
پاکستان کا educational architecture کچھ اس طرح design کیا گیا جہاں پاکستان کے key institutions مثلا پارلیمنٹ ، عدلیہ ، انتظامیہ اور corporate institutions کے top layer کے لیے مخصوص educational institutions اور system بناۓ گیے وہ ایک فیصد طبقہ جو ان اداروں سے نکل کر ملک کو lead کرے گا باقی نونانوے فیصد عوام کے بچوں کے لیے low level تعلیمی نظام رکھ کر کلرک بنایا جاتا ہے جو انگریز کے فرسودہ نظام کو صرف سہارا دے سکتے ہیں اور آج بھی ملک کی lower class کے ڈھائی کروڑ بچے out of school ہیں ۔
فکری انتشار پیدا کرنے کے لیے سات بورڈ مذھب کے نام پر بنا کر ان کو آپس میں فروعی مسائل پر لڑایا جاتا ہے ، کھمبیوں کی طرح ہر گلی میں اگنے والے پرائیویٹ سکولوں کے مختلف سلیبس اور گورنمنٹ سکولوں میں نقل کو پروموٹ کرنا اک شعوری قتل ہے جو اچھے غلام تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن نظام کی تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
لارڈ میکالے نے یہ تعلیمی نظام 1835 میں غلام ریاست کے لیے بنایا تھا جس میں تعلیمی نظام کا مقصد واضح کیا تھا
We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern; a class of persons, Indian in blood and colour, but English in taste, in opinions, in morals, and in intellect.
ہمیں اس وقت اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایک ایسے طبقے کو تشکیل دیں جو ہمارے اور ان کروڑوں لوگوں کے درمیان مترجم بن سکے جن پر ہم حکومت کرتے ہیں؛ ایسا طبقہ جو خون اور رنگ کے لحاظ سے ہندوستانی ہو، مگر ذوق، خیالات، اخلاق اور عقل کے اعتبار سے انگریزی ہو۔
پاکستانی ایلیٹ ایچی سن ، گرامر سکول کراچی اور روٹس وغیرہ میں تیار ہوتی ہے جو غریب عوام کے مفادات کو پس پشت ڈال کر اپنے آقا کے مفادات کے لیے پچھلے 77 سالوں سے کام کر رہی ہے یہ ایلیٹ اپنی پولیٹیکل کمپنیاں / جماعتیں بنا کر باری بدلتی رہتی ہیں اور ہم پولیٹکل پارٹیوں میں الجھ کر ایک دوسرے کو لعن تعن کرتے رہے ہیں حالانکہ ان سب جماعتوں کا مفاد مشترک ہے کہ کیسے اپنے فرسودہ نظام کی حفاظت کی جاۓ ۔ آج ملک کے تعلیمی ، معاشی ، سیاسی نظام کا شعور حاصل کرنا ہو گا تب ہی ہم ایک فیصد parasites سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔
بشکریہ بادشاہ عادل
واپس کریں