٹورزم کا مجموعی معاشی حصہ (ڈائریکٹ + انڈائریکٹ) GDP کا 5-6% کے قریب ہے، جو کئی ارب ڈالرز کا حصہ بنتا ہے (بشمول ملکی سیاحت)۔
سیاحت کے حوالے سے مالدیپ،بہاماس،اینٹیگوا اینڈ باربوڈا،فجی،موناکو،مالٹا،بھوٹان، تھائی لینڈ، ترکی اور دیگر کئی چھوٹے ممالک جو پہلے ترقی پذیر تھے اور اب ترقی یافتہ ہیں، نے اپنے انفراسٹرکچر اور مارکیٹنگ سے ایسا ہی اضافہ کیا ہے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے کئی تگڑے بڑے ممالک بھی ہیں جن کی معیشت کا مکمل انحصار ہی ملکی سیاحت پر ہے۔ایسے ممالک ہمارے تجربہ کاروں کے لیئے مشعل راہ ہو سکتے ہیں۔
ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی لیڈران جتنی محنت اور مشقت عالمی ساہو کار آئی ایم ایف سے قرضوں کی بھیک مانگنے پر کرتے ہیں،اگر اس سے آدھی محنت بھی اپنے ملک کے شعبہِ سیاحت پر صرف کر دیں تو آئی ایم ایف کا کشکول توڑ کر پھینکا جا سکتا ہے اور غیر ملکی قرضے بھی ختم ہو سکتے ہیں لیکن ایسا ہو گا نہیں کیونکہ پھر عالمی ساہو کار آئی ایم ایف کو سود کی کمائی کیسے حاصل ہو گی اور پاکستان کو معاشی طور پر اپاہج کرنے کا عالمی اور بلخصوص بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈا کیسے پورا ہو گا؟بحرحال ملکی معیشت کو مذید ڈوبنے سے بچانے کے لیئے، سیاحت کو فروغ دینے کی حکومتی کوشش میں کیا حرج ہے۔
واپس کریں