دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
معاشی طاقت ہی اصل اسٹریٹجک ڈیپتھ ہے
No image محترم جنابِ حبیب اکرم نے بجا فرمایا ہے کہ”آپ دنیا بھر کی فتوحات حاصل کرلیں (لیکن) اگر آپ کی اکانومی ٹھیک نہیں ہے توآپ کا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے“ امر واقع یہی ہے کہ معاشی طاقت ہی سلطنتوں کی اصل بنیاد اور مستقبل ہے جبکہ فوجی طاقت عارضی ہے اور یہی تاریخ کا بڑا سبق ہے۔
ایک مضبوط معیشت نہ صرف فتوحات کو برقرار رکھتی ہے بلکہ انہیں پائیدار بناتی ہے۔تاریخی مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
رومن سلطنت: رومیوں نے یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان کی فوجی مشینری ناقابلِ شکست تھی مگر جب معاشی زوال آیابے حد ٹیکس، کرنسی کی قدر میں کمی، تجارت کا زوال اور پیداواری صلاحیت کا گرنا ہواتو سلطنت اندر سے کھوکھلی ہو گئی۔ بیرونی حملہ آوروں (باربیرینز) نے اس ریاست کو ختم کیا جو اندر سے پہلے ہی مر چکی تھی۔
منگول سلطنت: تاریخ کی سب سے بڑی مسلسل سلطنت۔ چنگیز خان اور اس کے جانشینوں نے ایشیا اور یورپ کے بڑے حصے فتح کر لیے۔ مگر جب معاشی انتظام ٹھیک نہ رہا، علاقائی بغاوتیں بڑھیں اور تجارت کی راہیں بند ہوئیں تو سلطنت چند نسلوں میں ہی ٹوٹ گئی۔
عثمانی سلطنت: ''یورپ کا بیمار آدمی'' کہلانے لگی جب اس کی معیشت زرعی اور قبائلی ڈھانچے پر منحصر رہ گئی جبکہ یورپ صنعتی انقلاب سے گزر رہا تھا۔ فوجی فتوحات کے باوجود معاشی پسماندگی نے اسے کمزور کر دیا۔
اس کے برعکس برطانیہ نے 18ویں اور 19ویں صدی میں صنعتی انقلاب کے ذریعے معاشی برتری حاصل کی، جس کی بدولت اس کی فوجی طاقت دنیا بھر میں پھیل گئی۔ فوجی طاقت معیشت سے پیدا ہوئی تھی۔
سوویت یونین: دنیا کی دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت تھی۔ مگر منصوبہ بند معیشت (پلانڈ اکانومی) کی ناکامی، کرپشن، اور پیداواری کمزوری نے اسے ختم کر دیا۔ 1991 میں فوجی طور پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا، معاشی دیوالیہ پن نے سلطنت توڑ دی۔
شمالی کوریا بمقابلہ جنوبی کوریا: ایک ہی قوم، ایک ہی زبان، ایک ہی تاریخ۔ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار اور بڑی فوج ہے، مگر معیشت تباہ حال ہے۔ جنوبی کوریا نے معیشت پر توجہ دی تو آج وہ عالمی معاشی طاقت ہے اور فوجی طور پر بھی مضبوط ہے۔
چین کا عروج: 1978 کے بعد ڈنگ شیاو پنگ نے معاشی اصلاحات کیں۔ نتیجہ، چین آج دنیا کی فیکٹری بن گیا، اربوں ڈالر کی فوجی جدید کاری ممکن ہوئی، اور عالمی اثر و رسوخ بڑھا۔ فوجی طاقت معاشی ترقی کا نتیجہ تھی۔
معیشت کیوں سب سے اہم ہے؟ جدید فوج مہنگی ہوتی ہے،تربیت، ہتھیار، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کمزور معیشت یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔ سعودی عرب جیسے ممالک پیٹرو ڈالر کی بدولت فوج خریدتے ہیں، مگر تنوع نہ ہونے کی وجہ سے خطرات لاحق رہتے ہیں۔
تکنیکی برتری: جدید جنگیں معاشی اور تکنیکی برتری پر منحصر ہیں۔ AI، سائبر، ڈرونز، اور سپلائی چین،سب معیشت پر منحصر ہیں۔
عوامی حمایت: جب معیشت اچھی ہوتی ہے تو لوگ حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت فوجی طاقت کو بھی اندر سے کھا جاتی ہے۔
معاشی کامیابی ثقافت، برانڈز، اور عالمی اثر پیدا کرتی ہے۔ امریکہ کا ہالی ووڈ، ایپل، اور ڈالر کی طاقت اس کی فوجی طاقت سے کم نہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، جغرافیائی طور پر ہماری پوزیشن حساس ہے، فوجی چیلنجز موجود ہیں، مگر طویل مدتی بقا اور ترقی معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔ دفاعی بجٹ ضروری ہے، مگر یہ صرف اسی صورت میں پائیدار ہو سکتا ہے جب مجموعی معیشت بڑھ رہی ہو۔ برآمدات، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمائے پر توجہ کے بغیر کوئی فوجی یا سیاسی فتح مستقل نہیں رہ سکتی۔
فتوحات تلوار سے ہوتی ہیں، مگر سلطنتوں کا قیام اور بقا قلم، فیکٹری، فارم اور مارکیٹ سے ہوتا ہے۔ جو قوم معیشت کو نظرانداز کرتی ہے، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں چلی جاتی ہے،چاہے اس نے کتنی ہی جنگیں جیت لی ہوں۔معاشی طاقت ہی اصل اسٹریٹجک ڈیپتھ ہے۔
واپس کریں